زندگی ‏کے رنگ ‏ ‏قسط ‏٥٦


امی میں جارہا ہوں نکاح ہونے والا ہے ، آپ اثیر کو اپنے پاس بلوا لیں گئیں یا پھر میں ہی ساتھ لے چلو ؟ مجھے دے جاؤ وہ یہاں بیٹھ جائے گا تم فکر نہ کرو عاصمہ نے ا شہر کو دھیرے سے سمجھایا اوکے
چلو بیٹے آپ دادا کے پاس بیٹھ جائیے وہ اثیر کو اسٹچ کے نیچے کھڑے ہوکر آواز دینے لگے ،
سارہ نے ہاتھ اٹھاکر سلام کیا ، وہ مسکراتے ہوئے جواب دینے لگے ، اور بچے کو لے کر عاصمہ کے ہاں چھوڑ دیا 
محمد ا شہر احمد فرزندمحمد مظفر احمد کا نکاح ساره ناز دختر نیک اختر جناب معز الدین صاحب سے ایک لاکھ سکہ رائج الوقت بطور مہر طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے آپ نام غلط پڑھ رہے ہیں انکل وہ پریشان ہوتی ہوئی کہنے لگی . نہیں ساره میں نے بالکل صحیح پڑھا ہے ، مجاہد عرشیہ کے شوہر نے جواب دیا ، یہ کیا مذاق ہے ؟ آپ ثقلین رضا نام پڑھیے ! مگر ساره ثقلین رضا نے خود یہ نام لکھوایا ہے . کیوں ؟ آخر کیوں کیا یہ سب ؟ میں پوچھتی ہوں ان کا کیا اختیار ہے میری زندگی پر ؟ ان سب کا جواب تمھیں روبینہ آنٹی دیں گئیں . روبینہ آنٹی وہ روتی ہوئی گھونگھٹ اٹھاکر اوپر دیکھنے لگی ، آنٹی آپ ؟ .. جی بیٹی وہ بھی رورہی تھی یہ تم خود پڑھ لو بیٹی میری ہما کی ڈائری وہ ساره کے آگے بڑھاتی ہوئی کہنے لگی ، اس میں کیا ہے ؟ وہ اپنے مہندی لگے سرخ اور سبک کا نپتے ہاتھوں سے . ڈائری پڑھنے لگی اور آنسوؤں کی لڑی اس کے گلابی رخساروں پر تیز تیز بہے جارہی تھی .
پیارے اشہر اسلام عليكم . مجھے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ میرا وقت دنیا میں زیادہ نہیں ہے ، پتہ نہیں ہر روز مجھ میں کیوں یہ احساس جاگ رہا ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ نا انصافی کی ہے ، احمر کی موت سے تو میں ٹوٹ چکی تھی لیکن میرے اپنوں کی زندگیوں کا سوال میرے سامنے تھا جس کی بدولت میں نے آپ سے رشتہ ازواج کو قبول کرلیا ، خیر وقت کا تقاضا ہے یا ہماری قسمت جو بھی ہو ، آپ نے بھی تو سمجھوتہ کیا ہے حالات سے
پر اشہر میں نے آپ سے شادی کرنے کے بعد کبھی احمر کا خیال دل میں نہیں لايا ،
ساره آپ کو بہت چاہتی ہے یہ میں نے محسوس کیا ہے ، شائد آپ بھی ؟ ... میں یہ تو نہیں کہہ سکتی اشہر کیونکہ کبھی آپ نے میرے ساتھ بے رخی نہیں برتی ، آپ اور ساره ایک دوسرے کو بہت چاہتے ہیں مگر دونوں اپنی اپنی جگہ خاموش ہیں ، اور یہی خیال ذہن میں گردش کرتا ہوا خواب بن کر آنکھوں میں آنے لگا اور آپ دونوں کی جوڑی ہمیشہ سے میرے بچوں کو لیے ہوئے دیکھائ دینے لگی .
اس تحریر کو میری خواہش سمجھو یا وصیت ...
  ساره سے نکاح کرکے میرے بچوں کو بھی ایک نیک اور ہمدرد ماں عطا کردو پلیز آپ دونوں یک ہو جائیں گے تو میری روح کو سکون ملے گا .
  آپ کی اپنی ہما ...
 ہما بھابھی وہ پھوٹ پھوٹ کر رورہی تھی ، چند منٹوں میں وہاں ردا ، عاصمہ ، آسیہ اور عرشیہ سب اکٹھا ہو چکے تھے ،
مجھے ثقلین رضا سے بات کرنی ہے ابھی وہ کال کرنے لگی ،
ہیلو ! جی بولیے آپ نے یہ اچھا نہیں کیاثقلین ، مجھے اس طرح سے بھری دعوت میں رسوا کرکے آپ کو کیا حاصل ہوگا بتائیے؟ میں نے تو آپ کو بہت بلند مقام عطا کیا تھا میرے دل میں ، مگر آپ نے مجھے پاتال میں پھینک دیا اس طرح سے سب کے سامنے مجھے بے عزت کر کے آپ نے اپنا وقار کھو دیا  ، ایسا کیوں کیا . ؟ آخر کیوں ؟ جواب دیں !
سارہ یہ میں نے نہیں روبینہ آنٹی نے کہا ہے انھوں نے  ڈائری لاکر مجھے بتائی ، فیصلہ تو لینا ضروری ہے نا ساره ، اگر آپ چاہیں تو ابھی بھی وقت ہے وہاں نام تبدیل کروا دوں گا . بتائیے راضی ہیں آپ؟ ... ہیلو ہیلو ! جی جی میں نے جواب طلب کیا ہے .
 دیکھئے ساره آپ کے ایک فیصلے سے چھ زندگیوں پر اثر پڑنے والا ہے ، اشہر ، تین بچے ، میں اور آپ .. اب جو بھی فیصلے لیں ذرا سوچ سمجھ کر لیں ،
میری زندگی کا بھروسہ نہیں ہے ، اشہر آپ کے لۓ ایک مضبوط حصار ہے اور انہیں آپ کی ضرورت ہے ، تو کیا میں کسی کی ضرورت پوری کرنے والی مشن ہوں ؟ وہ غصہ سے چیخ کر کہنے لگی وہ مجھے نہیں چاہتے آپ مجھے چاہتے ہیں سمجھے آپ ...
نہیں ساره وه آپ کو بہت چاہتے ہیں اظہار نہ کرسکے .. میری بات مان لو ہما کی روح کو تڑپانا بھی ٹھیک نہیں ہے ساره پلیز میں خود آپ دونوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں ، ساره میری گزارش ہے التجا ہے مان جاؤ ....
وہ فون کو پھینک تی ہوئی زار و قطار رونے لگی .

  ***************************************
ارے میری بچی کیا ہوا ، دلہن گرگئی بے ہوش ہوگئ ہے سب جمع ہونے لگے ، ا شہر نے ہما کی ڈائری کو راز میں رکھنے کو کہا تھا روبینہ آنٹی نے اسے پہلے ہی بتا دیا تھا جب ساره کی شادی کے کارڈز چھپنے والے تھے ، کیونکہ وہ ساره کو اپنی زندگی کے مسائل اور بچوں کی ذمہ داری سے دور رکھنا چاہ رہے تھے ، وہ کنواری دلہن تھی اور یہ تین بچوں کے باپ ..... یہ ناممکن تھا لیکن روبینہ انٹی نے اپنی بیٹی کی وصیت کو سرے عام لاکر اچھا نہیں کیا ،
وه دوڑ کر اندر آئے کیا ہوا؟ عاصمہ نے بیٹے کو ساری تفصیلات بتادی۔
بیٹا اسے ہوش نہیں آرہا ہے ڈاکٹر کو بلا لاؤ جی ٹھیک ہے ۔ رکو ذرا نبض پکڑ کر ديكھو تو سہی عاصمہ نے اشاره کیا 
ا شہر نے ساره کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور آواز دینے لگے ، ساره .. ساره
وه آنکھیں کھول کر ا شہر کو دیکھنے لگی 
دونوں کی نظریں ملیں وہ آنکھوں سے کہہ رہے تھے میری جان ہے تو پگلی ، ہما نے مجھے اپنا پیار اپنانے کی اجازت دی ہے ، اب تو بھی راضی ہو جا، مان جا فلا سفر ...
وه پلکیں جھکائے مسکراتی اشہر کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے لگی ۔
پھر کیا تھا ہر طرف شادیانے بجنے لگے خوشی کے گیتہر زبان گنگنانے لگی ۔
 میری زندگی کا آج سے ایک نیا رنگ ہوگا ساره وہ سرگوشی کرنے لگے ، اور میرا بھی 
یہی ہے ہماری زندگی کے رنگ وہ دونوں تین بچوں کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے کہنے لگے 
ردا دوڑکر آئی مسز ز ا شہر آپ کو میں بھابھی کہہ سکتی ہوں اجازت ہے 
وہ ردا کے گلے لگ کر مسکرادی 
اشہر احمد کا نکاح ساره ناز سے طے پایا ہے قبول ہے ؟ ثقلین نے قریب آکر دونوں کو مخاطب کیا ..
ساره  نے شرماتے ہوئے قبول ہے کہہ دیا۔
 دیکھا ساره مقدر بدلتے دیر نہیں لگتی ، وہ کن فیکون ہے ، اشہر  دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا گو ہوگئے 
     
       ختم شد****

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]