زندگی ‏کے رنگ ‏ ‏قسط ‏٥٣


ہیلو!ہیلو کون بول رہے ہیں ہاں ہیلو آپ ! جی بات کر یے، کون ہیں آپ کون ہیں بات کیوں نہیں کررہی ہیں .
ہاں ہاں میں عاصمہ آپا بات کررہی ہوں آپ ثقلین رضا ! جی جی اسلام عليكم آ پا بولیے سب خیریت ؟ ہاں سب خیریت سے ہیں مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی آپ سے ، جی جی حکم کیجیے آپا ، نہیں پہلے آپ وعده کریں کہ یہ راز رہے گا اور مجھے نا اميد نہیں کروگے ، میں کچھ سمجھا نہیں آپ تفصیل تو بتائیے آپا! ثقلین رضا کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا آخر بات کیا ہے وہ کشمکش میں مبتلا ہوگئے یہ عاصمہ آپا کس بات کا راز رکھنے کی بات کررہی ہیں ، ہیلو جی جی آپا کیا ہوا بھائی ؟ جی ! آپ بالکل بے فکر رہیں میں کسی کے سامنے راز فاش نہیں کروں گا یہ میرا وعده ہے اور میری دوسری شرط ؟ وہ کیا یہی کہ میری بات کو ہاں میں جواب دینا ہے ؛ مگر آ پا پہلے بات کیا ہے بتائیے تو سہی نہیں ثقلین پہلے رضامند ہو جائیے پھر بتا دوں گی ، وہ ہنسنے لگے آپا آپ بھی چلیے آپ کی بات کے مخالف نہیں جاوں گا اب آپ سکون سے بات کرسکتی ہیں .
         ********************************
میں بہت پریشان ہوں ثقلین ، اب آپ اسے وقت کی گردش سمجھو یا خدا کی آزمائش ہی سمجھو یا پھر حالات قابو میں نہیں ہیں سمجھو ، جو بھی ہے بس ہر طرف سے میں نے مجبور ہو کر یہ کال کیا ہے اب آپ میری مدد کرسکتے ہیں آپ سے امید لگارکھی ہوں اور شائد اس میں الله تعالٰی کی حکمت کا راز پوشیدہ ہے شائد ، جی وہ عاصمہ کو غور سے سن رہے تھے ،
آپ ساره سے رشتہ توڑ دیں ؛ کیا ؟؟؟؟؟؟؟  ... کچھ دیر تک دونوں طرف سے آواز بند ہوگئی ،
ہاں میرے بھائی مجھ پر نہیں ان تین معصوموں کا خیال کرو ، ان پر رحم کھاؤ اور میرے اشہر کی زندگی کو سکون عطا کردو مہربانی ہوگی وہ رونے لگی ، آ پا آپ نے یہ کیا کہہ دیا ، مجھے کس کشیدگی میں مبتلا کردیا آپ نے ، آخر کار کوئی تو وجہ ہونی چاہیے اس طرح کے فیصلے کے لئے ، اور ویسے بھی میں بھلا ساره سے رشتہ کیوں کر توڑ سکتا ہوں ، میں نے خود پسند سے اسے اپنایا ہے ، آپ یہ کیسی باتیں کررہی ہیں آپا ؟ ثقلین رضا اپنے بے تحاشہ آنے والے غصہ پر قابو پاتے ہوئے کہنے لگے ۔ دیکھو تم جو بھی کہنا ہے کہو مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر میری بات اٹل ہے بس اس پر عمل کرنا لازم ہے ورنہ ... ورنہ کیا آپا ؟ بولیے ورنہ آپ کیا کریں گئیں ؟ وہ بھی اب ضد پر آگئے تھے ، کسی معصوم کو بغیر کوئی قصور اورخطا اس طرح سے داغ دار بنانا کہاں کی بڑائی اور دین داری ہے ، ہم اپنے مفاد کے لئے دوسروں کے ساتھ کچھ بھی سلوک اور برتاؤ کرسکتے ہیں کیا؟ اور ایسا کرنے سے ہماری پریشانیوں ، الجھنوں میں اور مسائل میں راحت مل پائے گی ؟ ایسا کرنے سے کیا الله تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے گا اور ہمارا ضمیر خود ہمیں کس حد تک معاف کرے گا ، پلیز آپ یہ بات چھوڑ کر دوسری ہزاروں باتیں کہیے میں کرنے کو تیار ہوں ، مگر ثقلین مجھے صرف اور صرف ساره چاہیے بس اور کچھ نہیں تم بھی بدلے میں جوچا ہو میں دینے کے لئے تیار ہوں ۔ چاہو تو میری ساری جائیداد تم اپنے نام کروالے سکتے ہو ، یا پھر بینک بیلنس بھی تمہارے اکاونٹ میں ٹرانسور کرا دوں گی ، چھی ... آپ ایسا سونچ بھی کیسے سکتی ہیں آپا! آپ مجھے خریدنا چاه رہی ہیں ؟
      **********************************
ٹھیک ہے اگر آپ راضی نہیں ہیں تو چھوڑیے میں دوسرا راستہ اختیار کرلونگی ، کوئی بات نہیں ؛ عاصمہ نے بات ختم کردی اور فون کو منقطع کر دیا ، دوسرا راستہ ؟ کونسا دوسرا راستہ ؟ثقلین کو فکر ہونے لگی ، کہیں یہ ساره کو میرے بارے میں غلط بیانی سے کا ن تو نہیں بھرے گئیں ؟ یا خدا مجھے کوئی حل بتا ورنہ میں تو لٹ جاؤں گا برباد ہو جاؤں گا اگر اس پاگل لڑکی نے عاصمہ آ پا کی باتوں کو سچ مان لیا تو ؟اس ساری مشکل کی صورتحال کا حل کچھ تو نکالنا ہی ضروری ہے، اب مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا ، یا خدا یہ کیسی مشکل گھڑی آن پڑی کچھ تو راستہ بتا میرے مولا  ،میری نیک نیتی کو قائم رکھ ،کسی مظلوم کو زمانے کے مظالم سے بچا لے ، تیرے حق میں جو صحیح ہے وہ فیصلہ صادر فرما دے ، اب کیا کیا جائے ؟وہ گمبھیر تا سے سونچ میں پڑگئے ۔
  عاصمہ نے ثقلین رضا کو تنبیہہ تو کردی لیکن وہ بھی اس معاملہ میں بے بس تھیں کیونکہ ساره کو بھٹکا نا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔ اب وہ کس راستہ یا منصوبے کو اپنائے جس سے سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی ناٹوٹے والے محاورے  کے مصداق پلان کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔
 کہاں گئے تھے بیٹے اشہر کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر عاصمہ نے ہٹکایا، جی امی وه ہما کے ہاں سے آرہا ہوں ، کیا ؟ وہ ایک لمحہ کے لئے حيران ہوگئی ، اچھا ہما کی قبر کی زیارت کرکے آرہے ہو بیٹے ، پلیز امی قبر مت کہیں مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے وہ رونے لگے ، ارے اشہر بیٹے ہمت رکھو اللہ کی مرضی کے آگے کس کا چلتا ہے وہ قادر مطلق ہے ، پر امی مجھے صبر اور چین کیوں  نہیں نصیب ہوتا بتائے پلیز میں کیا کروں ، جب کبھی ان بچوں کو دیکھتا ہوں تو کلیجہ حلق میں آجاتا  ہے کیا ہما کو زندگی جینے کا حق حاصل نہیں تھا ؟ کیا وہ رنگین زندگی کی طلبگار نہیں تھی ؟ کیا وہ اپنے بچوں کی شادیاں دیکھنے کی خواہش مند نہیں تھی ؟ اس کے اپنے سپنے نہیں تھے ؟ بس بیٹا بس کرو مجھے کچھ ہو جائے گا، میں نے بھی اس پر بہت ظلم ڈھایا ہے ، وہ میرے ہر حکم کو بلا چوں چرا مانتی گئی ، شائد وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی اور آخرت میں پکڑے گی ، مجھے معافی مانگنے کا موقع بھی نہ دیا اس نے ، عاصمہ بھی رونے لگیں ، ہاں امی ہم کسی پر بلا مرضی ظلم کیوں کرتے ہیں یہ جان کر بھی کہ یہ غلط فعل ہے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے دوسروں کا نقصان کردیتے ہیں ، اس کا انجام کیا ہوگا ، اور دنیا اور آخرت میں اس کا حساب دینا ہوگا ، اس کی پرواہ نہیں کرتے اشہر نے فکرمند انداز سے ماں کو سمجھایا ۔
         ******************************
  اشہر کی باتیں عاصمہ نے سن تو لی مگر دھیان دوسری طرف چلنے لگا " یہ اشہر نے دوسروں پر اپنی مرضی تھوپنا  ظلم ہے کہہ رہا ہے " اب میں کیا کروں کہیں ساره کے ساتھ بھی  ظلم تو نہیں  کر رہی ہوں ، اور ثقلین کے ساتھ میں بہت بڑا ظلم کررہی ہوں ، نہیں نہیں میں ایسا نہیں کرسکتی ، تو پھر میں کیا کروں یا اللہ تو ہی کوئی راستہ نکال مولا ،
کیوں نا میں اشہر کو اپنے دل کی بات بتادوں وہ من ہی من میں سونچنے لگیں . ہاں یہ ٹھیک رہے گا ،
اچھا بیٹا مجھے ایک خیال آرہا ہے کہہ دوں ؟
ہاں امی بتائے کیا بات ہے ، کیوں نا تم سارہ سے عقد ثانی کر لو ؟ کیا کیا ؟ ؟ ؟ ؟  امی آپ نے یہ بات سونچ کر پورے ہوش و حواس میں کی ہے یا پھر غیر ارادی طور پر کی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ، میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ کہہ رہی ہوں ، آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں امی کسی کی زندگی پر ہمارا اختیار کیسے چلے گا اور ویسے بھی میں تیار نہیں ہوں ، کیوں کیا ہوا ساره کو ؟ ساره کنواری لڑکی ہے اور میں تین بچوں کا باپ ، تو کیا ہوا بیٹے کم عمری میں شادی ہوئی تمھاری ورنہ ابھی تم بھی کنوارے ہی رہتے ، تمھارے پاپا کے کام ہیں جو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے عاصمہ نے شوہر کے بارے میں کہنا شروع کیا ، امی چھوڑ دیں آپ کیوں مرحوم کے بارے میں کہنے لگیں ہیں ، کچھ حاصل نہیں ، میرا مشورہ مان لو اور ساره کو اپنا لو عاصمہ بضد تھیں ، پلیز دوبارہ ایسا نہ کہیں امی اشہر نے ہاتھ کے اشارے سے ماں کو روک دیا ، ردا جو اندر کمرے میں بیٹھی ماں بیٹے کی گفتگو سن رہی تھی ، باہر آکر کہنے لگی امی ساره ہی کیوں کیا لڑکیوں کی کمی ہے ؟ ہم بھیا کے لئے اچھی لڑکی تلاش کریں گے ۔ ہاں ردا تم سچ کہہ رہی ہو ۔ 
       ********************************
  شرجیل جو ردا کے پیچھے تھے تائید کرڈالے ، آپ لوگ میری بات کو سمجھ نہیں پائے اشہر کے بچوں کو ساره سے زیادہ کوئی کیر نہیں لے سکتی عاصمہ نے صفائی بیان کی ، لیکن امی اب وہ ثقلین رضا کی امانت ہے ، یہ ہمیں خیال کرنا چاہیے ردا نے ماں کو اشارة کہا ، مجھے کوئی بتانے کی ضرورت نہی سب معلوم ہے عاصمہ نے خفگی ظاہر کی ۔
اشہر جو ان تینوں کی باتیں سن رہے تھے آخر کو اٹھ کر جانے لگے۔ کہاں چلے بیٹے عاصمہ نے پوچھ لیا ، کہیں نہیں ابھی آیا وہ باہر نکل گئے اور کار کو ہرق رفتاری سے دوڑانے لگے ،
 
اے زندگی تیری بے وفائی کارنگ دیکھا
غیر کو بنا کر اپنا ، جدا کرنے کا تماشہ دیکھا

کسی کی محبت میں اتنا بھی گم نہ ہونا
پھر جدائی  سے جینا مشکل ہو جائے گا

  میں کہاں جارہا ہوں مجھے خود پتہ نہیں ، میری منزل کہاں ہے آخر اب میرا کیا ہوگا ، وہ خیالوں میں کھوے ہوئے گاڑی ڈرئیو کررہے تھے اور ہر بار حادثہ سے بچ کر نکل رہے تھے ، یہ کیا ؟ پولیس کی گاڑی مرا پیچھا کررہی ہے وہ سائرن ڈال کر اشہر کی گاڑی کے روبرو آ کر رکی  ، جی فرمائیے ، آپ پہلے گاڑی سے نیچے اترنگے ، افسر  غصہ سے گویا ہوئے ، جی ا شہر نے ڈور اوین کر کے باہر نکل آئے ، جی بتائے ، آپ کو ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں آیا ، نہیں تو ، پولیس آفیسر نے غصہ کو کنٹرول کرتے ہوئے کہنے لگے آپ رانگ روٹ گاڑی چلا رہے تھے جناب غور فرمائیے ، افو سوری مجھے معاف کردیں یہ تو میں نے بڑی غلطی کر ڈالی اور وہ بھی 120 کی اسپیڈ سے ، افسر نے یاد دلایا جی جی بڑی غلطی ہوگئی ، چلئے گاڑی کو يو ٹرن لے کر جائیے اوکے سر ، تھینک یو ، اوکے.
    ***********************************
(جاری ہے ....) (باقی آئندہ  )(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ ) 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]