زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٥٢


آنٹی ہما بچوں کو یاد کررہی ہیں چلئے سب چلتے ہیں ا شہر نے روبینہ سے کہا ، وہ تینوں بچوں کو لے کر گاڑی میں اشہر کے ساتھ دواخانہ پہنچ گئی       ********
 کیا بات ہے بیٹی ہما کی حالت روبینہ سے دیکھی نہیں جارہی تھی ، میری بچی کو آخر ہوا کیا ہے کوئی مجھے بتادے ، یا اللہ یہ کیا آزمائش ، امتحان لے رہا ہے اس معصوم سے ، بخش دے مولا ، راضی ہوجا اس سے وہ رونے لگی ، ہما بھی ماں کی دعا سن کر آنسو بہانے لگی ، میرے بچے امی ہاں ہاں ہما دیکھو تینوں کو بھی لے آئی ہوں اب تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ ، پھر خوب ڈھیر ساری باتیں کریں گے اچھا ! روبینہ بیٹی کو دلاسہ دینے لگی ،           ***********

  اب اور صبر نہیں ہوتا امی مجھے بہت سر درد ہو رہا ہے لائیے میرے دو نھنوں کو میرے سینے سے لگالوں ،  میری چھاتی پر سلا دیجیے ،  حمرا ناز اور عاطر اسکی چھاتی سے ایسے چمٹ گئے جیسے وہ بہت بے چین تھے اور ماں کی ممتا کے لئے تڑپ رہے تھے ۔    **********
 اشہر اور ساره کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ پینے کی کوشش کررہے تھے لیکن ناکام رہے اور گالوں پر ڈھلکنے لگے ۔ ہما آپ یک دم فٹ ہوجائیں گئیں کوئی بری سونچ مت لاو دل میں ، اشہر ہما کے قریب جاکر اس کی پیشانی کو چومتے ہوئے کہنے لگے اور عاطر کو اپنے گود میں لے لیا  ۔ ہاں بھا بھی آپ بہت گھبرا رہی ہیں ایسی کوئی بات نہیں ساره نے بھی حمرا کو اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا ۔
  ساره جس خواب کو میں نے دیکھا اس کی تعبیر تم کو ہی بننا ہے  اس خواب کو سچ کر دو پلیزا !ب یہ تین بچے میں تمہیں سونپ کر جارہی ہوں . آپ دونوں ان بچوں کے سب کچھ ہو ، ا شہر ! اس نے پہلی بار نام سے پکارا اشہر اس کے قریب تر ہوگئے کیا ہوا جان آپ پریشان مت ہونا میں ہوں نا ، ... نہیں میرا آخری وقت آگیا مجھے آسمان پر فرشتے دیکھا ئی دے رہے ہیں ، ساره میرے پاس آجاؤ میرا اثیر وه جو کہ کچھ فاصلہ پر تھا قریب آنے کا اشاره کرتی ہوئی اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی ! ہما ساره اور ا شہر کے ہاتھوں میں اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر کلمہ پڑھنے لگی ، نہیں ہما آپ اپنا ہاتھ چھوڑئیے  میں ابھی ڈاکٹر کو لے کر آؤں گا ، پلیز ہما ؛ ہمت مت ہارو ، اشہر زور زور سے رونے لگے ، وہ مضبوطی سے ہاتھ کو تھام لی ساره نے روتے ہوئے بھابھی آپ بہت اچھی ہیں کہنے لگی ، سب رائیگاں ہوچکا تھا ۔
        *********************************

تیری خدائی ہے تیری بڑائی ہے
تیرے آگے سب کی بے بسی ہے
ہر شئے میں چھپا ہے تیرا ظہور
 حد نظر تیری حمکت پوشیدہ ہے

 وہ بساکر کئی رنگوں والی دنیا

 قوس قزح ، دھنک والی دنیا
ہو لی اور بہاروں والی دنیا
محبت اور خلوص والی دنیا
خویشوں اور مسرتوں والی دنیا
برسات کی بہار اور چاندنی جیسی دنیا
کہاں چلی گئی بے رنگ کرکے میری دنیا
سب اپنے ساتھ لے گئی وہی تو تھی میری دنیا
   
ہما ..... ہما ... وہ چیخ چیخ کے رونے لگے ، ساره زار و قطار رونے لگی ، باقی افراد خاندان دوڑے دوڑے بھاگے بھاگے روم میں داخل ہوئے کیا ہوا؟ آپ دونوں اس طرح سے رو کیوں رہے ہو عاصمہ نے ا شہر کو ہلاتے ہوئے سوال کیا ، امی وه ماں سے لپٹ کر رونے لگے ہما مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں ، کیا ؟ ... عاصمہ وہیں فرش پر گر پڑی ، امی اٹھیے اشہر  ماں کو اٹھانے کی کوشش کرنے لگے ، شائد وہ بے ہوش ہو چکی تھی ، میری بچی روبینہ ہما کے اوپر گرکر بے تحاشہ رونے لگی ، سب مجھے بے سہارا کرکے چلے گئے میں جی کر کیا کروں گی یا اللہ مجھے بھی بلوالے ، میری بچی کے ساتھ مجھے بھی اٹھالے ۔
 یہ سب کیا ہوگیا اچانک سے یہ خزاں کہاں سے امڈ آگئ ، میری گلشن زندگی کو اجاڑ کر چلی گئی ، میرے بچوں کا خیال کیا ہوتا آقا تونے یہ فیصلہ لے کر مجھے اور بے یار و مددگار کردیا ۔ ا شہر چھوٹے بچوں کی طرح رونے لگے 
    *********************************
زندگی میں ایک خلا آگئی ، اشہر دیوانوں جیسا حال بنائے پھرنے لگے خود کا خیال نہیں، نا بزنس میں دلچسپی رہی نا تینوں بچوں میں ، وہ تو بے خود ہو گئے ، روبینہ دونوں بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئیں اور اثیر تو اب ساره کے ساتھ ہی سونا جاگنا کرتا یہی پر رہنے لگا وہ سارہ کا بہت ہی لاگو ہو چکا تھا ، اشہر کبھی کبھار گھر آتے کچھ دیر رہِ کر چلے جاتے زیادہ وقت ماں کے پاس ہی بیتا تے ، انھیں اولاد کی فکر بھی نہ رہی ایک عجیب سا موڑ آگیا ان کی زندگی میں ، قسمت نے ایسا کھیل کھیلا کہ وہ سنبھل نہیں پارہے تھے ، محمود صاحب ، معز صاحب اور مجاہد صاحب سب نے بہت سمجھایا ، شرجیل نے زندگی کو دوبارہ جینے کی بات کہی ، سب کی باتیں لاحاصل ، بے کار ، بے مقصد اور بے سود ثابت ہوئیں ،
اشہر کو ایک جنون سا طاری ہوگیا تھا کہ ہما اسے اکیلا چھوڑ گئی
ساره کی شادی کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا گیا ، اب ایسے حالات میں وہ شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ، اسے تو اشہر کی حالت دیکھی نہی جارہی تھی ، آخر اس مشکل کا حل کیا تلاش کریں وہ سونچ سونچ کر پاگل ہورہی تھی ۔
یا اللہ تو کسی بنده یا بندی کو اس قدر بھی آزما سکتا ہے . اے میرے مولا تو رحیم ہے کریم ہے اس پر رحم فرما کرم کا معاملہ فرما وه سجده ریز ہوکر ا شہر کے لئے دعائیں مانگنے لگی ، جسم تو نبھاتے ہیں وعده وفا ریت، اصول، خاندان نسب مگر دل اور روح کا رشتہ ا لگ ہوتا ہے وہ اپنوں کی پریشانی اور مصیبت کو کب نظر انداز کرے گا ، دل کبھی مانتا کہاں ہے وہ تو مچھلی ہے آب کی طرح تڑپ کر جان سے زیاده عزیز رہنے والوں کی بھلائی چاہتا ہے ـ
    *******************************
 سر کے بال بڑھے ہوئے اور داڑھی  بڑھی ہوئی وہ ایک مجنوں کے حلیہ میں آگئے ، ساره کو اشہر سے ڈر لگنے لگا ، آخر کوئی انھیں سمجھتا کیوں نہیں اسے اپنی ماں اور خالوں پر بہت غصہ آرہا تھا ، کسی کو اسى طرح چھوڑ دیا جاتا ہے کیا خیر خبر نہیں لی جاتی کاش ہما بھابھی ہوتیں تو یہ سب کہاں ہوتا ؟ محبت کے انداز ہی زندگی کے رنگ بدلتے ہیں ، کسی سے انسانیت وہ چیز ہے جو محبت سے بھی بلند مقام بنا لیتی ہے ، آخر کو ایک دن وہ خود اشہر سے مخاطب ہو کر کہنے لگی " آپ نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے " سلون جاکر بال کٹوا لیجے ، وہ ساره کی باتوں کو سنی ان سنی کرتے ہوئے ڈور کو لاک کرنے لگے ، ابو ابو کہتا ہوا اثیر ان کے قریب چلا گیا ، جائیے
 بیٹا ہم گندے ہیں ہم سے دور رہیے ، آپ آنی کے پاس ہی رہیے وہ اس معصوم کی انگلی تھام کر ساره کے حوالے کرنے لگے ، سارہ رونے لگی وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگے ، یک لمحہ کو وہ خوف زدہ ہوکر دور ہٹ گئی ، ساره تم کیوں رو رہی ہو ا شہر نے معصومیت سے سوال کیا ؟ جی جی کچھ نہیں وہ گھبراتی ہوئی اثیر کو لے کر اندر کی جانب چلی گئی ،
پاگل لڑکی وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔
      ******************************** 
تہجد کا وقت تھا ساره کو نیند نہں آرہی تھی وہ بستر سے اٹھ کر وضو بنا کر نماز ادا کرنے لگی ، دعا کے لۓ ہاتھ اٹھائی تو اس کی نظروں کے سامنے اشہر کا چہره آگیا ، آنکھوں سے اشک بہنے لگے ، وہ زار و قطار رو نے لگی . یا اللہ بنده جب ہر طرف سے عاجز ہو جاتا ہے تو آخر کار تیرے دربار میں حاضر ہوتا ہے کوئی سہارہ وہ نہیں پاتا ہے تو وہ تجھے پکارتا ہے وہ مغموم اور بے بس ہو کر تیری بارگاه میں حاضر ہوتا ہے ، تو ستر ماؤں کی محبت رکھنے والا اس کی مصیبتوں کو پریشانیوں کو مسرتوں میں بدل دیتا ہے ، میرے مولا اشہر کے دل کو سکون و قرار دے اسے زندگی کے وہ حسین رنگ عطا فرما جسے پاکر وہ اپنے تمام تر غموں کو بھول جائے ۔ میں تو کسی کی امانت بن چکی ہوں میرا کوئ اختیار نہیں ان پر تو رحم کر کرم کر بس یہی دعا ہے میری تجھ سے اشہر کے پریشانیوں کو راحت میں تبدیل کردے خدایا میں رحم کی بھیک مانگنتی ہوں 
********************************************

اس طرح سے جینے لگو گے تو مرجاؤ گے بیٹے عاصمہ نے روتے ہوئے اشہر سے کہا، امی آپ میرے بارے میں کوئی ٹینشن مت لیں میں جی لونگا ، بس جب تک سا نس ہے جینا ہی پڑے گا امی یہ قانون قدرت ہے بس اور کچھ نہیں ، بچوں کے بارے میں سونچو بیٹے ان کا خیال کرو ، تم باپ ہو وہ پہلے ہی بن ماں کے ہیں اس طرح سے بن باپ کے مت بناؤ ، تینوں پہلے ہی یسیر ہوئے ہیں ، امی آپ بے فکر رہیں ساره میرے بچوں کو ماں کی طرح دیکھ رکھ کرے گی ، اب روبینہ آنٹی کے یہاں سے ان دو معصوموں کو لالونگا تینوں کو ساره ہی پرورش کر لے گی وہ بے خیالی میں کہے جارہے تھے ، عاصمہ نے ٹوکا اب اس کی شادی ہونے والی ہے بیٹے وہ اپنے سسرال چلی جائے گی ، اف مجھے تو یاد ہی نہیں رہا اشہر سر کے بال کھینچتے ہوئے کہنے لگے ، تو پھر یہاں لالو نگا ان دونوں کو کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ، ہاں بیٹے لے کر آجاؤ عاصمہ نے تائید میں کہا ۔
   اشہر کے چلے جانے کے بعد عاصمہ کے ذہن میں عجیب وغریب خیالات آنے لگے وہ ساره میرے بچوں کو دیکھ رکھ کرے گی " یہ اشہر نے کیسی بات کہہ دی . کیا ساره حقیقت میں ا شہر کے بچوں کی ماں بن سکے گی ؟، کیا یہ ممکن ہے ؟ اس بات کو آسیہ اور معز صاحب مان لیں گے ؟ اور ساره ؟؟؟ کیا ساره قبول لے گی اس رشتے کو ؟ ؟ یا اللہ تو نے تو ایک راستہ دیکھا دیا بس اس میں کامیابی بھی عطا فرما میرے اشہر کی زندگی کو دوباره خو شیوں کے رنگوں سے مزین کردے ،ایک دکھی ماں کی دعا ہے يارب سن لے عاصمہ نے روتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف رخ کرکے دعا کی ۔
(  جاری ہے .....) ( باقی آئندہ۔ )  ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

******************************************

 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]