زندگی کے رنگ قسط ‏٥٠

 

مسٹر اشہر ابھی کے ابھی ہما کوcesarean کرنا ضروری ہے ، رضوانہ میڈیم نے صبح دس بجے ہی اشہر کو اطلاع دے دی۔
جی میڈیم ! ٹھیک ہے وہ گھبرائی ہوئی آواز میں کہنے لگے ، وہ ہمت ہار رہے تھے ، انہیں ہمت دینے والے کوئی نہیں تھے ، وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگے ، جلدی سے ماں کو فون لگا یا ، اسلام علیکم امی ! ہاں وعلیکم اسلام بیٹے عاصمہ نے جواب دیا ، امی ڈاکٹر رضوانہ نے ہما کا آپریش کرنے کا کہا ہے ابھی ، اچھا تم گھبراؤ نہیں میں آرہی ہوں ؛ ہاں امی جلدی آجائیے گا مجھے ڈر محسوس ہو رہا ہے ، وہاں روبینہ ہے ناں وہ سوال کرنے لگیں ، نہیں وہ ابھی گھر پر ہی ہیں آجائیں گئیں کچھ دیر میں اشہر نے reply دیا. اچھا بیٹا میں آسیہ کو بھی کال کرلیتی ہوں وہ آجائیں گئیں ہاں اوکے امی اشہر کو ذرا سا سکون محسوس ہوا ـ 
 اثیر کو ساره کے ہاں چھوڑ کر سب ہاسپٹل چلے آئے  ۔ ہما کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا ۔ ہر دھڑکن تیز تھی سب کے دلوں میں گھبراہٹ تھی ، سب پریشان تھے مگر ایک دوسرے کو اپنے فیلنگس سے بے خبر رکھے ہوئے دلاسہ دیتے رہے اور ہمت دیتے رہے ، سب کے دلوں میں ہما کے لئے دعائیں تھیں ۔
اشہر کی حالت غیر ہو رہی تھی یا الله سب خیر کا معاملہ فرما بس یہی دعا وہ دل ہی دل میں کرنے لگے ، میری ہما کو ہر حال میں صحت وعافیت عطا فرما خدایا اس معصوم کی حیات بخش دے وہ نہ جانے کیا کیا مانگ رہے تھے خود انھیں ہی معلوم نہ تھا ، آج وہ ہما کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کے لۓ تیار تھے ، وہ ان کی اپنی تھی ، شریک حیات تھی ، ایک اچھی اور نیک بیوی تھی ، اس سے کبھی شکایت نہیں رہی وہ ہروقت اشہر کی مرضی کے مطابق زندگی گزرنے والی زوجہ تھی ـ ا شہر کو اس کی زیادہ فکر ہو رہی تھی ، بس ہما ٹھیک رہے مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے وہ دل ہی دل میں دعاگو تھے ، ایک باپ اور ایک شوہر میں وه شوہر کی تائید زیادہ کررہے ہیں ۔ انھیں پیدا ہونے والے بچوں سے زياده ہما اہم تھی ، شائد وہ خود غرض بن کر سونچنے لگے ،
 
         ********************************

  مبارک ہو!  لڑکا اور لڑکی ہوئے ہیں ، ڈاکٹر صاحبہ نے مسکراتے ہوئے آکر اطلاع دی ، شکریہ میڈیم ا شہر نے مسکراتے ہوئے کہا ، اور ایک گھنٹہ بعد آپ لوگ ہما سے مل سکتے ، ابھی تو انھیںicu میں ہی رکھنا پڑے گا ، ابزویشن کے لئے ، جی ٹھیک ہے ا شہر اور عاصمہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حامی بھرلی ، سب ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے۔
 اشہر گھر آکر فوراً سجده شکر ادا کرنے لگے ، اور ساتھ ہی ساره کو بتانے کے لئے اوپر دوڑے ، ساره ساره وه با آواز بلند ساره کو پکارنے لگے ، جی جی وہ گهبراتی ہوئی دوڑی دوڑی آئی، وہ وہ ٹھٹھک گئے کیا بات ہے وہ حیران کن نظروں سے دیکھنے لگی ، کچھ نہیں وہ وہ ہما کو لڑکا اور لڑکی تولید ہوئے ہیں . اچھا بہت بہت مبارک وہ خوشی سے جواب دینے لگی۔ ہاں ساره آج میں بہت خوش ہوں سچ میں تمھیں پتہ ہے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی ، اب بڑا مطمئن اور پرسکون ہوں ، جی وہ ا شہر کو دل چسپی سے سنتی رہی۔ تم چلو ابھی ! وہ سارہ سے کہنے لگے ، ابھی پاپا اکیلے ہیں ، امی آجانے دیجیے پھر میں آجاؤنگی ، وہ خوشی سے سرشار ہوتی ہوئی کہنے لگی ہما اس کے لئے بہت اہم تھی وہ ہما کو دل سے چاہتی تھی ، تب ہی تو اسکی خوشی کی خاطر اس نے اپنی محبت کو دل میں ہی دفن کردیا تھا .

         *****************************
  وہ بہتexcite ہورہے تھے ۔ اتنی خوشی اشہر نے کبھی ظاہر نہیں کی تھی آج وہ خود کو آسمان کی بلندیوں میں اڑتا ہوا محسوس کرنے لگے .
 دونوں بچوں کوincubator میں رکھا گیا تھا ، اور بچوں کے وارڈ میں ، ہما سے الگ. افراد خاندان خوشی سے نہا ل ہورہے تھے ،
  ادھر ساره کی شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی اور ادھر ہما کو بھی ڈسچارج کردیا گیا تھا وہ میکے چلی گئی تھی ،
 ہر معاملہ میں ساره آسان اور سادگی کا مظاہرہ کررہی تھی اسے زیادہ خرچوں اور بے جا شاپنگ سے اب لگاؤ نہیں رہا ، اس میں بہت کچھ بدلاؤ آ گیا تھا وہ پہلی والی سارہ نہیں رہی جو دل کھول کر ہر جگہ خرچہ کرنے والی ،
 زندگی مصروف ہوگئی سب اپنی اپنی جگہ مصروف تھے ، ردا اور شرجیل بھی اب کافی سکون میں تھے ، ا شہر کے لیے فیصلہ سے وہ مطمئن ہوگئے ، شرجیل نے ا شہر سے معافی بھی مانگ لی اپنی غلط بیانی پر ، ہما روبہ صحت ہونے لگی اور بچے بھی ماشاء اللہ صحت مند ہوچکے تھے ، معز صاحب کی صحت بھی ماشاء ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی ، محمود صاحب کے بزنس کی اپنے بزنس میں شمولیت کے بعد اشہر کو   اور زیادہ کام  لگ چکا تھا ۔ اشہر نے اپنے اسسٹنٹس کو ہر طرح کی تاکید کر رکھی تھی کہ بزنس میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی انھیں گوارا نہیں ۔
  اور اپنے ماتحتین سے وہ بہت ہی نیک سلوک روا برتا کرتے ہمیشہ ، شائد یہی وجہ ہے کہ ہر ورکر ا شہر کی بہت عزت کرتے اور اشہر سب اسٹاف کو ایک فیملی کی طرح بیہیوbehave کرتے ۔ 


         *******************************
 زندگی معمول پر تھی ، نہ کوئی تناؤ اور نہ ہی کوئی بھاگ دوڑ سب مصروف ہوگئے تھے اپنے اپنے فیملیز میں۔
  سارہ کی شادی کو صرف پندره دن باقی رہ گئے تھے ، اچانک سے ہما کی طبیعت بہت بگڑ گئی ، فوراً ہسپتال لے جایا گیا ، تیز بہت تیز بخار آگیا کم نہیں ہو پا رہا ہے ، حرارت کنٹرول میں کرنا ضروری تھا اس لے دواخانہ سے رجوع ہونا اشد ضروری ہوگیا ، عاطر اور حمرا ناز اور اثیر کو روبینہ کے ہاں چھوڑ کر صرف مریضہ کو لے کر اشہر فورا دواخانہ پہنچ گئے ، ڈاکٹر رضوانہ نے ہما کو فوری طور پر ایڈمٹ کر لیا اور علاج شروع کردیا ۔
  کب سے آرہا ہے بخار وہ عاصمہ سے پوچھنے لگیں پتہ نہیں میڈیم مجھے بھی ا شہر نے ابھی کال کرکے کہا ، عاصمہ نے جواب دیا ، اچھا ٹھیک ہے گھبرانے والی بات نہیں کم ہو جائے گا ۔
  اشہر نے ساری دوایئاں لاکر نرس کے حوالے کردی اور ڈاکٹر رضوانہ کے گیا بن کی طرف چلے گئے تاکہ بات کرسکے 
  دیکھئے اس پیریڈ میں بخار کا آنا ٹھیک نہیں پھر بھی میں پوری کوشش کرونگی آپ اطمینان رکھیے وہ ا شہر کو دلاسہ دینے لگیں ۔ جی میڈیم مجھے یہی تعجب ہے کہ کل صبح ہما ایک دم فٹ تھے اور شام سے تھوڑا تھوڑا ڈل ہونے لگے ،
  اور اب وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو بند کرتے ہوئے پریشان اور اداس چہرہ لیے ڈاکٹر رضوانہ کو دیکھنے لگے ۔
 اشہر آپ کے اور میرے ہاتھ کچھ نہیں صرف کوشش اور دعا بس باقی سب اوپر والا ہے اسی کے ہاتھ میں ہے بیماری کا دینا اور پھر شفا کا دینا سب اختیار پرور گار عالم کا ہے ، اس سے مانگے اپنوں کی صحت ، وه یہ کہہ کر اشہر کو اور تشويش میں ڈالنے لگیں ، انشاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا، بس خدا ہر یقین رکھیے .


   ****************************************
 
 وہ سید ها گاڑی کو  مسجد کے رخ تیز رفتار ی سے دوڑا رہے تھے انھیں کوئی اور راستہ سلجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ ذہن میں بے تکے خیالات ا کر گمراه کرنے لگے ۔ دل میں ایک عجیب سی ہے کلی اور بے قراری چھائی ہوئی تھی ، عاصمہ اور عرشیہ ہسپتال میں موجود تھیں وہ الله کے گھر کچھ مانگنے جارہے تھے ۔
        ******************************

( جاری ہے)      (باقی آئندہ)۔     ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]