زندگی کے رنگ قسط ٤٧
زندگی کو اتنا مصروف کرتے جانا تم
کبھی دل خیالوں کی زد میں نہ آ سکے
سارہ اب ایک اچھی بزنس او من بن چکی تھی کافی قلیل مدت میں وہ اپنے پاپا کے بزنس کو بہتر طور پر ہانڈل کر رہی تھی اسے ایک قسم کا دلی سکون میسر ہوچکا تھا ۔
ہما کی طبیعت اچانک پھر سے خراب ہوگئی وہ ہاسپٹل منتقل ہوچکی تھی۔
سارہ اور آسیہ ہما سے ملنے دواخانہ چلے گئے ، وہ بہت کمزور نظر آرہی تھی ۔ ساره اس کے قریب تر ہوکر بیٹھ گئی اور آسیہ بیگم ڈاکٹر رضوانہ سے بات کرنے کے لیے ان کے کیا بن کی جانب چلی گیں
بھابھی آپ ٹینشن فری رہیے سکون سے رہیے آپ کو انشاء کچھ نہیں ہوگا اور اب دو تین ماہ ہے پھر تو آپ تین بچوں کی ماں بن جائیں گئیں۔ ساره نے ہما کے ساتھ مذاق کرڈالا،
ہاں ساره شائد ! پتہ نہیں کیوں مجھے اس طرح سے خیالات آتے ہیں کہ ... وہ کہتے کہتے رک سی گئی ،
کس طرح کے خیالات آتے ہیں بھا بھی آپ بتائیں تو سہی -
اچھا ساره میں نے ایک خواب دیکھا تم اس کی تعبیر کہہ سکو گی ، ارے میں اتنی بڑی ملانی کہاں ٹہری سارہ نے ہنس کر ٹال دیا ۔
سچ سارہ اچھا سنو تو صحیح ! اوکے کیے ساره بھی متوجہ ہوگئی .
میں نا میرے تین بچوں کو لے کر کہیں جارہی ہوں کچھ دور جانے کے بعد مجھے آپ کے بھیا ملے پھر وہ مسکرا کر مجھے دیکھنے لگے ، میں نے ان سے کہا اب کیا تینوں کو میں ہی سنبھالو ں یا آپ کسی ایک تو گود میں لیں گے ۔ آپ کے بھیا نے ہنستے ہوئے مجھ سے کہا ایک نہیں تینوں کو دے دو، پھر ؟ سارہ نے تجسس سے پوچھا ، سنو تو تینوں بچوں کو وہ خود اٹھا لیے اور جانے لگے ، میں دوڑتی ہوئی ان کے قریب گئی ارے آپ خفا ہوگئے کیا لائیے ایک کو مجھے دیجے کہنے لگی ، التجا کرنے لگی لیکن وہ میری طرف سے ہے خبر ہو کر جانے لگے ، آخر کار میں ان کے مقابل جا کر کھڑی ہوگئی اور پوچھنے لگی کہاں لے جارہے ہیں آپ بچوں کو اور مجھے کیوں نہیں دیتے میرے چلانے سے بھی آپ سنی ان سنی کرکے چل دیئے ، تب انھوں نے کیا جواب دیا پتہ ہے ساره ؛ کیا ؟ اب تم اپنا راستہ ناپو میں ان تینوں کو بھی تمھیں دینے والا نہیں ہوں ، پھر آپ نے کیا کہا ؟ سارہ نے حیرانگی سے پوچھا ! ارے عجیب ہیں آپ میں ان بچوں کی ماں ہوں اور آپ مجھ سے انھیں جدا کررہے ہیں . ہاں ساره نے تائید میں کہا . ، پھر اب مزه کی بات ہے اچھا ، تم نہیں کوئی اور ہے ، کیا ...؟ ساره کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔ ہما کا قہقہہ چھوٹ گیا۔
***********************************
ارے کیا ہو رہا ہے یہاں تو انجوائے منٹ ہو رہا ہے ا شہر نے اندر داخل ہوتے ہوئے ساره اور ہما کو بے تحاشہ ہنستے ہوئے دیکھ کر کہا ،
لو یاد میں آگئے ہما نے اشاره کردیا آپ کان پکڑ یے ! کیوں آپ کو سو سال عمر اچها وه بھی ہنس دیئے ۔
سارہ کے مقابل چیر پر بیٹھ کر وہ ہما سے محو گفتگو ہوگئے . ساره کو اشہر کی موجودگی سے ایک قسم کا عجیب سا احساس ہونے لگا وہ یک لخت اٹھ کھڑی ہوئی اور باہر نکل گئی ۔
یہ سارا سچویشن ہما نوٹس کررہی تھی اس نے ا شہر سے باہر جانے کو کہا وہ سبب پوچھنے لگے کیوں کیا ہوا بھئی آپ اچانک مجھے تخلیہ ہونے کو کہہ رہی ہیں ۔ ویسی بات نہیں مجھے ساره سے خواب کی تعبیر معلوم کرنی ہے اور آپ بیچ میں آ دھمکے ہما نے مصنوعی ناراضگی جتلائی او ہو تو ٹھیک ہے میں چلا۔ وہ اٹھ کر باہر نکل آئے سارہ وہاں گیلری میں موجود خوبصورت گل بوٹوں کا نظارہ کررہی تھی ۔
تم جا رہی ہو ساره ؟ وہ اسکے بالکل پیچھے آکر سوال کرنے لگے ، ساره اچھل سی گئی ، جی وه مڑکر ا شہر کو دیکھنے لگی ارے اس طرح سے کوئی ڈرتا ہے کیا وہ مسکرارہے ، خود میں شرمنده ہوتی ہوئی وہاں سے ہٹ گئی ، میرا مطلب ہے کہ کچھ دیر رک جاؤ میں اثیر کو لانے جارہا ہوں ، کیا ؟ اثیر تو پھر میں رکتی ہوں وہ خوشی سے کہنے لگی ۔
اسکی معصومیت پر ا شہر کو ڈھیر سارا پیار آیا لیکن وہ فوراً خود پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے ، ٹھیک ہے تو پھر جاکر ہما کے پاس بیٹھ جاؤ میں آنٹی کو لے جارہا ہوں ، اوکے وہ خاموش سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔
**************************************
ارے آجاؤ ساره خواب کو پورا کردیں گے، وہ مسکراتی ہوئی ہما کے پاس بیٹھ گئی ، ہاں اب بتائیے بھابھی ! وہ سنجیدگی سے کہنے لگی ۔ آپ کے بھیا تیز تیز گام چلنے لگے ، مجھے ان پر بہت غصہ آرہا تھا پر میں چپ تھی ، کچھ دور جاکر انھوں نے میرے تینوں بچوں کو ..... میڈیم آرہی ہیں پلیز بی کویٹ سسٹر نے آکر اطلاع دی ۔ ہما اور ساره خاموش ہوگے ڈاکٹر رضوانہ نے آکر ہما کی تشخیص کی اور ضروری دوائیاں لکھ کر ساره کو تھما دیئے۔ یہ میڈیسن ابھی منگوالیں ضروری ہے فوراً دینے ہونگے رضوانہ میڈیم نے ہدایت دی ۔
آنی آنی اثیر دوڑتا ہوا آکر ساره سے لپٹ گیا . وہ بے اختیار اسے گود میں لے کر چومنے لگی ، اس قدر چاہت دیکھ کر اشہر کا دل عش عش ہوگیا۔
ہوا کے جھونکوں سے اس کی سنہری زلفیں اڑکر اس کے روشن اور پاکیزه چہره کو ڈھانک رہی تھی ۔
و اه کیا ادا ہے تیری اے با دصبا
تیری رہ گزر میں ہر سوں سکون
تیری آمد سے ہر طرف خو شبو
اسکی زلفوں میں بس گئی تو
وہی خوش بو سے معطر ہوا میں
مجھ کو اس میں بسا کر چلی گئی تو
دم بھر کو چین مجھے دے گئی تو
زندگی میں سکون حاصل ہوجائے
معطر زلفوں میں اس کی مجھے بسائے تو
ارے بیٹا اندر مما ہے چلئے وہ بیٹے کو لیکر ہما کے پاس آگئے مما مما ہم آنی کے ساتھ جائیں گے اوکے اثیر نے ہما سے پوچھا ، ہاں بیٹا چلے جانا کچھ دیر بعد وہ بیٹے کو قریب کرتی ہوئی کہنے لگی ، یہ میڈیسن ابھی لانے کو کہا میڈیم نے ساره نے پرچی اشہر کو تمھا دی۔ ٹھیک ہے ابھی لایا کہہ کر ا شہر باہر نکل گئے ۔
******************************
سارہ اثیر کے ساتھ بزی ہوگئی اور ہما بھی سو چکی تھی ۔
اشہر میڈیسین لاکر ساره کو سوپنے لگے ، وہ نرس کو ساری دوائیاں بتانے چلی گئی ۔
ڈاکٹر رضوانہ نے ا شہر کو اپنے کیا بن میں پیش کیا ۔
کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟
ہاں آجائیے ! رضوانہ میڈیم نے اجازت دے دی
بیٹھیے ! جی شکریہ اشہر نے چیر پر بیٹھتے ہوئے کہا
دیکھئے ہما کے بارے میں بات کرنی ہے ،
جی میڈیم بتائیے
اب ہما کا کنڈیشن کریٹیکل ہورہا ہے . اس لئے سیونت منت میں ہی آپریشن کرنا پڑے گا. اس لۓ آپ کو مینٹلی پریپئر رہنا ہے .
اوکے میڈیم آپ جو مناسب سمجھیں اشہر نے جواب دیا ،
پریشان حال وه ہما کے پاس آگئے نرس سلائن چڑھا رہی تھی ۔ ہما ایثر کولیے قریب میں کھڑی دیکھ رہی تھی ۔
اشہر کو دیکھ کر وہ گھر جانے کا اراده ظاہر کرنے لگی ۔ ہاں روبینہ آنٹی آنے والی ہیں بس اس کے بعد چھوڑ آونگا اشہر نے آہستگی سے کہنے لگے ، سارہ ا شہر کے اس طرح کے رویے سے پریشان ہوگئی ۔ یہ اچانک اشہر کو کیا ہوگیا آواز میں آزردگی اور مغمومی چھائی ہوئی ہے اور رنجیدہ نظر آرہے ہیں ـ
ٹیک کیر آف ہر ! ذرا انھیں دیکھتے رہیے میڈیم ؛ نرس ساره کو ہدایت دے کر چلی گئی ۔
کیا بات ہے آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں اس نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔
وہ ڈاکٹر صاحبہ نے ہما کا آپریشن کرنے کی بات کہی ہے ،
کیوں ؟ ہما کا کنڈیشن ذرا خطرہ میں ہے وہ رنجیده لہجے میں کہنے لگے ـ
سب ٹھیک ہوجائے گا آپ فکر نہ کریں الله کریم ہے ، ساره نے تسلی دی ۔
بس اس کی ذات سے امید ہے ساره ورنہ میں تو اس وقت ہی ٹوٹ چکا تھا جب ماما اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے ، وہ رونے لگے .
ارے آپ ہمت باندھیے وہ نروس ہوگئی اثیر پریشان ہوجائیں گے پلیز وہ بھی روہانسی ہوگئی ، ہما بے خبر سو رہی تھی ورنہ وہ یہ سب سن چکی ہوتی ۔
***********************************
آپ روبینہ آنٹی کو بلا لائیے ، ہاں جارہا ہوں اشہر روم سے نکل گئے۔
اسلام عليكم آنئی ، وعليكم اسلام جیتی رہو ، اب آپ جاسکتی ہو بیٹی میں دیکھ لوں نگی ، جی آنٹی اللہ حافظ ۰
اشہر ساره اور اثیر کو لے کر گھر کی طرف نکل پڑے ،
سارا راستہ دونوں کی لب خاموشی میں ہی کٹ گیا ۔
صرف دل کی دھڑکنیں ایک دوسرے سے باتیں کررہی تھیں ، اب پتہ نہیں کیا ہوگا ساره مجھے ایک انجانہ سا خوف ستائے جارہا ہے ۔
اللہ رب العزت پر بھروسہ رکھیں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
آخر کو قدرت مجھے کیوں آزما رہی ہے ہر وقت ساره ،
اپنے برگزیده بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتی ہے قدرت ۰
میں بہت مفاد پرست ہوں شائد ساره !
نہیں حساس اور حالات سے سمجھوتہ کرکے الله کے ہر فیصلے پر راضی ہونے والے بندے ہیں آپ ،
کاش مجھ میں ہمت ہوتی ہر آزمائش کو سہنے کی اب تو ٹوٹ چکا ہوں نہیں ہے ہمت میں اب بزدل انسان بن چکا ہوں یا اللہ مجھے ہمت اور صبر عطا فرما ۔
آمين ثم آمين ساره کے آنکھوں سے آنسو جھلک نے لگے ۔
جس کو ا شہر نے دیکھ لیا ۔
خدا جب جب آزماتا ہے
بنده تب تب سنور جاتا ہے
نہ مانگا تھا جو کبھی اس نے
وہ سب کچھ عطا ہو جاتا ہے۔
*********************************
(جاری ہے ...)( باقی آئندہ)
( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)