زندگی کے رنگ قسط ٣٨
دیکھا اشہر میں نہ کہتی تھی اس کا تو دماغ چل گیا . آسیہ نے صبح صبح اوپر سے ا شہر کو آواز دیتی ہوئی آواز دینے لگی ۔ معز انکل پیچھے سے آگئے اور اشہر کو اوپر آنے کا اشاره کرنے لگے ۔
*************
اسلام علیکم انکل اشہر آسیہ کے شوہر معز الدين کو ادب سے سلام کرتے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئے ۔
بیھٹو بیٹے آپ سے تھوڑا رائے مشوره کرنا تھا معز صاحب اشہر سے کہنے لگے .جی انکل اشہر نے پوری توجہ سے کہا۔
بات دراصل یہ ہے کہ جو رشتہ ساره بیٹی کو آیا ہے وہ میرے دوست کے رشتے دار کا لڑکا ہے جان پہچان کے لوگ ہے ، مجھے پورا بهروسہ ہے . کوئی انجان لوگ نہیں اس لیے آپکی آنٹی اور میں اس رشتے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں . ورنہ امریکہ یا کسی اور ابراڈ کے رشتوں کے میں خود مخالف ہوں ، معز الدین نے تفیصل بتائی ۔ جی اشہر جستجو سے سنتے رہے ۔ اب مسلہ یہ ہے کہ ہماری بیٹی کو اس رشتے میں کوئی دل چسپی نہیں . کیا کریں ۔
اچھا ا شہر نے جواب دیتے ہوئے کہا ،
آسیہ آنٹی نے اپنی بات شروع کردی ، اس کا کہنا ہے کہ وہ رشتہ اگر اتنا ہی قابل قبول ہے تو زارا کے لئے ہاں کردیں ۔
کیا ؟ اشہر چونک کر آسیہ کو دیکھنے لگے
ہاں ساره نے ایسا کہہ دیا ہے ، معز صاحب نے بیوی کی بات کی تصدیق کرڈالی ۔
پھر برا کیا ہے ؟ اشہر بھی ساره کے فیصلے کو ووٹ دینے لگے ، میرا مطلب ہے اگر زارا رضا مند ہے تو انھیں زارا کا رشتہ بھیج دیں۔
تو کیا آپ بھی ساره کی بات سے متفق ہیں۔ معز الدین نے اشہر سے پوچھا ،
مجھے بھی یہ یہی مناسب لگ رہا ہے ،
**************
ٹھیک ہے زارا سے دریافت کرکے میں انھیں اطلاع دے دوں گا اور ہاں میں جواب آگیا تو بہتر ہے ورنہ سونچیں گے کیا کیا جائے معز صاحب بھی پر سکون انداز سے کہنے لگے ۔
رشتے خوشی اور پسند سے ہونے میں ہی پائیداری قائم رہتی نا آنٹی اشہر نے خالہ کو دیے لفظوں میں بتایا ، آپ اگر زبردستی کریں گئیں تو پھر بعد کی ذمہ دار بھی آپ ہی رہیں گئیں۔
ہاں بیٹا وہی تو مجھے بھی ڈر ہے اس بے وقوف لڑکی سے آسیہ نے بھانجے کی ہاں میں ہاں ملادی
اچھا تو پھر میں چلو ں ؟ ہاں ! ناشتہ ہوگیا ؟ کہاں ابھی ہوگا ا شہر مسکراتے ہوئے کہنے لگے ۔
یہاں کرلو بھئی ہمارے ہاں کبھی کبھی ہمیں بھی مہمان نوازی کا شرف بخشو معز الدین نے ا شہر کے اٹھتے ہوئے قدم کو اپنی باتوں سے روک دیا ۔
ایسی بات نہیں پھر کبھی آجاؤنگا ۔ اشہر نے اخلاص سے کہا ۔ تم بیٹھو بیٹے میں ہما کو بھی آواز دوں گی سب ساتھ میں ناشتہ کر لیتے ہیں ۔ آسیہ نے کہہ دیا اور ہما کو ساتھ میں آواز دینے لگیں ۔
*****************
ذرا سنبھل کے آنا بیٹی وہ ہما کو تنبیہہ کرنے لگی ۔
اشہر آگے بڑھ کر اثیر کو اپنے ساتھ میں لیے آگئے۔
ڈائنگ ٹیبل پر ہمہ اقسام کی ڈشز سجائی گئی۔
اتنے سارے کب تیار کئے گئے آنٹی اشہر مسکراتے ہوئے خالہ کو پوچھنے لگے ،
دونوں نے تیار کردیا سارہ اور زارا ۰
وہ کھانے کی ٹیبل پر کھڑی رہی سرو کرنے کی نیت سے ، ہما نے اسے بھی بیٹھنے کو اصرار کیا مگر اسی طرح کھڑی رہی۔
اشہر کا دل بھی چاہا کہ کہے پر وہ چپ چاپ بیٹھے رہے اور نظریں نیچی کئے ہوئے ناشتہ کرنے لگے۔ ڈر تھا کہیں آنکھ ا ٹھی تو اس کی نظروں سے نہ ٹکرا جائے ۔
اور پھر ...
ہما آپ اطمینان سے آجانا میں چلتا ہوں ا شہر جلدی ناشتہ ختم کرکے نیچے اتر گئے ۔
اب ہما بھی حاملہ تھی ، اس لئے زیاده کیر لینے کی ضرورت تھی ، صحت کے حساب سے اسے خود کے ساتھ ساتھ اسے اثیر کی دیکھ رکھ کر نا مشکل تھا .
******************
ہم سے دور ره کرخود میں متفکر رہتے ہیں کوئی
ذرا سے سنبھل جائیے گا دل ناداں راز نہ فاش کردے
کوئی جاکے یہ پیغام اس تک پہچا دے
دوریاں بڑھ جانے سے محبت ختم نہیں ہوتی ۔
آفس میں بیٹھا وہ چائے کی سپ لیتا ہوا باہر دوڑتی ہوئی گاڑیوں کو دیکھنے لگا ۔
یہ زناٹے بھرتی ہوئی گاڑیاں جو اپنی منزل پر جلد از جلد پہنچنے کے لئے دوڑ رہی ہیں ، کیا انسان بھی اپنی منزل مقصود تک رسائی کے لئے اسی طرح دوڑ دھوپ کرتا ہے ۔ پھر وہ ہمیشہ خود سے ناخوش اور غیر مطمئن کیوں رہتا ہے ، اسے منزل نہیں ملتی یا غلط راستہ اختیار کرتا ہے ،
دل نے اشہر کے خیالوں پر دستک دے ڈالی ، انسان اگر سمجھوتہ کرتا ہے تو مطمئن نہیں ہوتا اپنی منزل سے اور اگر خود کا فیصلہ لیتا ہے تو اسے ڈر لگا رہتا ہے کہ دنیا اسے قبول کرے گی یا نہیں ،
سچ ہی ہے وہ دل کی باتوں کو مان لیا ،
اب تم نے سمجھوتہ ہی تو کیا ہے زندگی میں ہما سے شادی کرکے دل نے اسے اکسایا ،
حالات کے پیش نظر تم نے اپنے والد کی بات رکھ لی اور اس رشتے کو قبول کر کے رضا مندی کا اظہار کیا ،
تو کیا تمھارے اپنے احساسات جذبات شامل تھے ؟ دل کے سوال پر وہ پریشان ہوگیا۔
نہیں نا ! تم نے اپنی مرضی سے کہاں کی ہے شادی !
ساره سے تمہاری محبت جائز ہے یہ تمہارے جذبات اور احساسات ہیں جس پر تمہیں پورا اختیار ہے اشہر ـ
نہیں مجھے کچھ نہیں سننا وہ چائے کا کپ زور سے ٹیبل پر رکھتا ہوا چیر سے آٹھ کر باہر نکل آئے .
تمھیں بھولنے کی کوشش کرتا ہوں
زندگی کو جینے کی سعی کرتا ہوں
تیرے بغیر بھی مکمل ہوگی زیست
یہ خیال لاکر دل کو بہلایا کرتا ہوں
پھر دل نے ایسا کہہ دیا ،
تصویر زندگی نامکمل ہے میری
رنگوں سے تمھارے پیار کے کبھی
جاذب نظر کرکے رکھ دو یہاں
بس یہ ایک ہی آرزو باقی ہے میری ۔
**************
(جاری ہے ...)( باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)