زندگی کے رنگ قسط ‏ ‏٣٧



مبارک ہو امی ! آج سے سارے بزنس کی مالکین آپ ہوگئی ہیں ، اشہر انتہائی پرمسرت انداز میں عاصمہ کو رجسٹریشن کے بعد مبارک باد دیتے ہوئے کہنے لگے ۔
یہ سب تمھاری کاوشوں کا نتیجہ ہے بیٹا !
 ایسی کوئی بات نہیں امی خیر چھوڑیے ! اب آپ اپنی مرضی سے اس میں ردوبدل کر سکتی ہیں آپ کو پورا اختیار ہے . اشہر  ماں کو تشفی دیتے ہوئے کہنے لگے .
اور ہاں اس بات کی اطلاع اب آپ ہر کسی کو دے سکتی ہیں۔  اشہر نے تفصیل بتائی ۔
ہاں اشہر اب مجھے سکون مل گیا اور بہت ہی اطميان ہوگیا عاصمہ نے بیٹے کی ہاں میں ہاں ملا تے ہوئے کہنے لگیں .
ٹھیک ہے امی اب میں چلتا ہوں بعد میں آجاؤنگا اللہ حافظ ... اشہر کار کی جابی گھماتے ہوئے اٹھ گئے 
ا شہر کو وداع کرنے ماں مین گیٹ تک آ گئیں ...
              ******************

ارے آگئے بیٹا آجاؤ میں تمھیں ہی فون لگانے کو کہہ رہی تھی ہما سے ؛ آسیہ آنٹی ا شہر کو آتا دیکھ کر چہک کر کہنے لگیں؛
جی السلام علیکم آنٹی! جیتے رہو کہاں غائب ہو جاتے ہو ؟
بس کچھ نہیں تھوڑا کام نکل آیا تھا ! اشہر نے اصلیت کو چھپاتے ہوئے کہا ،
اچھا اچھا ٹھیک ہے آجاؤ ہمارے گھر چلتے ہیں وہیں پر باتیں ہوں نگی . آسیہ  التجا حاٌ کہنے لگیں ،
ایسی کونسی بات ہے آپ نروس نظر آرہی ہیں اور ٹینشن کی کیا بات ہے مجھے بتائیے تو سہی اشہر نے خالہ کو دلاسہ دیتے ہوئے اندر داخل ہوگئے .
            *****************
دیکھو بیٹا مجھے کوئی نرینہ اولاد ہے نہیں جو میں اس سے کچھ رائے مشورہ کر سکوں اور کوئی ذمہ داری سونپ دوں اب رہی بات تمہارے انکل کی انھیں ہر وقت بزنس کی دھن لگی رہتی ہے ارے بچیاں بڑی ہوگئیں ان کو بياه کر دینا ہے کچھ ہے سب بالائے طاق رکھ کر ہمیشہ دوڑ دھوپ کرتے رہتے ہیں . اب ایک جاکے دودو جوان بیٹیوں کے باپ ہے مگر قسم لے لو جو کان پر جوں تک نہیں رنگتی 
سارہ کو اچھے بھلے خاندان کا رشتہ آیا ہوا ہے اب پہلے ایک رشتے کو اس لڑکی نے ٹھکرا دیا اب اگر یہ رشتہ ہاتھ سے چلا گیا تو اچھے رشتے مناسب وقت پر آنا مشکل ہو جائے گا .
یہی سب خیال کرکے میں نے تم سے مشوره کرنے کے لئے بلوایا ہے . ہما کو بھی یہیں بلوا لیتی ہوں پھر بات کریں گے .
جی بہتر آنٹی! اشہر نے زور زور سے دھڑکتے دل کو قابو میں کرتے ہوئے اجازت دے دی 
یہ مجھے اس کا نام سنتے ہی کیا ہو رہا ہے ؟ پاگل تو نہیں ہوا میں یا دیوانہ عجیب کیفیت طاری ہورہی ہے یا خدا یہ کیسی امتحان اور آزمائش کی گھڑیاں مجھے دے رہا ہے تو اشہر دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگے 
                  ****************
 ہاں آجاؤ ہما ؛ آسیہ نے سکون کی سانس لیتے ہوئے کہنے لگیں .
دیکھو اشہر لڑکا انجینئرنگ کرا ہوا ہے اور امریکہ میں گرین کارڈ ہے  اور کیا چاہیے اس ساره کو . میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے آپ لوگ ہی پوچھیے آسیہ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بھانجے کو بتایا ۔
ہما ؛ آپ جاکر معلوم کرو انکار کی وجہ کیا ہے !
جی بہتر ہما اٹھتی ہوئی کہنے لگی .
ساره آپ سے شکایت ہے آنٹی کو وه سارہ سے قریب تر ہوتے ہوئے سرگوشی کرنے لگی ۔
کیسی شکایت بھابھی وہ اس کے اس طرح سے پوچھے جانے والے انداز سے ہنسنے لگی،
یہی کہ آپ نے ایک اور پرپوزل کو ریجکٹ کر دیا ہے .
ہاں بھابھی ! میں امریکہ و مریکہ جانے والی نہیں ہوں مجھے یہی رہنا ہے آپ سب کے ساتھ وہ روہانسی ہوگی ۔
اور اگر آپ سب کی  مرضی شامل ہے تو پھر ٹھیک ہے مجھے بھی کوئی اعتراض  نہیں اس طرح سے تغافل برتنے سے کیا حاصل میں بھی راضی ! اوکے،
ٹھیک ہے ساره میں جاکر آنٹی سے آپ بات کہہ دونگی ! دعا کرو سب ٹھیک ہو جائے جی الله کریم ہے ساره مسکراتی ہوئی ہما کو دیکھنے لگی ،
                        ************
کیا کہا اس نے آسیہ نے ہما کچھ کہتی خود ہی سوال کرڈالا .
آنٹی وہ امریکہ جانے کے لئے رضا مند نہیں ہے . ہما نے اطمينان سے کہا 
کیوں ؟ ارے آجکل ہر لڑکی امریکہ لندن کے خواب دیکھ رہی ہے اور اسے امریکہ جانے میں دلچسپی نہیں ہے ، تو پھر یہاں کے رشتے کو کیوں ٹھکرا دیا بد تمیز نے آسیہ  غصے میں بے قابو ہورہی تھی .
آنٹی آپ غصہ کیوں ہورہی ہیں . ر کیے ذرا . ایک کام کرتے ہیں کچھ دن انتظار کرلیتے ہیں شائد سارہ کا دل بدل جائے گا اور راضی ہوجائے گی . اشہر خالہ کو سمجھانے لگے ۔
ٹھیک ہے اب آپ لوگ ہی اس پاگل لڑکی کو راضی کروگے آسیہ نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا 
اشہر اور ہما ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگے 
اندر روم میں بیٹھی ساره سب گفتگو گوش گزار کررہی تھی 
            *************
تجھ سے قربت تجھ سے دوری یہ عجب کھیل نرالہ ہے رنگین رندگی میں دیکھوں ہاتھ میرے کس رنگ کا پیالہ ہے .
میری وفا تیری انا یہ تو اصول محبت ہے
دیکھتے ہیں اس میں جیتا کون ہارا ہے .
   ا شہر اور ہما نیچے آگئے 
وہ دونوں بھی اپنی حد تک خاموش تھے ۔
پھر خاموشی کو توڑتے ہوئے ہما نے اشہر سے کہا ساره کو اپنا فیصلہ بدلنا ہوگا ۔
اشہر نے بھی اس کی طرف داری کرڈالی !
اب زارا کا بھی فرض ہے آنٹی کو سونچنے والی بات ہے ا شہر نے سنجیدگی سے کہا ،
ہاں ہما نے جواب دیا۔
(  جاری ہے)  (باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]