زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٣٦


ہما سالن زبردست ہے یار کھانے  سے من ہی نہیں بھرتا ، مگر کیا کریں ہاتھ کو روکنا ہی پڑے گا اور پھر زیادہ کھانے سے الگ پرابلم آج آپ زیاده پیار ڈال کر بنائی ہو کیا ؟
ویری اسمارٹ ! ہما مسکراتی ہوئی کہنے لگی ، یہ کرٌ ی سارہ دے گئی . 
او ہو سوری مجھے کیا پتہ اشہر شرمنده ہوتے ہوئے کہنے لگے 
ارے اس میں سوری کی کیا بات ہے . ہما محبت سے خفگی ظاہر کرنے لگی 
دراصل میں نے آپ کو بتایا نہیں ، آج تلاوت قرآن پاک میں میں وقت کا اندازه نہیں کرپائی اور آپ کے آنے کا وقت ہوگیا تھا ، جلدی سالن بنانے جارہی تھی ، تب ہی سارہ آگئی اچھا ا شہر غور سے سننے لگے .
مجھے جلدی میں دیکھ کر وہ سالن پرویڈ کردی اور کیا ، ہما نے تفصيل بتادی .
اب تعریف کا سارا کریڈیٹ ساره کو جا ئے گا ہے نا  ؛ہما نے سوالیہ انداز سے ا شہر کو دیکھا ،
ہاں ہاں بالکل وہ ہما کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوا اٹھ گیا ۔
ٹھیک ہے اب میں آفس کو جارہا ہوں اوکے اشہر جانے لگا .
ٹھیک ہے اوکے ہما بھی اسے وداع کرنے لگی ۔
         **********************
وہ آفس کو آ گیے اور آفس کے کام میں بزی ہوگے ۔
زیادہ ورک تھا ماشاء الله آفس بہت فیمس ہورہی تھی ہر طرف اشہر کے بہتر کام کے چرچے ہورہے تھے ۔ وہ بہت محنت اور دلجوئی سے کام کررہے تھے ۔ .
رات دیر گئے گھر آئے چونکہ آفس سے اٹا چ رہنے سے زیادہ پریشانی نہیں تھی ، سکون تھا۔
اثیر سوگئے کیا ؟ اشہر نے بیٹے کی گڑبڑ نہ ہونے سے پوچھ ڈالا 
               *************    
ہاں ! ہما نے سرسری سا جواب دیا۔
آج دیر کردی ، ہما نے پوچھ ڈالا ۔
ہاں بس کام زیاده تھا ، اشہر نے جواب دیا 
بور ہو رہی تھی کیا ؛ ا شہر نے جان بوجھ کر سوال کیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ ساره آئی تھی یا نہیں ،
ہاں ! اکیلی جو تھی ، ساره بھی اب زیادہ نہیں آتی 
کیوں ؟ اشہر نے سوال کیا 
پتہ نہیں بہت کم ہے انکی آمد اس بیچ ؛
اچھا ! آواز دیکر بلوالینا تھا ، اشہر نے اخلاقٌاکہا،
خیر چھوڑ یں چلئے ڈنر کرلیتے ہیں ،
ہاں او کے اشہر فرش اپ ہونے اٹھ گئے !
               *************
چند منٹ پیار محبت کی باتیں ہوگئیں پھر ہما نیند کی گہری وادی میں چلی گئی ،
اشہر کو نیند نہیں آرہی تھی ، بستر پر مسلنے میں کچھ وقت گزر گیا ،
یہ مجھے نیند کیوں نہیں آرہی وہ بے چین اور بے قرار سے ہو کر اٹھ بیٹھے ۔ آج تو زياده محنت لگی کام کا بوجھ زياده تھا زیادہ بر ڈن پڑنے کے باوجود تھکان نہیں ہوئی جو نیند کا غلبہ طاری نہیں ہوا 
باہر کتے بھوکنے کی آوازیں آرہی تھی ، وہ اٹھ کر ہال میں آگئے اور وال کلاک پر نظر ڈالی رات کے ڈھائی بج رہے تھے ،
                   ***************
ریموٹ کو تلاش کیا تا کہ ٹی وی کھول کر بیٹھ سکے . مگر نااُمیدی ہاتھ لگی ، پتہ نہیں اثیر کدھر رکھ چھوڑے ، خیر کچھ دیر ٹہل لیتا ہوں تاکہ سکون کی نیند کو لا سکوں ،
یہ سوچ کر ا شہر نے ٹہلنا شروع کردیا 
کھڑکی سے باہر ایک سایہ سا نظر آنے لگا 
اتنی رات گئے کون ہوسکتے ہیں ؟
وہ مینڈور اوپن کرکے باہر جھانکنے لگے .دیکھا
 بالکونی میں ساره ٹہل رہی تھی،
اتنی رات وہ یہاں کیا کررہی ہے .
کچھ دیر اسی طرح ا شہر نے   نظروں سےتعاقب کیا؛
پھر وه اندرچلی گئی ،
اشہر بھی روم میں آگئے ، اب تو چین کی نیند سونا ہے اس نیت سے بستر پر آگئے ،
                   *************
مگر مقصد میں ناکام ہو رہے ،
آنکھیں موندے موندے پڑے رہے شائد بند آنکھوں کے دھوکہ میں نیند آجائے ، وہ تو نہیں۔ آئی مگر یہ کیا پھر سے کوئی روبرو آگیا .
کون ہو بھائی ؟ ا شہر حیرانی سے پوچھ بیٹھے 
تمھارا ضمیر ! جواب آیا 
کیا چاہتے ہو ؟
میں تم جیسے خود غرض انسان کا ہونا نا پسند کرتا ہوں .
میں نے کیا خود غرضی برتی اور کس سے ؟
جب ساره تم سے محبت کر بیٹھی تھی تو تم نے اسے ٹھکرا دیا ، اور اب جبکہ تم اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے ہو تو وہ تمھیں اچھی لگنے لگی یہ خود غرضی نہیں تو اور کیا ہے ۔ .
اب اس میں میرا کیا دوش ہے دل کا قصور ہے ا شہر نے اپنی ساری غلطی کا الزام دل کے سر پر لگا دیا ،
ٹھیک ہے پھر تو یہ میری اور اس دل کی لڑائی ہے آپ برائے مہربانی بیچ میں مت آئیے گا اور دل کو میرے حوالے کر دیجے ؛ ضمیر نے اشہر کو آگاہ کیا !
دل نے ضمیر سے صاف کہہ دیا یہ محبت ، چاہت دل سے دل کا رشتہ ہوتا ہے ۔
اس پر کسی کا زور نہیں چلتا ..
یہ عشق ہے جس پر کسی کا زور نہیں سمجھے مسٹر ضمیر صاحب ،
اس حرکت کو اگر میں نے ملامت کیا تو وہ تمہیں کسی حال چھوڑنی پڑے گی ۔
اور میری عدالت میں ہر مقدمہ سچائی کے ساتھ فیصلے پر پہچتا ہے سمجھے میاں دل بے وقوف ،
اب آپ کی عدالت کا کیا فیصلہ ہے بتائے حاکم عدالت ؟ دل نے اپنے ہاتھوں مجبور ہو کر ہار مان لی اور فیصلہ ضمیر پر رکھ چھوڑا 
یہی کہ ا شہر ساره کا خیال تمہارے اندر سے نکال دے یعنی تخلیہ اور پھر کبھی اس طرف دھیان نہ دے ورنہ .... ورنہ کیا دل نے تعجب سے پوچھا ، ورنہ جو تذلیل ہوگی اس کا ذمہ دار اشہر ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ ہما سے بھی ازواجی رشتہ نا پائیدار ہو جائے گا اور ہر کوئی حقارت کی نگاہ سے نوازے گا .
اف اتنا برا انجام دل نے التجا کی۔
سنا تم نے اشہر ، اب آگے کے نتائج کے تم خود ذمہ دار ہو ۔
چلو اب سوجاؤ ....
اشہر اٹھ کر ٹھنڈی آہیں بھرنے لگے .. یا خدا یہ سب کیا ہے ، میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے . اب میں دل کا سنو یا ضمیر کا 
پانی پی کر وہ کروٹ بدل بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگے .
مگر نیند کا ستانا باقی رہا آخرکار اٹھ کر تہجد ادا کرکے چین کی نیند سو گے ۔
             ***********
محبت ، چاہت ، عشق کیا نام دے اس کے
 یہ تو نہیں کچھ اور ہی احساس ہے اس کے

خوب صورت تتلی جو رنگین ہے
اسی کے رنگ چرا کر وہ اڑتی ہے

   (جاری ہے.....)(  باقی آئندہ)  (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)







Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]