زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏۳٤

 
 اسلام عليكم :  آگئے آپ ! وعليكم السلام ہاں
 وہاں پر سب خریت ہے نا ہما نے اشہر سے سسرال کی خیریت معلوم کی ؛
ہاں ہما سب بفضل تعالی خیریت سے ہیں 
 وہ اثیر کو ہما کے حوالے کرتا ہوا بیٹھ گیا .
اب انگلی کا زخم کیسا ہے وہ ہما کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا .
ہاں کچھ زیادہ نہیں کم ہوگیا ؛
آپ دیکھتی نہیں بس اشہر محبت سے ہما کو تاکید کرنے لگا .
آپ ا کیلی ہی تھیں یا ...
ساره بھی نہیں آئیں آپ بھی چلے گئے میں اکیلی ہی لیٹی ہوئی تھی .
اچھا سوری دراصل میں تمھیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاه رہا تھا اس لیے اور اثیر بھی پریشان کریں گے یہ سوچ کر امی کے پاس چلا گیا۔
   اب چلو کہیں باہر چلتے ہیں ! اشہر نے محبت سے سرشار نظروں سے دیکھتا ہوا کہنے لگا ، ڈنر باہر ہی کرلیں گے ـ
 اچھا ٹھیک ہے بس دو منٹ میں تیار ہو جاؤں گی . ہما خوشی سے کہتی ہوئی اٹھ گئ .
 ارے اثیر آپ آگئے ساره چہکتی ہوئی نیچے آگئی ۔
ہما بھابھی آپ کہیں جارہی ہیں کیا ؟ ساره نے سوال کرڈالا ؟
ہاں ساره ہم باہر جارہے ہیں اگر آپ آنا پسند کریں گی تو آجائیے ہما نے اسے بھی آفر کیا :
اشہر کو بہت بہت غصہ آرہا تھا پر وہ برداشت کرتا ہوا دوسری طرف دیکھنے لگا . یہ ہما بھی عجیب دیوانی ہے کیا ضرورت ہے اسے ساتھ لے جانے کی . اف اب ایسے دیوانوں کو کون سمجھائے گا .
 ہاں بھابھی نیکی اور پوچھ پوچھ بس ابھی آئی ساره تیار ہونے چلی گئی .
 ہما آپ وہ کچھ اور کہتا ہما نے بات کاٹ کر کہنے لگی ہاں میں تو تیار ہوں بس دو منٹ ر کیے ساره بھی آرہی ہیں .
اچھا ٹھیک ہے میں گاڑی نکالتا ہوں اشہر بے دلی سے کہتا ہوا چلا گیا 
افو ! کیا بات ہے ساره ماشااللہ آپ تو کسی پری سے کم نہیں لگ رہی ہو ر کیے چند سناپ لیتی ہوں ہما بہت خوش تھی .
شکریہ بھابھی ساره جھینپتی ہوئی کھڑی ہوگئی ۔
 ہما چلتے ہیں اشہر ہما کو آواز دیتا ہوا اندر داخل ہوا بالکل مقابل میں ساره کھڑی تھی . یک لمحہ کو تو اس کے ہوش اڑ گئے وہ ششدر رہ گیا .
ساره مسکراتی ہوئی ادا سے اسے دیکھتی ہوئی عبایا پہنے نے لگی .
چلو ہما وه اثیر کو اٹھا لیتا ہوا باہر آگیا .
ہما اور ساره نقاب ڈالے اس کے پیچھے ہولیے ۔
 کینڈل ڈنر میں ہما ساره بازو بازو بیٹھے اور اشہر اثیر کو لیے مقابل میں بیٹھ گئے 
وہ ہاتھ تو چلارہی تھی پر نظریں ساری ا شہر پر رکی ہوئی تھی . ہلکے نیلے رنگ کے گون میں سچ مچ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ، اس نے عبایا پہن رکھا یہ بہت اچھا ہوا ورنہ ہر کسی کی نظر اسی پر ہوتی ۔ آج پہلی بار اس نے اشہر کے دل کو دھڑکا دیا .
اشہر ہما کو دیکھے جارہے تھے جو ہر نظر سے بے نیاز تھی .
 ساره کی نظر اشہر پر اور ا شہر کی نظر ہما پر 

 دل پھسل جائے کہیں ہاتھ سے پکڑ اے ناداں 
پھر تو بھی مکر جائے گا محبت کے وعدوں سے

 وہ سب ڈنر کرچکے تھے اور اب گھر کی طرف رواں دواں تھے ۔ واقعی زبردست ڈنر دیا آپ نے جزاک اللہ خیرا کثیرا ہما اشہر کو مشکور کن نظروں سے دیکھتی ہوئی زبان سے شکریہ ادا کرنے لگی ،
 ساره خاموش بیٹھی باہر کا نظاره د یکھ رہی تھی اور  دونوں کی باہمی گفتگو سے بے خبر تھی ۔
ارے سارہ آپ نے اپنا اوپینین نہیں بتایا ؟ آپ کو بورتو نہیں ہوا ؟ کھانا پسند آیا یا نہیں ؟ ہما نے یک ساتھ سارے سوالات کرڈالے 
جی .. جی بھابھی وہ خیالوں کی دنیا سے لوٹ کر حقیقت کی دنیا میں آگئی 
 آپ نے کچھ کہا ؟ نہیں ؟ ہما ہنسنے لگی، اور اشہر بھی مسکرادئے 
میڈیم آپ خیالوں کی دنیا میں ہیں ذرا ہماری طرف بھی توجہ کیجیے ہما نے آنکھ سے اشاره کیا ۔
ہم نے ڈنر کے بارے میں آپ کی رائے جاننے کی کوشش کی تھی جو لاحاصل رہی ـ
ارے نہیں بھابھی ویسی بات نہیں بہت اچھا تھا . مجھے بہت مزہ آیا وہ مسرور انداز سے کہہ رہی تھی پر دل سے نہیں صرف ظاہری طورپر جو کہ اشہر نے نوٹ کرلیا ۔
 تھینکس بھابھی آپ نے مجھے انویٹ کیا ، وہ اداس لہجہ سے گویا ہوئی 
 او منشن ناٹ سارہ ! ہما نے خوش دلی سے جواب دیا ! اور ویسے اپنے بھیا کا شکریہ ادا کرنا تھا آپ کیونکہ انھوں نے دیا نا ڈنر ؟
 ساره نے اشہر کی طرف دیکھا جو کہ گاڑی کو پوری توجیه کے ساتھ ڈرائیو کررہے تھے 
 تھینکس اے لاٹ۔ ! وہ خاموش رہا 
کسی کے شکریہ کا جواب دینا چاہئیے ہمااشہر کو ٹوکنے لگی .
ہاں ہاں ٹھیک ہے میں ذرا گاڑی کی طرف متوجہ ہوں .
 کوئی بات نہیں بھا بھی میں نے بھی تو ناپ تول کر شکریہ ادا کیا ہے ساره نے اپنی غلطی کو تسلیم کرلیا 
اشہر اس کی بات پر مسکراتے ہوئےدونوں کو دیکھنے لگے ۔
 یہ بے چینی ، یہ بے قراری، بے کلی اور اور نہ جانے کیسے کیسے فیلنگس آرہے ہیں مجھے ا شہر نے دل کو بہت سمجھایا مگر وہ اپنی ضد پر اڑا ہوا تھا 
نیند نہیں آرہی تھی وہ اٹھ کر ٹہلنے لگے ، پتہ نہیں اچھا خاصا تھا اب مجھے کیا ہوگیا ؟ اشہر خود سے ہی سوال کر بیٹھے ،
 زبردستی سونے کی کوشش کرنے لگے مگر ناامید ہو گئے .
 آنکھیں بند کرلی شائد آنکھوں میں چھپی اندهیری سے دھوکہ کھا کر نیند آجائے مگر بجائے نیند کے ایک اور اشہر آکر مقابل کھڑا ہوگیا اور مسکرانے لگا .
کون ہو تم اشہر نے سوال کیا ؟ تمہاری روح
کیا چاہتے ہو ؟ تم سے چند سوال کرنے ہیں 
کیا تم ساره کو چاہنے لگے ہو ؟
نہیں بالکل بھی نہیں
پھر یہ کیفیت کیوں طاری ہے ؟
مجھے بس نیند نہیں آرہی ہے
وہی تو ہما سکون کی نیند لے رہی ہے اور تم ؟
بس تھک گیا شائد 
یا کچھ اور ہے ؟
ایسی کوئی بات نہیں
ہے تب ہی تو نیند نہیں آرہی ہے
تمھیں کیسے پتہ ؟
کیونکہ میں تمھاری روح ہوں جو دل کے سارے حالات سے واقفیت رکھتی ہوں یہی نہیں تمھارے دماغ کے خیالات اور دل کے ارادے بھی مجھے معلوم ہے 
تو پھر سوال کیوں ؟
اس لئے کہ تم نے ساره کو برا بھلا کہا اور اب تم خود اس کے پیار میں گرفتار ہو گئے 
نہیں نہیں ایسا ہرگز بھی نہیں 
تو پھر نیند کیوں نہیں آتی ؟
ارے باربار وہی سوال کیوں دہرا رہی ہو ،
آج تمھارا دل زور سے دھڑکا ہے نا؟
ہاں .
ساره کو دیکھ کر ؟
ہاں مگر صرف ایک دفعہ ہی ـ
آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا 
تم ہما سے بے حد پیار کرتے ہونا ؟
ہاں !
پھر ساره ؟ ؟ ؟
اف میرا سر چکرا رہا ہے 
مجھے سونے دو پلیز 
اوکے اللہ حافظ 
اشہر پورے پیسنے میں شرابور ہوگئے اور اٹھ کر دو گلا س پانی بغیر سانس لیے پی گئے،

 تجھ سے کج خلقی پیش رکھوں گا
تجھ سے دوری بنائے رکھوں گا

ورنہ  رسوا جہاں میں تو اور میں
تجھ سے نفرت قائم ہی رکھوں گا .

(جاری ہے   ...) (باقی آئندہ )  (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]