زندگی کے رنگ قسط۳۳
ارے ساره آجاؤ ابھی آپ کا ہی ذکر ہورہا تھا ، ہمانے ساره کو آتے دیکھکر کہا !
شیطان کو یاد کیا اور وہ حاضر ہوگیا ! سارہ نے ہنستے ہوئے ہما کو دیکھا !
آپ اتنی اچھی ہیں اور خود کو شیطان کہتی ہو غلط بات ہے ! ہما ٹوکنے لگی ،
ٹھیک ہے بابا اب بتائیے کیا بات ہے سارہ بہت بے قرار تھی .
آسیہ آنٹی کہہ رہی تھی کہ آپ کو پرپوزل آیا ہے ،ہمانے سارہ کو اچٹتی نگاہ سے دیکھتے ہوئے پوچھ ڈالا .
ہاں آپ نے سچ ہی سنا ، ساره برا منہ بناتی ہوئی کہنے لگی ،
اشہر ٹی وی ہال میں بیٹھا ریموٹ سے چیانلس بدلتا ہوا دونوں کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو کو نوٹ کررہا تھا .
تو پھر اچھا رشتہ ہے تو ہاں کرنے میں آپ کو قباحت کیسی. ہما نے سمجھانے والے انداز میں کہا ،
پتہ نہیں بھابھی مجھے بس پسند نہیں ساره بے دلی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی .
ہما ميوه کاٹ رہی تھی اور ساتھ میں باتیں ہو رہی تھیں ،
ساره بھی اثیر کا ڈرس چینج کرتی ہوئی جواب دینے لگی .
اشہر کو ساره کا اس طرح سے جواب دینا ناگوار گزر رہا تھا لیکن وہ دو لیڈیز کے درمیان مداخت کرنا نہیں چاه رہا تھا .
دیکھو ساره ہر لڑکی شادی کے سہانے خواب اپنی پلکوں پر سجاتی ہے ، کیونکہ ایک نہ ایک دن اسے بیاہ کر اپنے پیا کے گھر جانا ہی پڑے گا ، آپ اچھے خاصے رشتے کو نفی میں جواب دیں گی تو اس سے اچھے کی اور امید کہاں سمجھنے کی بات ہے ناں
آپ کی بات بالکل سچ ہے بھا بھی سارہ نے اپنے خیال کو غلط کہا ،
تو پھر میں آسیہ آنٹی کو آپکی طرف سے " ہاں "کہہ دوں ،
اشہر کو بھی سکون مل گیا اس کی بات سے،
یہ سب تو ٹھیک ہے ہما بھا بھی پر مجھے .... پھر کیا ؟ ہما نے سوال کرڈالا .
شادی کے نام سے ڈر سا ہونے لگا ؛ ساره نے معصومیت سے کہا
ارے اس میں ڈرنے والی کونسی بات ہے .. ، ہما نے قہقہہ لگاتے ہوئے اشہر کی طرف دیکھا ، وہ بھی مسکرا رہا تھا ، اور ساره اثیر کو میک اپ کررہی تھی ، اور ساتھ میں ا شہر کی دلچپسی کو نظروں سےبھانپ رہی تھی ،
بھابھی جب بھی شادی کا نام سنتی ہوں .مجھے آپ کی شادی یاد آتی ہے سارہ نے صحیح موقع پر صحیح تیر مارا ،
ہما کی انگلی اچانک چاقو سے کٹ گئی اور خون نکلنا شروع ہوگیا ، ارے بھابھی وہ جلد ی سے اٹھ کر ہما کے قریب آگئی
اشہر دوڑتا ہوا ہما کے پاس آگیا ، کیا ہوا وہ حیران ہوگیا ،
کچھ نہیں وہ اشہر کو کہتی رہی آنکھوں میں آنسو تھے،
سارہ کی بات اشہر نے بھی سنی تھی اسے ساره پر بے تحاشہ غصہ آرہا تھا پر وہ ضبط کئے ہوئے تھا ،
آپ رکیے میں ابھی بینڈ ایڈلاتی ہوں .. ساره تیز تیز قدم ڈالتی ہوئی روم کی جا نب بڑھ گئی اور بینڈ ایڈ لے کر آئی ۔
اشہر کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا .
ارے بھابھی آپ بھی نا اتنی سی بات پر نروس ہوگئی ، ساره نے انجان بنتے ہوئے کہا
نہیں سارہ ایسی کوئی بات نہیں دراصل میرا د هيان دوسری طرف تھا ہما نے اثباتاً سر ہلایا .
ہما اٹھ کر تھوڑا آرام کرلو اور میں اثیر کو لیکر امی کے ہاں ہو آتا ہوں ، اشہر نے تاکید کی
جی ٹھیک ہے وہ اٹھ کر بیڈ روم کی جانب بڑھ گئی اور اشہر اثیر کو لیکر عاصمہ کے گھر چلا آیا اور ساره اوپر اپنے گھر چلی گئی .
اسلام عليكم امی ... وعليكم السلام جیتے رہو . عاصمہ نے جواباـً دعا بھی دے دی
بہت دن ہوئے ادھر کا رخ نہیں کیا ؟ عاصمہ نے بیٹے سے استفسار کیا۔
ہاں امی بس ایسے ہی اشہر نے خاموشی سے کہا .
کیا بات ہے تم کچھ پریشان لگ رہے ہو عاصمہ نے بیٹے سے دوبارہ سوال کرڈالا ؟
آج اسے ماں کی گود میں سر رکھ کر جی بھر رونے کو دل کررہا تھا پر وہ مجبور تھا ، ماں نے اس سے فاصلہ جو بنائے رکھا تھا
کچھ نہیں امی ذرا ورک زیاده ہوگیا اس لئے اشہر نے جھوٹ کہہ دیا۔
مجھے تو آسیہ کا مکان صحیح نہیں لگ رہا ہے تم کچھ بھی سمجھو ۔ عاصمہ نے بیٹے کو دوبارہ یاد کروایا ،
ردا کہاں ہے ؟ ا شہر نے عاصمہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بہن کے بارے میں دریافت کیا ،
وه اس کی ساس کی طبعیت ناساز ہے اس لئے گئی ہوئی ہے عاصمہ نے جواب دیا .
اچھا بزنس کیسا چل رہا ہے امی وہ ماں سے زیادہ قریب ہونا چاہ رہا تھا ،
عاصمہ بیٹے کے سوال پر شرمنده ہوتی ہوئی ، کہنے لگی مجھے بھی اس بارے میں تم سے بات کرنی تھی .
کیوں کیا بات ہوگئی امی ؟ ا شہر نے ماں سے دریافت کیا !
شرجیل کو سارا بزنس سونپنا میرا غلط فیصلہ تھا بیٹے ! عاصمہ نے دھیمی آواز میں کہا :
آپ مجھے کھل کر بتائیں گئیں تو کچھ معلوم ہوگا امی ! اشہر نے ماں کو آگاه کیا ،
درا کی قسمت ہی خراب ہے ؛ عاصمہ نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بیٹے کو دیکھا ،
آپ قسمت تک نہ جائیں ابھی اسکا بھائی زنده ہے وہ اکیلی نہیں ہے امی : اشہر ماں کی آہوں سے پریشان ہوتا ہوا پرجوش انداز سے کہنے لگا .
اب دیکھونا بیٹے ! شادی ہوئی اور پہلن لڑکی ہوگی شرجیل کو گھر جمائی بنائی تھی پر اس نے دوست کے حوالے کرکے بزنس سارا لاس میں کردیا اور اب بھائی باہر سے آکر وہاں کے بزنس پر سارا قبضہ جما لیا . عاصمہ نے درد مندانہ انداز سے سارا دھکڑا اشہر کو کہہ سنایا۔
میں تو آپ سے پہلے ہی کہتا رہا پر آپ نے بیٹی کی محبت میں کچھ سونچا ہی نہیں اور سارا بزنس شرجیل کے حوالے کردیا . وہ اس فیلڈ میں نا تجربہ کار ہے امی اب جو ہوا سو ہوا اب ایک کام کرتے ہیں سارا بزنس آپ کے نام کروا دیتا ہوں ا شہر ماں کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا کہنے لگا .
اس سے کیا ہوگا ا شہر ؟ عاصمہ نے پوچھا
شرجیل کو یہاں کی آس نہیں رہے گی اور اپنے والد کے بزنس کی طرف توجہ کرلیں گے. سب سٹ ہو جائے گا . اشہر نے تفصیل سے بتایا
مگر وہ لوگ ردا کو کچھ .....
کچھ نہیں ہوگا ر دا کو ہم ہیں نا ! اشہر نے ماں کو تسلی دی
اور میکے کا حصہ کہیں نہیں جایگا اس کا اشہر نے سکون سے کہہ دیا .
ٹھیک ہے بیٹے پھر یہ کام جلدی سے کرڈالو . عاصمہ اضطراری کیفیت سے دوچار ہوتی ہوئی کہنےلگی
آپ مطمئن رہیں میں کل ہی اس کام کو انجام تک پہچاؤ نگا اشہر بھی مطمئن ہوگیا۔
اثیر کو یہیں پر چھوڑ جاؤ عاصمہ نے کہا
نہیں امی وہ ماں کے بغیر نہیں سوتا ، میں اسے کل دوباره لاؤنگا ؛ اچھا ٹھیک ہے .
کبھی دھوپ کبھی چھاؤں بن کر آ جاتی ہو
ماں میں نے تیرے کسی رنگ کو سمجھا نہیں
ممتا لٹاکر ر لا دیتی ہو اور حکم چلا کر ڈرا دیتی ہو
نرالے تیرے رنگ ہیں زندگی نے سمجھ نہ پائے !
( جاری ہے .).( باقی آئندہ ) ( تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)