زندگی کے رنگ ‏قسط ‏٤٨


امی آپ اور پاپا نے اتنا جلد فیصلہ کیسے لے لیا ، ساره رونے لگی . مگر بیٹی کسی دن تو یہ ہونا ہی تھا ، کب تک ٹا لتے رہوگی ، میں نے اس بارے میں ابھی کوئی مصمم ارادہ نہیں کیا ساره نے جواب دیا تو اب کرلو اس میں قباحت کیا ہے ، رشتہ اچھا ہے لوگ اچھے ہیں اور اپنے خاندان کے ہیں ہمارے معیار پر پورا اتر تے ہیں ، سب میں بڑی اور اہم بات ، بس کریں امی وہ ہاتھ کے اشارے سے ماں کو آگے کہنے سے روک دی۔ میں پاپا کے بزنس کو پکڑے ہوئے ہوں وہ کون دیکھے گا ؟ وہی تو میری پوری بات تم نے سنی کہاں لڑکا گھر جمائی بننے تیار ہے ، کیا ؟؟ ہاں اس لئے تمھارے پاپا بھی راضی ہیں اس رشتے سے اور دیکھو ساره اب انھیں کوئی دکھ نہ دینا تم پڑھی لکھی اور سمجھ دار قابل فہم ہو آگے تمھاری مرضی ... آسیہ بیگم  آنکھوں میں آئے آنسو کو ڈوپٹے سے صاف کرتے ہوئے ساره کے کمرے سے باہر نکل گئیں ۔
         **********************************

  وه پلنگ پر گرکر زارو قطار رونے لگی ، یا اللہ یہ مجھے ہو کیا گیا ہے ، مجھے صبر دے میرے مولا ، کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر پانی پینے لگی ، اس کا دل چیخ چیخ کر اس سے مخاطب تھا پاگل ہوگئی ہو ساره کیونکہself Love کے چکر میں سب کو پریشان کررکھا ہے ، وہ تو ا سیا خیال اور گمان نہیں رکھتا تمہارے تعلق سے اور تم اس کے لئے اپنی خود کی زندگی بربار کر تو رہی ہو ساتھ میں ماں باپ کو الگ الجھن میں پھنسا کر رکھ دیا۔ یہ تو دینداری نہیں ہے اور اس میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں کچھ حاصل نہیں فضول کے وقت کی بربادی اور بدنامی ہے ۔
تمھیں اپنا فیصلہ بدلنا ہی ہوگا اور ثقلین کے رشتہ کو قبول کرنا ہی پڑے گا ۔
وہ گلاس کا سارا پانی بغیر وقفہ کے ایک سانس میں اندر اتارنے لگی ۔ اور دل کے فیصلے کو نظر انداز کرتی ہوئی لیٹ گئ ۔ 
فیصلے تو اہم ہوتے ہیں اس طرح سے اچانک نہیں کئے جاتے اور غلط فیصلوں کے نشاں زندگیوں میں دیر پا تک قائم رہتے ہیں ، اسے ایسا محسوس ہورہا تھا مانو جیسے اس کا ذہن مفلوج ہوگیا ہو وہ ایک زنده لاش کی طرح خود کو محسوس کرنے لگی ۔ زندگی اپنا ایک الگ اور انوکھا رنگ لیے رواں دواں تھی یہ اچانک سے کس نے اس کی زندگی کو منتشر کردیا . وہ خودی سے نیند کا بہانا کرنے لگی ، مجھے تو نیند آرہی ہے مجھے تو سو جانا چاہیے بعد کی بات سب اس نے یہ سونچ کر آنکھیں بند کرلی۔ مجال ہے جو نیند آجائے بجائے اس کے الٹا انا پ شناپ سے خیالات آکر ستانے لگے۔
خود اسکا ضمیر اس سے سوال کرنے لگا . یہ یکطرفہ محبت کے چکر میں کیوں برباد ہو رہی ہو اور ہما کو اگر تیرے بد ارادوں کا پتہ چلے گا تو جتنی بلند نظری تیرے بارے میں اس نے قائم کی ہے اسی قدر پستی میں تجھے گرادے گی اس کی نظریں ! تو ہما کی نظروں میں تذلیل کیوں ہونا چاه رہی ہے .
تجھے اشہر سے بے انتہا محبت ہے ؛ تو اسکے گھر کو کیوں اجاڑنا اور آگ لگانا چاه رہی ہے کیا محبت ایسی ہوتی ہے ؟ اس کو چاہت کہتے ہیں ؟ یہ ہے تیرا عشق لازوال ؟ ... نہیں نہیں نہیں بالکل بھی نہیں وہ بستر سے جھٹ اٹھ بیٹھی اور دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپا کر رونے لگی 
میں کسی کا کوئی نقصان ہونے نہیں دوں گی میں امی پاپا کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردوں گی ، میری آرزوئیں ، تمنائیں ، خواہشات ، چاہتیں سب کچھ ان ماں باپ کی خاطر دل کے کسی گوشے میں دفن کردونگی جنھوں نے مجھے اس خوب صورت اور رنگین دنیا میں لایا اور پرورش کی اپنی نیندیں اڑا کر مجھے سلایا اور ساتھ ہی ساتھ میں اس شخص کی خوش رنگ اور ہنستی  کھیلتی زندگی میں دخل انداز نہیں ہونگی وہ ہمیشہ خوش رہے بس میری یہی آرزو ہے تمنا ہے دعا ہے ، اسکی چاہت ایک سراب تھا میں دوڑی پانی سمجھ کر ـ

       ********************************
 اگر میں   شادی نہ کرنے کا فیصلہ پاپا کو بتاؤں گی تو پتہ نہیں ان پر کیا گزرے گی . امی مجھے کبھی معاف نہیں کریں گئیں اور زارا وہ گھر کی  ساری ذمہ داری مجھے سونپ کر گئی ہے اگر اسے میرے بارے میں معلوم ہو جائے گا تو وہاں وہ پریشان ہوجائے گی ۔
اف خدا ! یہ کیسی امتحان کی گھڑی ہے مجھے سیدھا راستہ دکھا میرے آقا ؛ میں بہت کشمکش میں مبتلا ہوگئی ہوں . میں تو کسی کو کوئی تکلیف دنیا نہیں چاہتی ! بس میری دنیا میں نے آباد کررکھی  ہے۔ میری خوشی کے رنگ اس کا خیال ہی ہے ، اس کا تصور ہے اور اس کی ہر چھوٹی بڑی خوشی ہے ، اس کے لئے میں نے اپنی زندگی قربان کرنے کا سونچا تھا . اس کو پانے کی تو میں نے چاه اپنے دل سے ہٹادی ،  اسے دیکھ کر اپنے دل کو سمجھاتی رہی ! اب ثقلین رضا میری زندگی کے ایک نئے رنگ بن کر ابھرنےوالے ہیں ، ان تمام خوب صورت رنگوں والی دنیا کا کیا کروں جو میں نے بڑی چاه سے رنگین کرکے سجا رکھی ہے ـ
 جو بھی ہو دنيا میں ماں باپ بہت بڑی نعمت ہے انھیں کھوکر ہم زندگی میں کبھی سکھ چین سے اور خوش نہیں رہ سکتے ، انکی رضا میں ہی رضاالہی شامل ہے ، انھیں ناراض کرکے میں اپنے رب کو ناراض نہیں کرسکتی ، يارب مجھے میری خوشی سے زیادہ تیری رضا ضروری ہے ۔

  اے نیند اب تو آ جا تو نہ ستا
میرے ادھورے سپنے ہی پورے کرجا
اکتو ہی راز دار میری ، سکھی میری
اس کی یادوں کو خیالوں کومٹا کر جا ۔
  کاش وقت تھم جاتا ، کاش یہ محبت نہ ہوتی، کاش میں ایسے ہی تنہا رہ جاتی ، مگر حقیقت کا سامنا کرنا ضروری اور لازمی ہے اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا 
۔ نہیں کوئی اور بہانا خود سے بچنے کا 
، اب وقت آگیا ہے امتحان دینے کا ۔
  پر کیا میں ثقلین رضا کے ساتھ انصاف کرپاؤ نگی . کیا ہمارا رشتہ پائیدار رہے گا کیا میں اس شخص کے ساتھ حقوق زوج نبھا سکوں گی۔
 ان سوالوں کے جواب اس کے پاس موجود نہیں ہے شائد ۔ 
    
               ***************************
   مجھے یہ رشتہ منظور ہے امی ! مبارک ہو بیٹی ماں نے اسے گلے سے لگالیا ، دو دن بعد منگنی تھی ، وہ ظاہری خوشی سے ہر کام میں ہاتھ بٹا رہی تھی ، اُدھر ہما ابھی ہسپٹل میں ہی تھی ادھر سارہ کی منگنی طے ہوگئی۔ عاصمہ عرشیہ اور اختر بیگم سب آگئے۔
ثقلین رضا آسیہ کے خا لہ زاد بھائی تھے ۔ اس لئے سب بہنوں اور محمود صاحب اختر بیگم کو بہت پسند تھا یہ رشتہ ۔
  ساره سادگی سے منگنی کی رسم کرنے کا اصرار کررہی تھی ۔ مگر معز صاحب زارا کی طرح اس کا بھی ہر کاج خواہش کے مطابق پورا کرنے کا سوچ رہے تھے ۔
  اشہر کو ساره کے رشتہ کے بارے میں بتایا گیا وہ ظاہری طور پر بہت خوش ہوگئے۔ چلئے آنٹی کوئی تو پسند آگیا سارہ کو - اب آپ کاٹینشن سارا ختم ہو جائے گا، ہاں بیٹے تم سچ کہتے ہو ، الله کا بڑا احسان ہوا ہم پر، 

 دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

  کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمين تو کہیں آسماں نہیں ملتا

 کیا خوب کہا شعراء نے بھی وہ دل ہی دل میں کہتے ہوئے سارہ کے تصور کو باہر نکانے کی سعی کرنے لگے۔
اور ویسے بھی میرے جذبات میرے اپنے ہیں اس پر صرف اور صرف میرا اختیار رہے گا کسی کا زور نہیں ـ اس نے اظہار کردیا اور میں نے چپ سادھ لی ورنہ دونوں کی رسوائی ہوجاتی ۔ 
 ضروری نہیں کہ  ہمارے تمام تر خواہشات اور جذبات ہمارے منصوبے کے تحت کامیاب ہوں۔
ناکامی بھی ہمارے لئے کامیابی کی کرن بن کر آ سکتی ہے اور  قدرت کے ہر فیصلے میں خیر کا معاملہ چھپا رہتا ہمیں اسے مقدم رکھنا لازمی ہے ۔

 جس طرح سے میں نے زندگی کو سمجھوتے کے رنگ میں ڈھالا ہے وہ بھی اسی رنگ میں رنگ رہی ہے ۔ بس یہی ہے حقیقی معنوں میں زندگی کے رنگ، جہاں ہر رشتے کی قدر و قیمت برقرار رکھی جائے اور رشتوں کو بکھرنے سے بچایا جائے ، کمزور رشتوں کو پائیدار بنایا جائے، اور نئے رشتوں کو خوش دلی سے اپنی زندگی کے دھنک میں ایک رنگ کے طور پر خوش آمدید کہے ۔
یہ زندگی کے رنگ کبھی پھیکے نہیں پڑ سکتے، چاہے کوئی طوفانی بارش ہو، یا باد مخالف آجائے اس کی رنگت ویسی ہی برقرار رہے گی۔
 دل بسمل ذرا قرار لے  دھڑکنوں کا نہ حساب لے

    اس کی محبت پاک ہے اور میں پاکیزہ محبت کو سر آنکھوں پر رکھ کر اس کی تعظیم کروں گا ۔

                 ************************
  وه ہر طرح کے تناؤ سے ہٹ کر اپنے والدین کی خوشی اور مسرت کا لحاظ کرتے ہوئے خود کو ہر کام میں مسرور دکھائی دینے لگی ۔
 آفرین آفریں واه کتنی خوب صورت اور پیاری لگ رہی ہے میری گڑیا آسیہ بیگم نے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے کہنے لگی ۔ واقعی جو نکھار سارہ کے چہرے پر آیا وہ دیکھ کر ہر کوئی عش عش کرنے لگا ۔
بہت لکی ہیں ثقلین رضا ردا نے سارہ کے کاندھے کو زور سے دھکا مار کر ہنستے ہوئے کہنے لگی ۔
ہاں واقعی بہت نہیں بہت زیادہ عرشیہ آنٹی بھی تائید کرنے لگیں .
وہ مسکرا کر رہ گئی ؛ کاش یہ دل نہ ہوتا اس کے نخرے نہ ہوتے ، بس خدا یا اس کی ہر خوشی پوری کر جس نے مجھے دل میں محبت جیسے پاک جذبے کو فروغ دیا ۔ اب یہ ساری چاہتیں کسی اور کے لئے ہیں ۔
   مانو جیسے مجھے کچھ ہوگیا ! پتہ نہیں کیا ہوگیا ! میں ایسے بے چین کیوں ہوئے جارہا ہوں ؟ مجھے دعوت سے یہ وحشت سی کیوں ہونے لگی ؟ يا الله یہ کیا ہوگیا مجھے ، وہ اثیر کو لے کر عاصمہ کے پاس آگئے ، امی آپ اثیر کو رکھ لیں میں ہسپتال جارہا ہوں ۔ ٹھیک ہے بیٹے تم جاکر آؤ ، جاؤ بیٹا دادی جان کے پاس اشہر نے لاڈ سے اثیر کو عاصمہ کے گود میں دینے لگے ۔ نہیں پاپا ہم آنی کے پاس جائیں گے وہ ساره کی طرف اشاره کرنے لگا ۔
ا شہر کو اسٹیج کی طرف نگاه ڈالنے کی ہمت نہیں ہوپارہی تھی.
پلیز پا پا چلئے وہ ضد کرنے لگے ہاں بیٹا ٹھیک ہے ا شہر نے ہمت کرکے اس کی طرف نظر دوڑائی ، ماشاء اللہ ، بہت خوب !    ناممکن ہے بیاں کرنا تیرا حسن .. اے قاتل حسینہ تیرا ہر انداز نرالا ہے ۔ ا شہر پر بجلی سی گر پڑی ساره کے حسن کی ، ایک عجیب سی کشش ہے یار تمھارے مکھڑے کی ، یا اللہ مجھے بہکا رہا ہے اس کا حسین چہره ، میرے ایمان کو ڈولنے سے بچا ، میری معصوم ہما سے میں بے وفائی نہیں کرسکتا .
 اثیر پر ساره کی نظر پڑ گئی اور اس نے عفانہ کو کہا کہ جاکر اثیر کو لے  کر آ ئے ،
اثیر نے ا شہر کے ساتھ جانے کی ضد لگارکھی 
اشہر نے تیز ہوتی دھڑکنوں کو قابو میں رکھتے ہوئے ماں سے محو گفتگو ہوگئے۔ نہ دیکھ مڑکر تو اسے کہیں راز دل فاش نہ ہو جائے ، رسوا تو نہ کر اسے اب وہ تیری کچھ نہیں لگتی ، آخر کو بچے کے ساتھ و اسٹیج پر چڑھ گئے ، اور پستہ کلر کے غرارے میں ملبوس ساره کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اتارنے لگے .وہ ا شہر کے جذبات سے بے خبر تھی ۔
اسلام عليكم وہ قریب تر تھی ، وعلیکم السلام اشہر نے  جواب دیا ، آئیے اثیر ہم یہاں بیٹھتے ہیں ۔ اس نے بچے کو اپنے قریب لے لیا  ۔

              **************************

( جاری ہے ...... )(باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]