زندگی کے رنگ قسط ٤٦
اشہر کے آتے ہی آسیہ بیگم بھانجے سے لپٹ کر ہے اختیار رونے لگی ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا آنٹی آپ بس اطمينان رکھیے اور سارہ مجھے ڈاکٹر صاحب کے پاس لے چلو ! اشہر نے خالہ کو چیر پر بیٹھاتے ہوئے ساره سے کہنے لگے ۔
ہاں جلدی جاؤ بیٹی پھر کہیں دیر نہ ہو جائے آسیہ ساره سے کہنے لگیں ۔
ڈاکٹر نعمان نے سارے ضروری کاغذات پر اشہر کے دستخط لیے اور اس کے بعد ساره کو بھی کرنے کو کہا ، ساره کا ہاتھ دستخط کرتے ہوئے کانپ رہا تھا ، وہ رورہی تھی ،
سارہ پلیز ! اشہر نے اشاره کیا ، الله پر بھروسہ رکھو ساره ؛ اشہر نے دوبارہ کہا وہ روے جارہی تھی اور سائن کرنے سے ڈر رہی تھی آخر کو اشہر نے اس کے کانپتے ہاتھ پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھ دیا ۔
خود کو نہ سمجھ تنہا تو کبھی
تیرے چاہنے والے ابھی زندہ ہیں
تیری خاموش چاہت کا اتنا تو حق ہے
میں دور ہوں تو کیا دل تیرے پاس ہے
وہ اس کے ہاتھ کی گرم لمس کو محسوس کرتی ہوئی سائن کرنے لگی ۔
راہیں جدا جدا ہیں اپنی
تم کیوں منزل میری بنتے ہو
نہ دو آس کسی تشنگی کی پھر
میرے لب تر ہونے کو ترستے ہیں
اشہر اور ساره آسیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئے،
تم جانا چاہو تو جاسکتے ہو بیٹا وہاں ہما پریشان ہو جائیں گئیں آسیہ نے اشہر سے کہا۔
جی آنٹی میں ہما کو کال کرکے ابھی کہے دیتا ہوں کہ میں یہاں ہوں ،
نہیں .... ساره نے اچانک سے کہہ دیا ، بھا بھی کو کچھ نہ بتائیں وہ اچانک اس طرح کی نیوز سن کر پریشان ہو جائیں گئیں اور وہ ہائی بی۔ پی پیشنٹ ہیں ، پلیز ؛
ٹھیک ہے میں خود جا کر آجاؤں گا پہلے آپریشن تو ہونے دیں۔ ا شہر نے ساره کی بات کو مانتے ہوئے کہا ۔
اچھا بیٹا جو مناسب سمجھو ! آسیہ بیگم نے ٹھنڈی آه بھرتے ہوئے کہا ۔
**********************************
مبارک ہو! آپریشن کامیاب ہوگیا؛ مسلسل پانچ گھنٹوں کا رہا اور اب مریض آوٹ آف ڈینجرس ہے خطرہ ٹل گیا ہے الله کا بڑا احسان ہے! ڈاکٹر نعمان آپریشن تھیٹر سے باہر آکر اشہر سے مصافحہ کرتے ہوئے تفصیل دینے لگے ۔
جی ؛ بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب ا شہر نے مخلصانہ انداز میں کہا ۔
شکر تو پاک پروردگار کا ادا کریں کے اس نے صحیح وقت پر یہاں بھیج دیا ورنہ مشکل ہو جاتی ، ڈاکٹر نعمان نے کہا ۔
ہاں ڈاکٹر صاحب میری بیٹی نے ہی یہ فیصلہ لیا تھا ۔
آسیہ نے ساره کی طرف اشاره کرتے ہوئے کہا ۔
گڈ ! ڈاکٹر نعمان نے مسکراتے ہوئے ساره کو سراہا۔
آنٹی اب میں جاکر آتا ہوں اشہر نے اجازت طلب کی ، ہاں بیٹا جاکر آجاؤ بیگم معز نے اجازت دی۔
وہ ساره کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا ،
ساره اس سے نظریں چرا نے لگی ۔ اس میں اسے دیکھنے کی ہمت نہیں رہی۔
********************************
زارا اور فہد کو اطلاع ملتے ہی دوڑے دوڑے چلے آئے ، اور زارا ماں سے لپٹ کر بے اختیار رونے لگی ، امی پاپا کو اچانک یہ کیا ہوگیا وہ ماں سے کہے جاتی اور روتی جاتی ساره نے اسے سنبھالا ورنہ وہ اسی طرح زارو قطار روتی رہتی. زارا چپ ہو جاؤ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہوا کہ پاپا اب ٹھیک ہے ورنہ کچھ بھی ہوسکتا تھا ساره نے اسے سمجھایا ، ہاں بیٹی دیدی سچ کہہ رہی ہے . آسیہ نے بھی بیٹی کو سمجھایا۔
عاصمہ اور عرشیہ اور انکے شوہر مجاہد سب یکے بعد دیگرے آنے شروع ہوگئے .
ڈاکٹر نعمان نے اشہر کو اپنے کیا بن میں بلوایا ، چونکہ وہ ہما کے پاس گئے ہوئے تھے اس لیے ساره وہاں چلی گئی ،
کیا میں اندر آسکتی ہوں ڈاکٹر صاحب ساره نے اجازت طلب کی
ہاں ہاں ضرور آئیے ! ڈاکٹر نعمان نےمخلصانہ انداز میں اسے اجازت دیتے ہوئے کہا۔
بیٹھیے ! انھوں نے چیر کی طرف اشاره کیا
آپ کو کچھ اہم ہدایات دینی ہیں اور چند اہم باتیں شیئر کرنی ہیں !
جی ڈاکٹر صاحب ! ایک منٹ میرے انکل بھی باہر موجود ہیں انھیں بلوالتی ہوں ہاں ٹھیک ہے اور آپ کے شوہر کو بھی بلوائے جی .... میرا مطلب ہے مسٹر اشہر ! جی وہ ابھی نہیں ہے ! کوئی بات نہیں ،
وہ باہر آگئی اور دھڑکتے دل کو قابو میں کرنے لگی ، مجاہد انکل کو ساتھ میں لے کر اس نے دوبارہ اندر کا رخ کیا ۔
دیکھیے اب مریض کی حالت پہلے کی طرح فٹ نہیں رہے گی اس لیے جہاں تک ہو سکے احتیاط برتنی لازمی ہے ، زیادہ چکنانی والی غذا اور گوشت وغیره زیادہ استعمال میں نہ لائیں مین لی ورک ہارڈ نہیں کرسکتے ، آرام زیادہ کرنا پڑے گا اور زیادہ اسٹرس سے گریز کرنی ہوگی ۔
جی ڈاکٹر صاحب ہم پوری طرح سے پاپا کو کیر لیں گے ۔ انشاء الله ساره نے اعتماد کے ساتھ کہا ہاں ڈاکٹر صاحب بالکل ایسا ہی کریں گے مجاہد نے بھی اپنی رائے دی ۔
اب تو ای ۔ سی ۔ یو میں ہیں اور دوچار گھنٹے لگے نگے اس کے بعد وارڈ میں منتقل کیا جائے گا انشاء اللہ ۔ تب تک آپ لوگ دعا کیجیے پیشینٹ کی بہتری کے لیے، جی ! ساره نے آنکھوں میں آنسو لیے ڈاکٹر نعمان کو دیکھنے لگی ۔
گھبرائیے نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ ڈاکٹر نعمان نے دلاسہ دیتے ہوئے ساره کی طرف دیکھا ۔ جی وہ سر کو مثبت انداز میں جنبش دینے لگی ۔
اب آپ لوگ جاسکتے ہیں ،
جی بہت شکریہ صاحب مجاہد انکل نے مصافحہ کرتے ہوئے باہر نکل آئے اور ساره بھی پیچھے پیچھے چلی آئی
امی میں امریکہ نہیں جاؤنگی مجھے ڈر لگ رہا ہے زارا نے روتے ہوئے ماں سے کہا !
نہیں بیٹی تم بے فکر ہوکر جاؤ الله بہت بڑا ہے اب پاپا کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے ؛ آسیہ نے بیٹی کو شفقت سے سمجھایا ؛
*************************************
زارا کو وداع کرنے کے لئے سارہ ، اشہر اور عفانہ اور مجاہد صاحب چلے گئے ـ وہ بہت اداس تھی پر جانا بھی ضروری تھا ، اسے سب سے وداع ہونے کا بہت دکھ تھا ، آنکھوں سے آنسو رواں تھے تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ، فہد اسے قابو میں لانے کی کوشش کررہے تھے ، وہ چشم تر لیے ساره کے قریب آگئی ، دیدی ! اب آپ ہی امی پاپا کے بیٹا اور بیٹی دونوں ہیں ! میں نے تو پاپا کو الوداع کہنے سے بھی گریز کیا کہیں انھیں کچھ تکلیف نہ ہو جائے ، دل پر پتھر رکھ کر آپ سب سے وداع لے رہی ہوں دیدی خیال کر لیجیے اپنا اور امی پاپا کا وہ اپنا ہاتھ ساره کے ہاتھ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہنے لگی ،
ہاں زارا تو اطمینان سے جانا یہاں سب بہتر ہی ہوگا انشاء اللہ ہم سب ہیں نا بس دعا کرو کہ الله ہر مشکل آسان کردے ۔
اشہر بھیا آپ تو ہمارے قریب ہیں ہماری فیملی کے بارے میں تھوڑی سی فکر کرلیں کبھی کبھار وہ اشہر سے روتے ہوئے کہنے لگی ، پگلی میں تو ہمیشہ سے ہی سب کے ساتھ ہوں . اشہر زارا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے ۔ اور ساتھ میں فہد سے بغل گیر ہوگئے ۔
سب کی آنکھوں میں آنسو بھر کر وہ سب کی اپنی ، سب کی چہتی زارا شگاگو کو روانہ ہوگئی ، پر نم آنکھوں سے سب نے اسے الوداع کہہ دیا ۔
***********************************
معز صاحب کو گھر منتقل کیا گیا ۔ ادھر ہما کی ڈیلیوری کے دن قریب آگئے اور اشہر کو ٹینشن ہو رہا تھا . ، اسے ہما کی زیاده فکر ہو رہی تھی ،
سارہ بھی اپنے والد کی تیمار داری میں مصروف ہوگئی اور آسیہ بیگم بھی آئے دنگھر میں قرآن خوانی اور درودشریف کا دستر اور غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے کا اہتمام کرنے لگیں ، تاکہ خاوند کو جلد از جلد محت یابی کی بازیابی ہوسکے اور ہر آنے والی بلا ٹل جائے ۔ اور پھر اب پہلے جیسا کام بھی معز صاحب کو نہیں کرنا چاہیے تھا ، لہذا وہ اب ساره کو بزنس کے تعلق سے ساری معلومات بتانے لگے ، تاکہ آئندہ وہ سارے بزنس کو سنبھا ل سکے۔
جس بات کی ساره نے خود سے خواہش ظاہر کی تھی الله تعالی نے اسے عطا کیا۔ اور خود بخود اسباب بناکر سامنے لایا ، وه تو اس طرح سے بزنس میں انٹری نہیں چاہ رہی تھی مگر قدرت کو جو منظور ہے وہ ہوکر ہی رہے گا ،
وہ ایک سمندر کی طرح تھی جوخود میں خاموش اور موجو ں کی روانی میں مگن بہتے رہتا اسے اب کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی اسے صرف اور صرف اس کے پاپا کی اور ماں کی فکر تھی۔ کیونکہ دونوں اس کے لئے بہت اہم تھے ہر رشتہ سے اعلیٰ تھے اور ان کے لئے وہ ہر ہر کام کرنے کو تیار تھی چاہے اسے آئے یا نہ آئے بس اس نے اراده کرلیا کہ اسے اب شادی نہیں کرنی ہے ماں باپ کے ساتھ زندگی بیتانی ہے۔ چاہے کوئی کچھ کہے اسکی پرواہ کئے بغیر ۔
منزلیں يوں نہیں حاصل ہوتیں ہر کس کو
راستے سنگلاخ جو خوشی سے طے کئے ہونگے
ہما نے معز صاحب کو دیکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ! ویسے معز صاحب کو نیچے دوسری طرف موجود ڈرائنگ روم میں ہی رکھا گیا تھا ، اب ہما کو بھی آسانی ہوگئی؛ ا شہر نے حامی بھرلی اور ہما کو لیکر آئے ، آسیہ بیگم نے ڈھیر ساری دعائیں دی اور بہت ہی احیتاط برتا ہما کے معاملے میں ، ساره نے خوشی ظاہر کی کہ ایسی حالت میں بھی وہ رشتہ بنها رہی ہے ـ
***************************
( جاری ہے......) (باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)