زندگی کے رنگ قسط ٤٥
زارا شکاگو کے لئے روانہ ہورہی ہے اس کے سسرال والوں کو ضیافت کا انتظام کیا گیا ، آسیہ کے گھر میں کافی گھما گھمی کا ماحول چھایا ہوا تھا ،
سارہ کے ساتھ سارے افراد خانہ ان مصروف تھے ، وہ ہما کے ہاں بھی نہ جاسکی اور اثیر کو بھی آج نہ لاسکی .
ہما کی ڈیلوری بھی قریب آرہی تھی ، وہ زياده بیڈ رسٹ پر تھی ، دو دو ملازموں کے کام کرنے کے باوجود ہما کو تشفی حاصل نہ ہوتی تھی ۔ وہ خود سے کچھ نہ کچھ کر جاتی ۔
اشہر نے ہما کو میکے چھوڑ آنے کا ارادہ کیا تاکہ آرام سے ره سکے اور ماں کی سنگت بھی رہے گی ۔ اشہر اور ایثر زیاده تر ادھر ہی رہ جاتے ، آج تو آسیہ آنٹی کے ہاں دعوت ہے کل صبح چھوڑ آؤں گا ؛ اشہر نے خود ہی ٹھان لیا ۔
بہت ہی سنجیده طبیعت کے مالک ہیں زارا کے خاوند ، عاصمہ جو ڈنر پر آئی ہوئی تھیں ، آسیہ سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، ہاں آپا آپ نے بجا فرمایا . مجھے تو ایسے ہی نوجوان پسند ہیں عرشیہ نے بھی اپنی رائۓ دے ڈالی ،
آنٹی اب آپ عفانہ کے لئے ایسے ہی نوجوان کی تلاش شروع کردیں ۔ ساره نے خالہ کو مذاق میں کہہ دیا ،
تو پہلے اپنی فکر کر بعد کو عفانہ سمجھی عرشیہ نے آنکھ نکال کر گھورتے ہوئے بھانجی کو ڈانٹ نے والے اندازہ میں کہا ۔
*******************************
امی پاپا اور دیدی ائر پورٹ آئیں گے نا مجھے وداع کرنے ؟ زارا نے سوال کیا ،
ہاں ہاں کیوں نہیں بیٹی ہم سب ضرور آئیں گے آسیہ نے بیٹی کو تسلی بخش جواب دیتے ہوئے کہا ،
ایک ہفتہ بعد ہے نا تم ٹینشن مت لو آسیہ دوبارہ گویا ہوئیں
جی امی ! زارا نے مسکراتے ہوئے ماں کو دیکھا ،
میں زرا ہما بھابھی سے ملنا چاه رہی تھی . آپ آئیے نا دیدی زارا نے رکوسٹ کی ، ہاں چلے جانا دونوں آسیہ بیگم نے اجازت دی ۔
اسلام علیکم بھابھی ! ارے وعليكم السلام زارا آئیے ! ہما نے زارا کا خوش دلی سے استقبال کیا ، اور ساره صاحبہ آپ تو بہت بزی ہو گئیں ہمیں اور اثیر کو بھول ہی گئیں وہ ساره سے شکایت کرنے لگی ، بھا بھی آپ بھی نا ساره مسکرادی ۔
اب طبیعت کیسی ہے آپ کی زارا نے سوال کیا ؟ الله کا بڑا فضل ہے الحمد اللہ ہما نے جواب دیا،
اور اطلاعاً عرض ہے کہ ہم کل اپنے میکہ روانہ ہونے والے ہیں ، کیوں ؟ ساره نے سوال کیا ، آپ کے بھیا کا فیصلہ ہے ہماری کیا مجال وه مسکراتی ہوئی کہنے لگی ، دراصل مجھے اور زیاده آرامی مہیا کرنے کے لئے انھوں نے یہ فیصلہ لیا ،
اچھا ساره نے سنجیدگی سے جواب دیا .
اور زارا کب ہے روانگی ؟
بس ایک ہفتہ بعد بھابھی زارا نے اثیر کو گود میں لیتے ہوئے کہا ،
ٹھیک ہے بھا بھی اپنا خیال رکھیے گا اور بھیا کہاں ہے ؟ زارا نے اٹھتے ہوئے سوال کیا ،
پتہ نہیں وہ بھی اٹھنے لگی ارے بھابھی آپ آرام کیجیے ہم چلتے ہيں دونوں ا ثیر کو ساتھ میں لے کر جانے لگیں ۔
*********************
دوسرے دن ناشتہ کرکے ہما اپنے میکے جانے کی تیاری کرنے لگی ، رات عاصمہ نے بیٹے کے گھر ہی بیتائی تھی ،ملازمہ کی مدد سے ضروری اشیاء اور کپڑے وغیره سب رکھ لیے تھے ، چونکہ اوپر چڑھ کر جا نہیں سکتی تھی ۔ اس لئے آسیہ اور سارہ بھی نیچے ہی آگئے ،
سب سے وداع لے کر وہ انکھوں میں آنسو لئیے جانے لگی ، اشہر پہلے سے ہی گاڑی میں موجود تھے ، اثیر کو بیٹھا لیا تھا ، ہما نے جاتے جاتے ساره کے گلے لگ کر رو دیا ، بھا بھی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں ، بے فکر ہو کر جائیے الله سب بہتر کردیگا ، ساره نے اسے سمجھایا ، ہاں سارہ وہ بڑا نگران کار ہے بس میرے! اشہر اور اثیر کا خیال رکھنا دونوں بھی بچوں کی طرح لاپرواہ ہیں ، وہ مسکراتی ہوئی ساره سے کہنے لگی ، ہاں بھابھی میں پوری کوشش کرونگی ساره نے ہاتھ میں ہاتھ دیکر کہا .
ا شہر گاڑی میں بیٹھے ساره اور ہما کو دیکھ رہے تھے ، اس سے پہلے کہ کچھ احساسات جاگ جاتے وہ اپنے دل کو دوسری طرف موڑ دینا چاه رے تھے ، اثیر کو باہر کا نظاره دیکھانے لگے ، اور عاصمہ نے بھی بہو کو ڈھیر ساری دعائيں دی اور نصیحت کرتے ہوئے وداع کرنے لگی ،
ساره کی آنکھ بھر آئی پر وہ ضبط کرتی ہوئی خود کو سنبھال رہی تھی ۔
میں آجایا کرونگی بھابھی کبھی کبھار خیر خیریت دریافت کرنے کے لئے وہ دلاسہ دیتی ہوئی کہنے لگی۔
ہاں ساره مجھے بہت سکون نصیب ہوگا اگر آپ آئیں گی تو ہما نے بھی خوشی ظاہر کی۔
اچھا الله حافظ سب اپنی دعاوں میں مجھے یاد رکھیے! ہما نے سب سے مصافحہ کرتے ہوئے وداع لیا ۔
*************************
اُدھر زارا چلی گئی اور ادھر ہما بھی اپنے میکے چلی گئی ، ساره اکیلی ہوگئی ،
امی جی ! ایک بات کہنی تھی آپ سے ساره نے آسیہ بیگم کے پیر دباتے ہوئے ایک رات آہستگی سے بات چھیٹر دی.
ہاں بیٹی کہو کیا بات ہے ؛ آسیہ نے بیٹی کو جواب دیا
اب پا پا کو بزنس میں کسی ماتحت کی ضرورت ہے میں سونچ رہی تھی کہ میں بزنس میں پاپا کی ہلپ کرلوں ۔ مجھے بھی بور نہیں ہوگا اور پاپا کو بھی ریلکزیشن رہے گا اگر آپ اجازت دیں تو میں پاپا کوکنونس کرلونگی.
ساره نے اپنی بات ختم کرکے ماں کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھا ،
تمھارا مطلب ہے تم بزنس کروگی ؟ آسیہ نے راست پوچھ ڈالا ۔
جی بس کچھ ویسے ہی سمجھ لیجیے ساره نے مودبانہ طور پر جواب دیا ۔
مگر سارہ لڑکیاں بزنس کرنا کس حد تک صحیح ہے بیٹی ؟ آسیہ نے ساره سے سوال کرڈالا ،
اب ہمیں کوئی بھائی نہیں ہے نا ورنہ وہی سب سنبهال لیتا ، ساره نے ماں کو جواب دیا ،
دیکھو اب تمھیں بھی بیاه کر دوسرے گھر جانا ہے ، کب تک تم یہاں رہو گی ، مانا کہ تمھیں وہ رشتے پسند نہیں تھے ، اب اگر کوئی رشتہ آجائے تو پھر تم بھی چلی جاو گی ، آسیہ نے بیٹی کو سمجھایا ۔
تب تک تو میں کچھ کرسکتی ہوں آپ کیوں ایسا کہہ رہی ہیں ساره ضد کرتے ہوئے ماں کو منانے لگی ۔
ٹھیک ہے اپنے پاپا سے بات کرلو اگر وہ راضی ہوگئے تو مجھے کیا اعتراض ہوگا ، آسیہ نے بیٹی سے ہار مان کر مسکراتے ہوئے جواب دیا .
اوہو امی تھینک یو ویری مچ ! میں کل ہی پاپا سے بات کرونگی سارہ خوشی سے کہنے لگی۔
اب جاؤ اپنے کمرے میں اور سوجاؤ جی امی !وه وہاں سے نکل گئی۔
*********************
وہ بستر پر لیٹ گئی اور پلان کرنے لگی کے کس طرح سے اپنے والد کو منانا ہے ، کس طرح سے پہل کرے اور پھر پا پا اس سے راضی بھی ہو جائے اور بات مان بھی لے ـ کیونکہ اس کی عادت رہی کہ وہ ہر کام سب کی رضا مندی سے ہی کرتی ہمیشہ سے ،
زندگی میں انسان کو خود کو مصروف رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ خالی دماغ شیطان کا کارخانہ جیسے مماثل ہے۔ اسے ہمیشہ سے ہی خود کو بزی رکھنے کی عادت رہی وہ اگر کالج نہ جاپاتی تو گھر کی صفائی ملازموں کے ساتھ ملکر کر لیتی ، اور ہر روز بغیر تلاوت قرآن پاک کے سوتی نہیں ، ہر کسی کی مدد کو آگے آتی ، بالکل سادگی پسند تھی ، غرور تکبر اس میں نہیں ، سامنے والے کو تکلیف دینا اسے کبھی گوارا نہیں ، یہاں تک کہ اپنی محبت کو قبول کرنے کے لئے اس نے اشہر کے ساتھ کبھی زبردستی نہیں کی ، بس اس کی دنیا ہی الگ ، وہ دنیا سے ہی مختلف ..
وہ لیٹے لیٹے خیالوں میں گم ہوگئی اسے اچانک سے اشہر کی یاد ستانے لگی . حالانکہ وہ صبح ہی اسے دیکھی تھی پتہ نہیں دل کیوں بے چین اور بے قرار سا ہورہا تھا ، دل کو بہلانے کے لئے اس نے ادھر ادھر کی مختلف سونچوں کو اپنے دائرے خیال میں لاکھڑا کیا ، مگر وہ بے کار اور بے مقصد ہی ثابت ہوا ، اسے تو ایک لت سی لگ چکی تھی محبت کی ، اب بھلا اس سے چھٹکارا کیسے ممکن ہو سکتا ، بہت ہی احتیاط اور انتھک کوشش سے اس سے چھٹکارا مل سکے گا ، مگر انسان کو جب کسی چیز کی لت لگ جاتی ہے وہ اس میں آگے ہی بڑھتے جائے گا، محتاط نہیں ہوگا ۔
یہی حال ساره کا ہو چکا تھا . اس نے اپنے دل کو کئی کئی بار آگاه کررکھا تھا کہ یہ ناممکن فعل ہے مگر دل ہے کہ مانتا نہیں ، اس نے وقت دیکھا رات کے کوئی تین بج رہے تھے ، اب تو نیند لینا ضروری ہے یہ خیال کرکے سوگئی ، کوئی آدھا گھنٹہ گزرا ہوگا پاپا کے کھا سنے کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی وہ اٹھ کر سیدھا ماں کے کمرے کی طرف بڑھی ، دیکھا اندر لائٹ آن تھی ، ڈور کو ناک کیا ، ہاں بیٹی آجاؤ ماں نے آواز دی وہ جلدی سے اندر کی جانب بڑھ گئی دیکھا پاپا بے چین ہو رہے تھے ، پانی کا گلاس ماں کے ہاتھ میں موجود تھا کیا بات ہے پاپا آپ کچھ بے چین نظر آرہے ہیں اس نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ہاں بیٹی سینے میں جلن سی ہورہی ہے پتہ نہیں کیوں بڑا درد سا محسوس ہورہا ہے معز صاحب نے بیٹی سے کہا ، آپ رکیے میں ڈاکٹر کو کال لگا کر آتی ہوں ہاں یہ ٹھیک رہے گا وه جلدی سے آکر اپنے کمرے سے موبائل لے گئی اور کال کرکے ڈاکٹر سے بات کرنے لگی ، ڈاکٹر صاحب نے فوراً دواخانے سے رجوع ہونے کو کہا ۔ اور ایمبولنس کو بھی روانہ کردیا . ساره آسیہ اور معز صاحب تینوں ہاسپٹل کے لئے نکل گئے .
**********************************
ایمرجنسی بلاگ میں چیک اپ کو لے جایا گیا ، سارےٹسٹس کرنے کے بعد اوپن ہارٹ سرجری کرنا ضروری ہے کہا گیا ، آسیہ بیگم تو رونے لگیں ، ساره نے ہمت سے کام لیا ، ڈاکٹر نعمان نے ساره سے تفصیلی بات کرنے کے بعد کسی مرد آدمی کو بلوانے کے لئے کہا تاکہ آپریشن کی تیاری شروع کی جاسکے اور کاغذات پر دستخط لیے جائیں ۔
ساره نے ماں کے قریب آکر روتی ہوئی ماں کے آنکھوں سے آنسو پونچے اور ڈاکٹر نعمان کی ہدايات ساری کہہ دی ۔ اب کون آئے گا بیٹی فہد تو داماد ہے اور وہ بھی کل جارہے ہیں انھیں اس وقت کیسے بلواتے ہیں ، زارا بھی پریشان ہو جائے گی ۔
ہاں امی مگر حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور کون ہے جو اس وقت یہاں آکر ہماری مدد کرے آپ ہی بتائیے . اس کے بھی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔
آسیہ نے بیٹی سے کہا تم ذرا اشہر کو کال لگاؤ شائد وہ آجائے اور ہاں اس سے کہنا کہ ساتھ میں رقم بھی لائے ہم گھر جاکر دے دینگے ۔
جی وہ کچھ تردد کے بعد اشہر کو کال کرگئی ، فجر کی اذان کو چند منٹ باقی ره گئے تھے ۔
ہیلو: ا شہر کی آواز نے اسے بے اختیار رلا دیا وہ رونے
لگی ،
تیری آواز نے چند سانسیں بخشی
ورنہ میری تو جان نکلنے والی تھی
سارہ محالف سے اشہر بے اختیار کہہ اٹھے
جی وہ پاپا کو ہارٹ ایٹک ہوا ہے ہم یہاں ہاسپٹل میں ہیں ، ساره نے آہستگی سے کہا ،
کیا ؟؟ ا شہر کی نیند پوری اڑ گئی وہ یک دم سیدھے ہو کر بیڈ سے اٹھ بیٹھے
جی وہ اچانک پاپا کی طبیعت بگڑ گئی تھی ، یہاں لایا گیا ، ساره نے رونی آواز میں کہنا شروع کیا ،
اچھا میں ابھی آرہا ہوں آپ لوگ پریشان مت ہوئیے . اشہر نے ہمت باندهی ۔ کونساہاسپٹل ؟
کیر بنجارہ ہلز، اوکے اشہر نے جواب دیا ۔
جی وہ امی نے ساتھ میں رقم لانے کو کہا ہے ۔
ہاں ہاں سب ٹھیک ہو جائے گا تم پریشان مت ہو میں بس ابھی نکل ہی رہا ہوں .
کسی کی بات ہی جینے کا حوصلہ دیتی ہے
وہ اگر پاس آ جائے تو زندگی سنور جاتی ہے
جی اللہ حافظ وہ فون کاٹ کر ماں کے پاس آگئی اور بازو میں بیٹھی رہی دونوں اشہر کا انتظار کرنے لگیں
*******************
( جاری ہے.....) (باقی آئندہ)۔ ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
۔