زندگی کے رنگ ‏قسط ‏٣٢

 
ہما ناشتہ کرکے گھر چلتے ہیں ، کیوں کیا ہو گیا ؟ہمانے تعجب سے پوچھا کچھ نہیں یار بس مجھے دل نہیں لگتا اور کیا ، ٹھیک ہے جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی کرونگی ؛ گڈ . وه فجر میں کہہ کر لیٹ گیا کیونکہ رات بھر سویا نہیں تھا ہما ناشتہ تیار کرنے چلی گئی وہ کچھ دیر ریلکس ہونا چاہ رہا تھا .

 محبت وه نہیں جو غرض سے کی جائے

محبت وه نہیں جو وقتی طور پر کی جائے

محبت وه نہیں جو اپنے مفاد کے لیے کی جائے

محبت وہ نہیں جو ضد پر کی جائے

محبت وہ نہیں جو دکھاوے کے لئے کی جائے

محبت وه نہیں جو دوسروں کو ایذا رسانی کرنے کے لئے کی جائے

محبت وہ نہیں جو زبردستی کی جائے

محبت وہ نہیں جو ظاہری حسن سے کی جائے

محبت وہ نہیں جو آزمانے کے لئےکی جائے

  محبت ایک پاکیزه جذبہ ہے جو ہر دل میں موجود ہے شرط یہ ہے کہ کون اس احساس کو سمجھ پاتا ہے ، محبت صرف اور صرف دو روحوں کا ملن ہوتا ہے
نہ اس میں کوئی شک نہ گمان اور نہ ہی کوئی ہے تکی تکرار . اور سب میں خاص یہ کہ محبت ہو جاتی ہے کی  نہیں  جاتی، اگر محبت کو کرنا پڑتا تو ہر کوئی ایک دوسرے سے محبت ہی کرتا نفرت نہیں کرتا،  جس سے محبت ہوگی اسکی ہر ادا اچھی لگے گی اسکا ہر انداز پیارا لگے گا ہزاروں میں الگ لگے گا ، وہ خاص بن کر رہے گا . اس کے لئے ہر قدم پر ہر شئے قربان کرنے کو دل کرے گا ، یہ جذبہ بہت ہی قیمتی ہوتا ہے .

 وہ سونے کی نیت سے لیٹا تھا پر خیالات نے اس کی آنکھوں سے نیند چھین لی اور وہ خاموش آنکھیں موندے پڑا رہا بازو میں اثیر کو سوتا دیکھتا رہا۔

  کتنا خوب صورت ہوتا ہے یہ دور انسان کو کسی قسم کی کوئی پریشانی ، دقت ، ذمہ داری نہیں ہوتی ، نہ ر شتوں کا احساس نہ انہیں نبھانے کی ذمہ داری ، نہ کام کا بوجھ اور نہ ہی کوئی ٹینشن ، اپنی دنیا میں مگن مست قلندر ہر آنکھ کے تارے سب کے پیارے وہ اثیر کا سر سہلاتے ہوئے سونچنے لگا . سچ انسان کو اللہ تعالٰی اسی طرح کی زندگی ہمیشہ کے لئے مہیا کرتا تو سب طرف بے فکری ہو جاتی .

 چلئے ناشتہ ریڈی ہے ہما روم میں داخل ہوتی ہوئی کہنے لگی ، ہاں آپ جاؤ میں آتا ہوں وہ بھی واش روم کی جانب بڑھتا ہوا کہنے لگا ، 

آپ نے یہ اچانک سے فیصلہ کیوں لے لیا ، کس بات کا وہ انجان بنتا ہوا پوچھنے لگا . یہی کہ گھر جانے کا ،

آپکو یہاں رہنا دل کررہا ہے کیا؟ وہ الٹا سوال کر بیٹھا .
نہیں ایسی بات نہیں ؛

تو پھر چلتے ہیں نا ں ؟
ہاں ٹھیک ہے میں ابھی اثیر کو اٹھا کر فرش کرواتی ہوں .
اوکے وہ بھی وہیں صوفے پر بیٹھ گیا . 

   ارے ہما بھا بھی آپ اس طرح سے اچانک ؟
آپ تو کل آنے والی تھیں ناں !
سارہ نے ہما کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر یک ساتھ سوالات کرنے شروع کردیئے ،
 ہاں پر آپ کے بھیا نے آنے کو کہا ؛
اب لامحالہ آنا ہی پڑے گا ،
اچھا اشہر بھیا نے آنے کو کہا ...
سارہ طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر لیے کہنے لگی !
اور نہیں تو کیا خواه مخواه چلی گئی !
ہما نے منہ بناتے ہوئے کہا ،
خیر جانے دیجیے اب جو ہوا سو ہوا ؛
سارہ نے اطمينان سے کہا !
  اچھا بھابھی میں چلتی ہوں کچھ دیر بعد آونگی.

انکی آمد ہی ہماری زندگی کی بہار ہے
سمجھے ہمیں بھی کچھ وہ یہ خیال ہے

تلخ کلامی سے وہ یوں ہمیں ٹھکرا دیئے
ادا ان کی یہ دل میں ہمارے بسا دیئے

 سارہ اپنی خوش خیالی میں مست مگن گھر کی جانب چلی گئی

  اب تم ہی بتاؤ بیٹے یہ کیا حماقت ہے اس بچی کی ؟
آسیہ آنٹی نے اشہر سے پوچھا .
کس بات کی ؟
ا شہر نے سوال کر ڈالا .
ارے بہترین رشتہ آیا ہے اور یہ صاجزادی کو پسند نہیں،
آسیہ آنٹی نے بھانجے کو تفصیل بتائی 
اچھا سارہ کے لئے !
ہاں اور نہیں تو کیا ،
اب ہما اور تم دونوں مل کر اسے سمجھانا ،
آسیہ آنٹی حکم صادر کرتی ہوئی چلی گئی .

(جاری ہے) ( باقی آئندہ ) (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)


  

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]