زندگی کے رنگ ‏قسط ‏ ‏٤٤

              ***********************
پندره دن بعد ہما گھر لوٹ آئی. اس بیچ ا شہر نے ساره سے ایکاٌ دکاٌ مرتبہ ہی مدد لی ، اور وہ بھی اثیر کی خاطر ویسے وہ ساره سے دور ہی رہنا چاه رہے تماں کو گھر پر ڈراپ کرکے وہ خود گھر لوٹ آئے ،
اثیر کو لے کر خود آفس کو چلے آئےہاسپٹل پہنچ کر عاصمہ نے بہو سے بات چیت کی ،
اشہر مجھے ایک بات کا خیال آرہا ہے جی امی کہے ا شہر نے ماں سے پوچھا ،
ہما کو ایک تعوذ بندھوا تے ہیں . پتہ نہیں کوئی سایہ یا سپٹ ہوگیا ہو، عاصمہ نے فکر مند انداز سے کہا  ـ
امی ڈاکٹر صاحبہ نے خود کہا کہ کمزوری ہے اور آپ خواه مخواه کے دوسری طرف سونچ رہی ہیں ؛ ا شہر نے ماں کو دلاسہ دیا -
دیکھو بیٹے دوا کے ساتھ ساتھ دعا بھی ضروری ہے ، تم مت جانا میں خود جاکر لاتی ہوں عاصمہ نے پورے اعتقاد سے کہا ،
امی اگر ضرورت پیش آگئی تو میں آپ کو اطلاع دے دونگا اشہر نے ماں کا بهرم رکھا ـ
ٹھیک  ہے اب مجھے گھر چھوڑ آؤ عاصمہ نے بہو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ گئی ۔
ا شہر بھی ماں کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ۔

یا اللہ ہما کو صحت عطا فرما وه دعا کرنے لگے . پتہ نہیں ا شہر کے دل  کوآج عجیب وسوسوں نے کیوں آ گھیرا ۔ بے چینی و بے قراری سی چھائی ہوئی ہے و ہ ذہن کو دوسری طرف راغب کرنا چاه رہے تھے پر گھوم پھر کر پھر وہیں آجاتا ،
رات کافی ہو چکی تھی ، اشہر اثیر کو کھانا کھلانے کے لئے ساره کو دینا چاه رہے تھے لیکن دل گوارا نہیں کرپارہا تھا . کچھ دیر سونچ کر وہ خود کچن میں آئے اور پلیٹ میں چاول ڈال کر بچے کو خود اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگے۔
 پھر خود کھاکر اثیر کو لیکر سوگئے ، بچہ تو باپ کی آغوشِ میں سکون کی نیند سونے لگا۔ مگر ا شہر کو نیند کہاں آتی ۔ دهيان سارا ہما کی طرف ہی تھا ،
وہ بہت پریشان ہورہے تھے .
  رات کا تیسرا پہر تھا اشہر اٹھ کر تہجد ادا کرے ، اور خوب رورو کر دعا کرنے لگے ، وہ ہما کی صحت یابی کے لئے کائنات کے مالک سے گڑگڑا کر دعا مانگنے لگے۔
اور نہ جانے کیوں انھیں ایک خوف سا اپنے اوپر طاری ہوتا نظر آرہا تھا وہ خود کو ہما سے جدا ہونے کا خوف کھارہے تھے ، ره ره کر عجیب خیالات آرہے تھے کبھی خود کو ہما سے جدا اور کبھی ہما خود سے جدا ہونے کا ڈراؤنی خیال آرہا تھا . دل نے کہا ا شہر تم اتنے بزدل کب سے ہوگئے تم تو دوسروں کو زندگی کے ہر رنگ سے لطف اندوز ہونے کا مشوره دیتے تھے یہ آج تمھیں کیا ہو گیا . حالات سے اس قدر جلد ہار مان لیے

زندگی جینے کا درس دیتے رہے سب کو
آج خود ہی مرنے کا فیصلہ کر بیٹھے

پھر بستر پر آکر لیٹ گئے کچھ دیر بعد نیند لگ گئی فجر کی اذان کو آنکھ کھلی اور نماز ادا کرکے ناشتہ بنانے لگے۔ کیونکہ ہما کے پاس بھی جانا تھا .
              ************************
ھے ، انھوں نےسکون سے چلنے والی زندگی میں کوئی تناؤ لانا مناسب نہیں  سمجھا اور اپنے جذبات اور احساسات کو دل کے نیہاں خانوں میں بند کر کے رکھ دیا .
اب تو ہما گھر لوٹ آگئی وہ بہت پرسکون اور خوش تھے ، گھر کی عورت گھر میں رہے گی تو ایک رونق برقرار رہے گی ایک ہل چل ہوتی ہے اور ہر طرف گھر روشن نظر آتا ہے ۔
اشہر کو بھی ہما کے آنے سے ایسا ہی نظر آرہا تھا .
ہما نے آتے ہی شکرانے ادا کئے اور ملازمہ کو ساتھ میں لے کر صفائی شروع کردی.
ا شہر نے بہت ڈانٹ دیا اور ہر کام سے دور رہنے کا حکم صادر کردیا . اور صفائی کی نگرانی کے لئے ساره کی مدد لینے کا کہہ دیا ۔
سارہ بھی آکر سارے گھر کی ملازمہ کے سنگ مل کر صفائی کرڈالی ۔

میں کہاں دوراس سے کناره کش ہو جاؤ گی
اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھرتی جاؤ گی

اور باربار ہما کو آرام کرنے کا مشوره دیتی رہی .

        ************************
نہ چاه نہ محبت نہ نفرت نہ عداوت
بس یہ ایک الگ رنگ ہے میری زندگی کا

  اب دل میں کوئی فیلنگس کیوں نہیں ہیں کیا دل مر گیا ، یا ڈر گیا ؟ ساره نے گھر آکر دل سے سوال کرڈالا ، اس بے درد کا سامنا کرتی ہوں تو بھی نہ  زور سےدھڑکتا ہے اور نہ ہی دل میں امنگ پیدا ہوتی ہے اور نہ اس کی چاه جاگتی ہے اب یہ نیا ہی کھیل ہے زندگانی کا پہلے تو ایسا نہیں تھا ، اسے دیکھنے کی چاه ، پانے کی بے حد کوشش اور ملنے کی تڑپ ایک نظر ڈالنے کی حسرت اور وہ مجھے دیکھے یہ دعا یہ سب کہاں چلے گئے ؟ کیا خدا نے میرے دل سے اشہر کی محبت کو مٹادیا یا پھر یہ وقتیہ ہے یا پھر میری محبت میں سچائی نہیں ہے صرف وقت گزاری ہے یا یوں کہوں کہ صرف میں نے ہی اسے اپنی مشغولیات کے لئے چن لیا تھا ، کہیں میں نادانی تو نہ کر بیٹھی ،
اف مجھے چکر آرہی ہے یہ سب سونچ کر یا الله میری رہنمائی فرما وہ دعا کرتی ہوئی کچن کی جانب چلی گئی چائے پینے کی نیت سے ـ
     انسان کبھی اپنے سامنے گزرنے والے حالات سے اس قدر اپ سٹ ہوجاتا ہے کہ اسے اپنی حالت خود غیر ہوتی نظر آتی ہے ، اس کے اپنے دل کا برا حال ہوجاتا وہ کیا کرے کیا نہ کرے کچھ سمجھ نہیں پاتا ، ایسے میں اس کے اپنے فیلنگس ماند پڑ کر چہره فق ہو جاتا ہے کیونکہ سامنے کا سچویشن اسے اپنے جذبات و احساسات کو ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا . کچھ ایسے ہی حالات سے ساره کا دل بھی گزر رہا تھا . جو وہ پہچان  نہ سکی .
       
    ****************************
 محبت وہ ہی نہیں جو ہم کسی کو چاہے
محبت تو وہ بھی ہے کہ کوئی ہمیں چاہے
   
ہمارے لئے کسی کے دل میں کوئی خوب صورت جذبہ ہو خوب صورت خیال اور نیک گمان اور ہماری خوشی کے لئے تڑپ ہو . یہ محبت کا دوسرا رخ ہوتا ہے . یہ نہیں کہ دیوانوں کی طرح ہم ہی اپنی زندگی کی تمام تر رنگینیوں کو وفا کے نام پر وقف کردیں اور مخالف سے کوئی ردعمل نہ ہو تب پھر محبت کا حق ادا کہاں ہوگا ، دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہو یہ محبت ہے یک طرفہ محبت سے ہم اپنی خوشیاں ، سکھ چین سب لٹاکر آخر کو شکست کا داغ لیے لوگوں میں شرمنده ہونا پڑے گا ، نہ دل کو قرار اور نہ کچھ حاصل پھر ایسی محبت کرنے سے کیا ملے گا ،
  ساره کا ماننا ہے کہ اس کی محبت سچی ہے ـ اس کے خیال سے وہ کبھی نہ کبھی اشہر کو حاصل کر لے گی

میرا وعده ہے ، میری دنیا میں آباد ہے وہ
میری حیات میں میرے ساتھ  ساتھ ہے وہ


 . مگر کیا اشہر کے دل میں سارہ کو حاصل کرنے کا جذبہ موجود ہے ؟ یہ سوال سارہ کے دل نے کیا !

میں نے دبا رکھا ہے چاہتوں کو سبھی اپنی
اسکا ماننا ہے کہ اسے بھول گئی وقت کے ساتھ

 مجھے ا شہر کے دل کی حالت سے کوئی سروکار نہیں میں ہس اپنی چاہت کے تئیں مجبور ہوں ، ساره نے دل کو بہلایا۔
   اے دل زرا وفا نبھا تیرا امتحان ہے
 میری کامیابی ہی تیری فتح ہے

( جاری ہے)( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)


      

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]