زندگی کے رنگ قسط ٤٣
شادی کی گربڑ سب اختتام کو پہنچ گئی تھی ، ہر طرف راحت تھی . ساره کی زندگی بھی خاموش دریا کی طرح بہتی جاری تھی ، جس میں نہ کوئی تیز بہاؤ ، نہ ہی کوئی طوفان انگیزی اور نہ ہی کوئی لہروں کا کھیل ، وه وقت اور حالات کے ہاتھوں اپنی محبت کا فیصلہ سونپ چکی تھی ، کسی سے گلہ نہیں شکوہ یا شکایت نہیں اور نہ کسی پر زور زبردستی بس اپنی دل کی حالت کو خود ہی سنبھالے رکھی ہوئی تھی ، اور کہتی بھی تو کس سے ؟ کون ہے اس کا رازدار ؟ کون ہے ہمدرد ؛ ماں باپ پر اگر اس بات کا انکشاف ہوجائیگا تو اشہر کو مکان خالی کرنے کو کہیں نگے ، اور ہما وه تو کبھی برداشت نہیں کرسکتی اس طرح سے اس کی سونچ ہے اور وه اسی کے خوب صورت رنگین گلستاں کو آگ لگانے پر تلی ہوئی ہے اور پھراشہر پر بھی شک کرنے لگے گی جو اس معاملہ میں بری ہے اور بالکل مخالف ہے، اب آخر کو کون بچ پایا زارا ؟ نہیں زارا سے کبھی بھی اس بارے میں تذکره ہرگز بھی نہیں کرنا چاہیے ، وہاں سسرال والوں کا معاملہ رہتا ہے اور پھر میں زارا کی نظروں میں گرجاؤں گی ، اس لئے اپنے دل سے کہہ لینا اور پرودگار کو تو سارا علم ہے بس وہی میری الجھن کو دور کر دیگا ۔
***************************
اب وه زیاده ہما کے پاس بھی نہیں جاتی کہیں اشہر کا سامنا ہو جائے ! یہ خیال کر کے اور پھر وہ دل پر پتھر رکھے ہوئے تھی کہ خواہ مخواہ سے کوئی راز نہ کھل جائے اور ویسے بھی وہ ا شہر کو ٹینشن دینا گوارہ نہیں کر رہی تھی ، اثیر کو ہی اوپر لا لیتی اور دوپہر یا شام تک خود ہی سبنها لیتی ، اثیر سے اس کا لگاؤ کم نہیں ہو پا رہا تھا ، پتہ نہیں وہ اس کا اس قدر عادی کیوں ہوگیا کہ اگر وہ کسی دن نظر انداز بھی کردیتی تو وہ خود آجاتا ۔ اور وه بھی بے چین رہتی اثیر کے لئے
آنٹی آنٹی اشہر دوڑے جانے کی حد تک سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اوپر آگئے ، اور اوسان خطا ہوئے جارہے تھے ، آنٹی کہاں ہے وہ سارہ سے مخاطب تھے ، جی امی امی ساره کو کچھ سمجھائی نہیں دے رہا تھا . وہ صرف امی کہہ کر آواز لگا رہی تھی . آسیہ اندر آرام کررہی تھیں کیا ہوا بیٹی وہ وہ ارے کچھ بولے گی بھی یا اس سے پہلے کہ سارہ کچھ کہہ پاتی اشہر خود اندر تک آگئے
وہ ہما کی طبیعت بگڑ رہی ہے آپ جلدی چلئے ہاسپٹل جانا ہے ، اشہر کافی گھبرائے ہوئے تھے ،
ہاں ہاں تم پریشان مت ہو چلو میں آتی ہوں ، آسیہ جلدی سے اشہر کے ساتھ ہولی ،
ساره اثیر کو لیکر گھر پر ہی تھی .
ڈاکٹر رضوانہ نے ہما کا ایمرجنسی چیک اپ کیا اور کہنے لگیں ،
دیکھیئے اب ہما اپنے بارے میں زیاده سے زیادہ کیر لینی ہوگی وہ آسیہ سے مخاطب تھیں ، جی ! آسیہ نے کافی توجہ سے سنا ، انھیں چند دن ہم یہیں رکھتے ہیں ابزرویشن میں . ٹھیک ہے میڈیم آپ جو مناسب سمجھیں ویسا ہی کیجیے؛ آسیہ نے جواب دیا۔
*************************************
مگر بات کیا ہے ا شہر بہت پریشان تھے ، کچھ نہیں انتہائی کمزوری ہے میں نے پہلے ہی آگاه کردیا تھا کہ خون بہت کم ہے اور ہما نے ایزی لیا ، اب مہینے بڑھتے جارہے ہیں تو کمزوری آئے گی ہی نا ڈاکٹر رضوانہ نے ہما کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے کہنے لگیں .
اب خطرہ تو نہیں ہے نا میڈیم اشہر نے سوال کیا ۔
کچھ دن یہی پر ایڈمٹ رہیں نگی تو خطرہ ٹل جائے گا انشاء اللہ ، وه سمجھانے کے انداز میں گفتگو کررہی تھیں ،
ٹھیک ہے آپ جو صحیح سمجھیں وہی کیجیے اشہر نے بھی حامی بھرلی .
ہما میں تو ہر روز آجاؤں گا آپ پریشان مت ہونا ہاں جاکر روبینہ آنٹی کو لے آتا ہوں ، اشہر نے ہما کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا .
جی آپ امی کو لے آئیے اور ہاں ساره سے کہہ دیں وہ اثیر کو اور آپ کو ڈنر کرا دیں نگی ،
ہاں ٹھیک ہے آپ میری یا بچے کی فکر ہرگز بھی نہ کریں کیونکہ آپ کو رسٹ کی سخت ضرورت ہے ، سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء الله
آسیہ آنٹی تب تک یہاں رہیں نگیں جب تک میں روبینہ انٹی کو لے آتا ہوں .
اوکے الله حافظ
آنٹی آپ بیٹھے میں ہما کی امی کو لے آتا ہوں پھر ہم دونوں گھر چلتے ہیں .
ہاں یہ ٹھیک رہے گا جاؤ بیٹے جاکر آؤ ، آسیہ بیگم نے شفقت سے کہا ،
وہ سسرال کی طرف نکل گئے ، وہاں پہنچ کر روبینہ جو کہ ہما کی والدہ ہیں تیار تھیں ساتھ کار میں بیٹھا کر لایئے اور ا شہر نے راستے میں ساس سے ساری تفصیل بیان کی ۔
سب اچھا ہو جائے گا آپ فکر نہ کریں روبینہ نے بھی داماد کو سمجھایا ،
ہاسپٹل پہنچ کر وہ بیٹی کے قریب بیٹھ گئیں ،
ا شہر اور آسیہ دونوں گھر کے لئے روانہ ہوگئے ،
************************
وہ آسیہ کو گھر پر ڈراپ کر تے ہوئے عاصمہ کی طرف نکل گئے
اسلام علیکم امی : اشہر ماں کو سلام کرکے وہیں بازو میں بیٹھ گئے ۔
وعلیکم السلام : جیتے رہو ـ عاصمہ نے بیٹے کو دعا دیتے ہوئے دیکھنے لگیں ،
کیا بات ہے بیٹے تم پریشان نظر آرہے ہو .
وہ امی اسی سلسلے میں آیا ہوں اشہر نے ماں سے کہا
ہاں بتاؤ کیا بات ہے عاصمہ بھی دلچپسی سے پوچھنے لگیں .
ہما کو پا سپٹل میں جوائن کراکر آرہا ہوں ا شہر نے ماں کو وجہ بتائی۔
کیوں ؟ کیا ہوا؟ ہما کو وہ حیرت زده سی پوچھنے لگی .
کچھ نہیں ذرا سی کمزوری ہے خون کی کمی ہے اس لئے شائد آج اچانک کھڑی کھڑی چکرا کر گر پڑی . اشہر نے تفیصل بتائی
یا خدا عاصمہ نے فکرمند انداز سے بیٹے کو سنتے ہوئے کہا ،
وہ تو اچھا ہوا کہ جب ہی میں اندر آیا تھا ورنہ کوئی دیکھتا بھی نہیں اشہر نے دوباره ماں سے کہا ،
ہاں اور نہیں تو کیا ، عاصمہ نے شہ دی۔
آپ چلیں گئیں یا کل آجاؤں لینے کے لئے وہ ماں سے جواب کے طالب تھے ،
نہیں ابھی چلونگی ذرا دیکھ لیتی ہوں پھر کل تک مجھے چین کہاں عاصمہ محبت سے کہتی ہوئی اٹھ گئیں
درا اور ورده کہاں ہیں ؟ اشہر نے بہن کے بارے میں سوال کیا ،
وه شرجیل تفریح پر لے گئے ہیں کافی دیر ہوچکی اب واپس آتے ہی ہونگے عاصمہ نے جواب دیا۔
اچھا ٹھیک ہے سب خیریت ہے نا امی اشہر نے پوچھا
کہاں بیٹا شرجیل کو پتہ ہوگیا رجسڑیشن کے تعلق سے اس دن سے وہ مجھ سے کتراتے رہتے ہیں اور ورده کو بھی نظر انداز کررہے ہیں ، اور ردا ؟ اشہر نے پوچھا ،
تم چلو گاڑی میں سب بتا تی ہوں ، ہاں ٹھیک ہے چلئے
****************************
شرجیل کا کہنا ہے کہ اس بزنس کو سنبھالنے کے چکر میں وہ ان کے والد کے بزنس کو نظرانداز کرگئے اور اب بھیا یعنی شرجیل کے بڑے بھائی جو سعودی سے واپس آگئے ہیں انھوں نے سارا بزنس اپنے ہاتھ میں لے لیا ، لہذا میں ادھر کا رہا نہ اُدھر کا ایسا کہہ کر ہمیشہ چڑچڑ کرتے رہتے ہیں ، عاصمہ نے بیٹے سے سارا معاملہ کہا ،
ہوں ں .. دیکھتے ہیں آگے کیا ہوگا ، اشہر نے رفتار کو دھیمی کرتے ہوئے کہا ،
دیکھئے امی اب میں نے تو الگ اپنا بزنس شروع کرلیا ہے اور الحمد اللہ کافی فیمس بھی ہو رہا ہے ، اور الله کا بڑا کرم ہے کہ ہمیں الله تعالى نے کسی کا محتاج نہیں کیا اور پاپا کا بڑا احسان ہے جو اپنی زندگی میں ہی ہمیں ہر طرح کا سکھ اور آرام دے کر ہمیں ایک اچھی زندگی کے ساتھ ساتھ کافی جمع پونجی بھی ہمارے حوالے کر گئے، اشہر نے اپنے باپ کی دور اندیشی کو ماں کے سامنے سراہا
ہمیں کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے صرف جو ہے اسکی دیکھ بھال ٹھیک ٹھاک کرلينی ہے تا کہ ہماری آئندہ کی نسلوں کے لۓ یہ قائم ودائم رہ سکے۔
اگر ہم لاپرواہی برت کر اس بزنس کو نقصان اور گھاٹے کی چوکھٹ پر لا کھڑا کردیں نگے تو پھر مارکٹ میں دوسرے ابھر کر آجائیں گے ۔ اس لئے ہر وقت چوکنا رہنا ضروری ہے اور محنت زیادہ کرنی پڑے گی ۔ اشہر نے ماں کو دھیرے سے کہا .
ہاں پر اب مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے عاصمہ نے بیٹے سے کہا ؛
آپ ایک کام کیجے گاہے بہ گاہے بزنس کی خبر گیری کرتے رہیے تاکہ سب سٹ رائٹ رہ سکے ورنہ لاپرواہی سے ہونے والے نقصانات کے ہم خود ذمہ دار رہیں گئے .
مجھے یہ سب کہاں تجربہ ہے اشہر وہ نادانی سے کہنے لگی ۔
ہر چیز کرتے رہنے سے تجربہ آیگا امی صرف کہنے سے نہیں آپ کو اور ایک بیٹا نہیں ہے ورنہ وہی دیکھ رکھ کرتا آپ کو اس میدان میں آنے کی ضرورت نہیں پڑتی ، اشہر گمبھیر تا سے کہنے لگے۔
اس میں ماں کو اشاره بھی تھا کہ آپ نے مجھے بے گھر کرکے غلط کیا ! جو کہ عاصمہ نے محسوس کرلیا تھا۔
************************
(جاری ہے ۔۔۔۔۔۔ ) (باقی آئندہ۔) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)