زندگی ‏کے رنگ ‏ ‏قسط٤٢


فنکشن ہال مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا . وہ سیدھا زارا کے پاس چلی گئی ، زارا بہت خوش تھی اس نے فہد جو زارا کا شریک سفر ہے بہت تعریف کردی  ۔
دیدی میں سچ میں بہت لکی ہوں فہد بہت بہت اچھے ہیں ، وہ فہد کی زیادہ تعریف کرنا چاه رہی تھی پر الفاظ نہیں مل پارہے تھے 
میں سمجھ گئی زارا آپ کیا کہنا چاه رہی ہو ساره نے مسکراتے ہوئے بہن کے ہاتھ کو دھیرے سے دبوچ لیا ، بس الله کرے آپ دونوں میں تاحیات ایسی ہی محبت قائم رہے ، ساره نے دعا دی اور زارا نے آمین کہا ،
اور بتاؤ سب کیسے ہیں سب اچھے ہیں دیدی زارا نے بہت خوشی سے بتایا 
دیدی جب آپ اس رشتے سے انکار کر بیٹھی تو امی پاپا بہت اب سٹ ہوگئے تھے ، ان کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ ڈی سیشن لیا تھا . دل میں ایک قسم کی ہول ، اور خوف طاری سا تھا ، پتہ نہیں میرا یہ فیصلہ صحیح ثابت ہوگا بھی کہ نہیں ،
مگر میرا الله بڑا کریم ہے اس نے تو میرے فیصلے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ لکھ دیا تھا ، دیدی ايسا لگتا مانو جیسے فہد کو الله تعالی نے میرے لئے ہی بنایا ، اس لئے بھی شائد آپ انکار کر گئی . زارا اپنی ہی دھن میں کہے جارہی تھی ، اور ساره اسے بغیر پلک چھپکائے سنتے جارہی تھی۔
ہاں زارا شائد آپ صحیح کہہ رہی ہو . اچھا اب میں جا کر ذرا مہمانوں میں بیٹھتی ہوں اور آنٹی عفانہ سب میرا انتظار کررہی ہیں اوکے سارہ نے اجازت چاہی ، ہاں دیدی جائیے زارا مسکراتی ہوئی کہنے لگی گہرے لیوینڈر کلر کے لانگ گون میں زارا ایک انگریزی شہزادی لگ رہی تھی ، ایک ہی دن میں وہ امریکن دکھائی دے رہی تھی ، اسے آج سارا میک یورپی طرز کا کیا گیا تھا . سارہ اسے دیکھ کر رشک کرنے لگی .

          *************************

وہ جا کر سب کے بیچ بیٹھ گئ ردا باجی آپ سے ملاقات نہ ہو پائی کافی دن بيت گئے سارہ نے ردا کی لڑکی ورده کو گود میں لیتی ہوئی کہنے لگی ۔
ہاں ساره آپ سچ ہی تو کہہ رہی ہیں ، ردا نے جواب دیا 
بہت کیوٹ ہے ورده وه اس کے ملائم گلابی گال کو چھوتی ہوئی کہنے لگے ،
ارے ساره آپ کے گود میں آکر ورده آپ کی بیٹی جیسی لگ رہی ہے ، ردا نے ہنستے ہوئے ساره سے کہا .
ہاں میں خالہ امی ہوں تو ماں جیسی ہی دیکھائی دوں نگی نا ؛ سارہ نے بھی برابر کا جواب دیا . اس کی بات پر سارا مجموعہ ہنس دیا ۔
ریسیپشن کافی زبردست تھا ہر کوئی تعریف ہی کررہا تھا ۔
رات کے ڈھائی بج چکے تھے۔ سارے مہمان ایک ایک کرکے جانے لگے ،
آسیہ اور معز صاحب کافی خوش اور مطمئن نظر آرہے تھے ،
ساره نے جانے کا ذکر کیا ، امی گھر چلتے ہیں نا ں
ہاں بیٹی چلتے ہیں میں ذرا سب سے وداعی لیکر آتی ہوں آسیہ وہاں سے چلی گئی .
کچھ دیر بعد سب چلنے کے لئے تیار ہوگئے
سب کی گاڑیاں یک ساتھ نکل گئیں عاصمہ ، آسیہ اور عرشیہ تین فیملیز یک ساتھ تھیں .
کچھ دور جانے کے بعد عاصمہ کی گاڑی خراب ہوگئی ڈرائیور اور عاصمہ نے گاڑی سائیڈ میں رکے ہوئے تھے .
ارے کیا ہوا معز صاحب نے اپنی کار رک کر نیچے اتر آئے
پتہ نہیں کیا ہوگیا گاڑی آگے نہیں بڑھ رہی ہے ڈرائيور  نے اطلاع دی ۔
اچھا ایک کام کرتے ہیں اشہر کو انفام کرتے ہیں وہی کچھ بتا پائے نگے ، معز صاحب نے مشوره دیا 
ٹھیک ہے  میں ہی کال کرتا ہوں .
یا نہیں تو آپ ہماری گاڑی میں آجائیے ہم ڈراپ کردیتے ہیں ، سالی کو معز صاحب نے مدعو کیا ،
نہیں پہلے آپ اشہر سے بات کیجے دیکھتے ہیں وہ کیا کہے گا . عاصمہ نے آہستگی سے کہا .
آپ تب تک تو گاڑی میں بیٹھ جائیے معز صاحب نے اشاره کیا ۔
جی ٹھیک ہے عاصمہ  آکر ڈرا ئیور کی سیٹ پر بیٹھ  گئیں ۔
معز صاحب نے اشہر کو کال کیا اور وہ گاڑی لیکر آرہے تھے ۔
چونکہ فاصلہ زیاده تھا اس لئے آنے میں دیر لگی 
بہر حال اشہر وہاں پہنچ گئے ،
کیا ہوا وہ ڈرائیور سے دریافت کرنے لگے ،
گاڑی کو لاک کردو اور میری گاڑی میں بیٹھ جاؤ میں آپ کو بھی ڈراپ کردوں گا ، ساری بات سننے کے بعد اشہر نے ڈرایئور کو مشوره دیا 
اب اس وقت تو کوئی میکانک نہیں ملے گا صبح دیکھا جائے گا، اشہر  معز صاحب کو کہنے لگے
چلئے امی بیٹھے وہ عاصمہ کو اندر بیٹھنے کا اشاره کررہے تھے .
آسیہ کی گاڑی میں نیو تے بھرے ہوئے تھے ۔  اس لئے اب انھیں بیٹے کی گاڑی میں ہی جانا پڑے گا کیونکہ معز صاحب ڈرائیونگ کی سیٹ اور عاصمہ کو ڈرائیور کی سیٹ اب پیچھے ذرا سی پلیس میں ساره بے چاری بیٹھی ہوئی تھی ،
اشہر نے ماں اور ڈرائیور کو اپنی گاڑی میں بیٹھا لیا اور نکل رہا تھا کہ عاصمہ نے آواز دی 
رکو بیٹا اسے بھی ساتھ میں لے جاؤ اور واپسی میں ادھر ہی آنا ہے نا بڑی تکلیف سے بیٹھی ہے معصوم وه ساره کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔
ہاں اشہر یہ ٹھیک رہے گا آپ باجی اور ڈرائیور کو چھوڑ کر دونوں گھر آجاؤ معز صاحب نے بھی بیوی کی بات پر متفقہ رائے دی  ۔
جی بہت بہتر وہ ساره کے بیٹھنے کا انتظار کررہے تھے ۔
جاؤ ساره اس گاڑی میں بیٹھ جاؤ ، کونسی وہ ماں سے سوال کر بیٹھی اری پاگل اشہر کی اور کونسی کہاں تھی جب سے آسیہ نے غصہ سے کہا ۔
جی میں ائیر فون لگا رکھی تھی وہ مسکراتی ہوئی اتر کر ا شہر کی گاڑی میں بیٹھ گئی ۔

        **************************
ٹھیک ہے امی میں چلتا ہوں وہ ہما سورہی تھیں میں اٹھانا مناسب نہیں۔ سجھا اور ویسے ہی لاک کرکے آگیا اشہر نے ماں کو تفصیل بتاکر جانے کی اجازت لی ،
ساره بھی اتر کر کھڑی ہوگئی 
ہاں بیٹا اب جاؤ انہیں قریب ہی ہے چھوڑ دینا ڈرائیو کو اشاره سے بتاتی ہوئی عاصمہ اندر کی جانب بڑھ گئیں 
چلئے وہ گاڑی کو آگے بڑھا لے گیا۔
جی یہیں بس ! ڈرائیور بھی اپنے گھر کو بخیریت پہنچ گئے 
وہ پیچھے بیٹھی رہی کچھ دور جانے کے بعد اشہر نے گاڑی روک دی ، ساره سامنے آجاؤ وہ ساره سے مخاطب تھے ۔
جی ! ساره اتر کر سامنے آکر بیٹھ گئی ۔
اشہر نے دوباره گاڑی اسٹارٹ کردی اور آہستگی سے ڈرائیو کرنے لگے ۔
ناراض ہو مجھ سے ؟ اشہر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا .
جی جی نہیں وہ گھبراتی ہوئی کہنے لگی ،
پھر بات کیوں نہیں کررہی ہو ہر وقت چپ چپ سی رہنے لگی ہو کیوں ؟
بس ایسے ہی وہ آنکھوں میں آنے والے آنسووں کو روکے رکھی تھی ،
اس دن کی میری بات بری لگی تو سوری ، ساره مجھے معاف کردو ،
نہیں آپ مجھ سے کیوں معافی ما نگ رہے ہیں ؛ معافی تو مجھے مانگنی چاہیے آپ سے بد تمیزی جو کی تھی میں نے ۔
میں اس بات کے لئے آج بھی شرمندہ ہوں ساره پلیز دل سے نکال دو۔
وہ تکرار کررہے تھے اور ساره رونے لگی ،
ارے پگلی اس طرح سے روتے نہیں تم نے ایسا کیا کیا جو رو رہی ہو ،
وہ آنسو کو ٹشو سے صاف کرتی ہوئی چپ ہوگئی 
میں  مجبور ہوں مگر وعده کرتی ہوں کہ کبھی آپکی ازواجی زندگی میں دخل انداز نہ ہونگی ،
ساره نے رکتے رکتے کہہ دیا ۔ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں ، میرا دل آپ سے محبت نہیں عشق کرنے لگا ، میں آپ سے عاشقی کرنے لگی ہوں ،
مطلب ؟ اشہر  اسے قریب سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے ۔
میرا دل آپ کی امانت ہے اس میں کسی اور کے لئے جگہ نہیں ، میں نے زندگی میں صرف ایک سے محبت کی اور صرف آپ ہیں ، اب میں کسی اور کو کیسے اپنا سکتی ہوں آپ ہی بتائیے یہ سراسر دھوکہ ہو جائے گا، کسی کو زندگی بھر دھوکہ میں رکھنا بہت بڑا گناہ ہے اور کبیره گناہ میں نہیں کرسکتی ، اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے ،  آپ کو شادی شدہ ، اور بچہ کا باپ  اس زاویہ نگاہ سے میں نے نہیں دیکھا ۔
محبت اندھی ہوتی ہے بس ایسا ہی ہوا میرے ساتھ بھی ،
آپ بھی تو اپنی حد تک صحیح ہیں ، اس لئے میں نے خاموشی اختیار کرلی ۔
اور اگر آپ منع کردیں تو آنا جانا بھی بند کردونگی ۔
وہ پھر سے رونے لگی ۔
ارے رو کر جاو گی تو آنئی سمجھیں نگی کہ میری بیٹی کے ساتھ اس نے نازیبا سلوک کیا ،
اشہر  مسکراتے ہوئے اسے چھیڑ نے لگے  .
وه بھی ہنس دی ،
ماشاءاللہ ساره تم بہت خوب صورت ہو ، میری مجبوری کو سمجھو پلیز اشہر اس کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔
آپ پلیز مجھے آپ کو دل سے نکالنے کی بات مت کیجیے ۔ یہ ناممکن ہے ۔
میں مرتے دم تک صرف اور صرف آپ کو ہی چاہونگی ، چاہے آپ مجھے اپنائیں یا نا اپنائیں ، ساره نے دوٹوک کہہ دیا ۔
تم ضد کررہی ہو اس طرح سے ضد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ساره ، اشہر اس کو سمجھانے لگے ۔
ضد نہیں چاہت ہے آپ مجھے آزما کر دیکھ لیجیے ساره نے صفائی پیش کی 
زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ کو وہی ساره ملے گی جو اس دن آپ کے قریب آنا ، آپ کو اپنا نااور آپ سے محبت کرنا چاه رہی تھی ، یہ میرا وعده ہے ،
ساره کی باتیں سن کر اشہر کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے ،
تم کیا سمجھتی ہو میرے دل میں جذبات نہیں ، احساسات نہیں سب ہیں مگر میں ہر وقت حالات کے آگے مجبور ہوکر سمجھوتہ کرتا آیا ہوں ،
محبت کرنے والے سمجھوتہ نہیں کرتے قربانی دیتے ہیں ساره نے جواب دیا۔
وہ اپنے محبوب کی ہر چھوٹی بڑی خوشی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ اور اسی میں خوش رہتے ہیں ،
ساری دنیا سے الگ ان کی دنیا ہوتی ہے ،
وه ہر لمحہ محبت کو جیتنا چاہتے ہیں
ساره کی باتیں سن کر اشہر خاموش ہوگئے۔

دل نے تجھ کو چاہا یہ بڑا بد نام ہوا
اب تیری مرضی ہے تو چاہے یا نہ چاہے(سارہ)

 بھول جا اے جان تمنا میری
 جدا ہماری راہیں ہیں مل نہیں سکتی(اشہر)

کسی دن جو تم مجھے مل ہی جاؤ گے
تم سے پوچھوں گی کیا میں غلط تھی(سارہ) 

تیری بات سچ ہو جائے اور ہم کبھی مل جائیں
یہ دعا ہے میری رب سے میں غلط ، تو سچ ہو جائے (اشہر)


(جاری ہے......)( باقی آئندہ) (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ )






.


Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]