زندگی کے رنگ قسط ٤١
زارا آج سے ہی شاپنگ اسٹارٹ کردو کیونکہ بہت کم دن رہ گئے ہیں نکاح کو . اور دیکھو پہلے ایک لسٹ تیار کر لو تاکہ ہر معاملہ میں آسانی ہو جائے ، آسیہ نے بیٹی کو ساری ہدایات دیکر خود مہمانوں کی فہرست تیار کرنے بیٹھ گئیں ،
زارا اور ساره نے ملکر ساری اشیاء کی فہرست تیار کرلی ،
امی ہم دونوں جاکر شاپنگ کر لیتے ہیں آپ ڈرائیور کو بلوالیں ۔ ساره نے ماں کو پروگرام بتایا ،
ہاں یہ ٹھیک رہے گا ! میں ابھی کال لگاتی ہوں آسیہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی .
صبح دس بجے تا شام چار بجے دونوں پاگلوں کی طرح ہر شاپنگ مالز اور ہر چھوٹی بڑی سب دوکانوں کو چھان مارا اور تقریباً ساری شاپنگ کرڈالی اب صرف زیور کے لئے جانا باقی ره گیا تھا .
**************************
سارہ ، زارا کی شادی کی شاپنگ میں بزی ہوگئی اور آسیہ، معز صاحب سب مصروف ہوگئے .
جیسے جیسے دن قریب تر ہورہے تھے ، شادی کے گھر کی رونقیں اور ہنگامہ آرائی میں اضافہ ہورہا تھا ۔
ہما بھابھی آپ کونسا ڈرس پہنے والی ہیں ؟ ساره نے اتنے دنوں بعد آکر اچانک سے ہما کو پوچھ ڈالا ،
کوئی بھی ساره اورآپ ؟ میں بھی کوئی بھی وہ ہنس کر کہہ گئی ،
ارے آپ تو دولھے میاں کی اکلوتی سالی ہیں اچھا پہناوا ہونا چاہیے .
نہیں بھابھی مجھے اب کسی چیز سے کوئی لگاؤ نہیں رہا ، ساره نے سادگی سے کہا
کیوں یہی عمر ہوتی ہے ساره بننے سنورنے کی ، ہما اسے سمجھانے لگی ،
شائد بھا بھی پر مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں رہا ،
اس دن ڈنر پر آپ اچھی لگی بہت ، ہاں وہ سادہ لباس ہی تھا ، ہمانے یاد دلوایا ،
خیر چھوڑیے آپ بتائیں آپکی طبعیت اب کیسی ہے ؟
بہتر الحمد اللہ ہما مسکراتی ہوئی کہنے لگی ۔
الله کا شکر واحسان ہے ساره نے بھی کہہ دیا ،
آپ زیاده کیر لیں اپنی ہلت کے تعلق سے ، ساره ہما سے کہنے لگی .
آپ سب ہیں نا ساره مجھے کسی بات کی کوئی فکر نہیں ، ہما نے تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھا ،
ہاں ہاں بھابھی آپ بالکل بھی فکر نہ کریں جب بھی میری ضرورت پیش آجائے بلائیے گا ، ساره نے بے انتہا ہمدردانہ طریقے سے اپنا ہاتھ ہما کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔
ہما کی آنکھوں میں آنسو آگئے . ساره کا خلوص دیکھ کر ۔
*************************
دن ہوا کے پنکھ پر سوار ہوکر اڑنے لگے ، اور آخر کار وہ گھڑی بھی آن پہنچی جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا ، دلہن بنی زارا بہت خوب صورت اور پیاری لگ رہی تھی ، سب بہت قصیدے پڑھ رہے تھے اس کی خوبصورتی کے . اِدھر سارہ بہت ہی سادہ سے لباس ملبوس کئے سب کی نظروں میں آنے لگی ،
ارے دیکھو یہی ہے دلہن کی بڑی بہن جس کے انکار کرنے سے دوسری سے رشتہ جوڑا گیا ، ساره نے اپنے قریب سے گزرتے ہوئے دو خواتین کو ایک دوسرے سے اشاره کرتے ہوئے دیکھا دوسری کو اشاره کرتے ہوئے دیکھا اور سنا ،
ہاں بہت خوب صورت ہے ، کچھ لو ، پیار کا چکر ہونگا ورنہ امریکن سٹیزن سے شادی کو کون پاگل لڑکی انکار کرسکتی ، دونوں ہنسنے لگیں،
وہ خاموشی سے ہما کے ساتھ میں آ کر بیٹھ گئی ، ذہن بیکار باتیں سن کر منتشر ہو رہا تھا .
***********************
وداعی کے وقت وہ سب سے پہلے جاکر زارا سے مل آئی اور جاکر پیچھے ایک بازو میں چیر پر بیٹھ گئی ،
ارے ساره آپ یہاں ہیں وہاں آنٹی آپ کو پوچھ رہی تھیں اور نانا جان نانی ماں اور عرشیہ آنٹی ، ردا اور عفانہ سب پوچھ رہے ہیں ملنے کے لئے بلوا رہے ہیں ،
ہما نے آکر اطلاع دی ۔
میں مل چکی بھابھی اب نہیں جاتی، ساره نے روتے ہوئے کہا ۔
ارے پاگل روتے نہیں آپ کی بہن بہت اچھی فیملی میں جارہی ہے ، ہما نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر چپ کرانے کی کوشش کی ۔
ہاں بھابھی دعا کریں کہ وہ ہمیشہ خوش رہے ، ساره کی آنکھیں اور گال ، ناک سرخ ہوگئے .
ہما یہ اثیر سوچکے ذرا کہیں پہ سلا دو . ا شہر نے اثیر کو لیکر اندر آگئے ،
ساره پر نظر پڑی جو رورہی تھی ، کیا ہوا؟ وه پریشان ہوکر پوچھنے لگے ،
کچھ نہیں بہن کی جدائی رلا رہی ہے ، ہما نے اشہر سے کہا .
اچھا وہ اثیر کو ہما کو سو پنے لگے ، ساره اٹھ کر خود اپنے گود میں لے لی۔
لائیے مجھے دیجے میں سلا دیتی ہوں کہہ کر وہ گود میں لیتی ہے .
اشہر اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتا ره گیا ، بہت اداس تھی ، اس حال میں بھی وہ اثیر کو سنبھال رہی تھی ، اشہر کو اس کی یہ ادا بہت بھا گئی .
بھا بھی آپ بیٹھیے میں گود میں ہی سلا لیتی ہوں اثیر کو وہ ہما کو تکلیف دینا نہیں چاہ رہی تھی .
ا شہر اس کے اس رویہ سے بہت متاثر ہوگئے ،
************************
سب تیار ہوکر شادی خانہ کو نکل چکے تھے ! آج زارا کا ولیمہ تھا ، وہ بھی بے دلی سے تیار ہوکر انتظار کرتی رہی جانے کا ،
ہما کی طبیعت ناساز تھی ، وہ اور بچہ نہیں آرہے تھے ، صرف اشہر ہی اٹینڈ کرکے آنے کا ارادہ کررہے تھے ،
بھابھی آپ اکیلی کس طرح رہ پاؤ گی . ساره فکرمند ہورہی تھی .
چند گھنٹوں کی ہی بات ہے آپ کے بھیا آجا نگے ہمانے کہا .
میں جلد آجاؤں کیا ؟ ساره پوچھ بیٹھی
ارے نہیں میں رہ لونگی ساره آپ ٹینشن فری جائیے ،
وہاں سب آپ کو پوچھیں گے .ہمانے اطمينان سے کہا .
جی بھابھی اگر کچھ ضرورت درپیش ہو تو کال کر لیجے میں آجاؤنگی امی سے اجازت لیکر اوکے ہاں ٹھیک ہے اوکے الله حافظ ۰
ا شہر بھی تیار ہورہے تھے ۔ اور دونوں کی باتیں سن رہے تھے .
ساره اسکی تیاری کو نوٹس کررہی تھی مگر انجان بندی کی طرح مظاہرہ کررہی تھی ،
رنگینوں کی طلب ہے تو کہاں جائے گا
محبت کے رنگ جدا ہے تو کہاں سمجھ پائے گا
ٹھیک ہے بھا بھی میں چلتی ہوں .
وہ ساده سے ہلکے گلابی رنگ کے غراره میں میاچنگ کی جیولری ڈالے اپنی گھنی زلفوں کی ساده چوٹی ڈالے بہت نکھری نکھری سی لگ رہی تھی .
تیرے نکھار سےخود آئینہ شرمانے لگا .
اس کی شفافی مانند پڑگی تیرے آگے
اشہر آئینہ میں اس کے عکس کو دیکھتا ہوا خود بھی دل ہی دل میں اسے اتار رہا تھا .
ہما کی خوب صورتی کے آگے ساره كم ہی تھی . لیکن اس کی بات ہی کچھ اور تھی ،
شائد دل سے چاہت اسی کا نام ہے کہ اس کی ہر ادا پیاری لگتی ہے اور وہ جو بھی ہو جیسی بھی ہو بس محبت یک بار ہوجائے تو دل سے مٹانا مشکل ہوجاتا ہے ، اشہر نے اپنے بھٹکتے ہوئے دل کو قابو میں کرتے ہوئے باہر نکل آئے ۔
حاصل نہ کرسکی زیست اس رنگ کو
جس کی تجھے تڑپ اور چاه ہے
گاڑی نکال کر سیدھا فنکشن ہال کی طرف چل دیئے ۔ .
کسی کی چاه بھی اچھی نہیں ہوتی
دل کی لگی بھی بھلی نہیں ہوتی
فاصلے درمیاں میں ہو خیر مقدم نہیں
گھڑیاں قربت کی ہمیشہ صحیح نہیں ہوتی
******************
( جاری ہے ......)( باقی آئندہ )(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)