زندگی کے رنگ ‏قسط ‏٤٠


اشہر گھر کی طرف کار کو دوڑاتے ہوئے کسی اور دنیا میں گم ہوگئے۔
کتنا عجیب ہے میرا یہ دور ایک طرف نیک ، خوبصورت اور پار سا بیوی اور دوسری طرف میرا دل جو کہ محبت کرنے والی ایک معصوم اور بے قصور لڑکی .کیطرف مائل جو میرے بارے  میں جان کر بھی مجھ سے دل لگا بیٹھی ، میں مجبور ہوں ساره تمھیں ، مجھے بھولنا ہی پڑے گا اورمجھے تمھیں کیونکہ میری ایک جمی جمائی ازواجی زندگی ہے اور سب سے بڑھ کر بے انتہا چاہنے والی نیک اور ہر عیب سے پاک بیوی ہے ، اشہر نے دل پر پتھر رکھ دیئے اور زندگی کو ایک ڈھنگ سے جینے کا اراده کرلیا یہ عشق کے چکر میں نہیں پڑنا بس یہ ٹھان لیا .
  ساره  نےاثیر کو نہلا کر کھانا کھلاکر سلا بھی دیا ۔ اثیر ساره کا بہت لاگو تھا ، وہ ماں سے زیاده اس سے قریب تھا ، وہ بھی اثیر کی خدمت اور اس کے ہر چھوٹے بڑے کام کرتی تھکتی نہیں ۔
               ******************
اثیر بیٹا آجاؤ مما کے پاس جانا ہے ، اشہر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آواز دینے لگے۔
آہستہ آہستہ ! وہ اثیر سورہے ہیں ساره نے جلدی سے باہر آکر اشہر کو اشاره سے چپ کرادیا ۔
کیا سوگے ؟ جی ! ہما نے لانے کو کہا ا شہر نے فکرمند انداز سے کہنے لگے ـ
ٹھیک ہے اٹھا دیتی ہوں ساره پلٹ کر جانے لگی ،
نہیں رکو ساره وه ہاتھ کے اشاره سے اس کے اٹھتے قدم کو روکا،
اس کے ہونٹ نے میرا نام لیا .. اے زندگی تهم جا زرا
اس نےیک لخت پلٹ کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ، جہاں ایک خوب صورت جہاں آباد تھا جس میں ایک حسین اور رنگین مناظر سے مزین ایک چمن تھا جس میں بے انتہا خوب صورت گل بوٹے تھے ، ہاں !  ا شہر میں یہی چمن کی طالب ہوں اس میں کہیں کسی بھی ایک چھوٹی سی ڈال پر مجھے گھونسلہ بنانے دو بس میں تمھیں تنگ نہیں کرونگی ، ہر روز تم کو خوب صورت آلاپ سنادونگی ، بس جان ان آنکھوں میں میرے لئے کچھ جگہ چھوڑدو .
پتہ نہیں وہ کیا کہہ کر چلا گیا ،
اسے تو ہوش تب آیا جب پاپا نے راستے سے ہٹنے کو کہا ، نیچے اترنے کے لئے ،
کیا بات  ہے بیٹی کسی کا انتظار کررہی ہو پاپا قریب آ کر پوچھنے لگے .
جی نہیں پا پا بس ایسے ہی وہ اندر کی جانب بڑھ گئی ـ
             *****************
اشہر بیٹے لڑکے والوں نے  "ہاں " کردی ہے !
آسیہ بیگم نے بھانجے کو اطلاع دی اور پر مسرت لہجے سے ساری تفصیل بتادی 
ہما کہاں ہے ؟ وہ سوال کر بیٹھی ،
وہ اپنی ماں کے ہاں ہے آنٹی میں ہی چھوڑ آیا .
دراصل آج چیک اپ کو لے گیا تھا ، اُدھر سے آنٹی کے ہاں چھوڑ آیا ا شہر نے خالہ سے نرم لہجے میں کہا ،
اچھا کیا ! کیا کہا ڈاکٹر نے وہ دوبارہ سوال کر بیٹھی ،
کچھ نہیں بس تھوڑا آرام کرنے کو کہا اور اور وہ وہ ...
کیا بات ہے بیٹے کھل کر بتادو آسیہ نے ذمہ دارانہ انداز سے پوچھا ،
وہ بات یہ ہے آنٹی کے ہما اب جڑواں بچوں کی ماں بننے والی ہیں ،
ہیں ں ... یہ تو ایک لحاظ سے خوش خبری ہوئی بیٹا !
ہاں پر زیادہ کیر لینے کی ضرورت بھی ہے ا شہر نے کہا 
تم ایک کام کیوں نہیں کرتے ہما کو میکے میں ہی رہنے دو. آسیہ نے اڈوا یز دیا ،
وہی سونچ رہا ہوں کہ کیا کیا جائے ، ا شہر اپنی گردن کو نیچے کر تے ہوئے گویا ہوئے ۔
ارے اتنا کیوں سونچ رہے ہو یہاں ہم سب ہیں ناں تمھیں کھانے کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی .
کام والی اور دھوبن سب ہی تو ہیں ، میں اور ساره ، زارا سب سنبھال لیں نگے ،
وه اثیر کو لیکر آتی ہوئی ساری باتیں سن چکی تھی .
           
 اچھا راجہ صاحب اٹھ گئے وہ بیٹے کو گود میں لیتے ہوئے مسکرانے لگے۔
ٹھیک ہے آنٹی میں اثیر کو ہما کے پاس چھوڑ آتا ہوں ۔
ایک کسٹمر بھی آنے والے ہیں ، جلد ہی آجاؤں گا ،
ہاں بیٹا جاؤ اور جلدی آجائیوں .

             *********************
تو یہ قصہ ہے جناب عالی کا وہ مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔
 پھولوں کی سیج کی کہاں میں طلبگار 
تیرے دامن کے کانٹے مجھے بھاگئے ہیں 

تو جو حکم دیتا مجھے تو مرجاتی
تیری بے رخی نے ویسے ہی مار دیا 

 زارا مبارک ہو! ساره نے بہن کے گلے میں اپنی باہیں ڈال کر کہنے لگی .
کس بات کی دیدی ؟ وہ الٹا سوال کربیٹھی 
ارے تمھیں نہیں پتہ لڑکے والوں نے ہاں کردی ،
سچ .... اور نہیں تو کیا جھوٹ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگی .
مگر پہلے آپ کی شادی ہونی چاہیے تھی ، زارا نے اداس لہجے میں کہا .
چلو یار چھوڑو یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں ، جس کی قسمت میں لکھا ہے اس کی پہلے ہوگی نا ! کیا بڑی کیا چھوٹی ساره خوشی سے پاگل ہورہی تھی ، اتنی خوشی تو زارا کو بھی نہیں ہوئی جتنی ساره کو حاصل ہوئی .
           **********************
اب امی کے پاس چلتے ہیں ہما اس کے بعد گھر اوکے اشہر نے ظہرانہ ہونے کے بعد بیوی سے کہا ،
ہاں چلئے وه بھی تیار تھی ،
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے اشہر سے پوچھا ساره گھر پر ہی ہے ؟
ہما کے اس سوال کے لئے وہ تیار نہیں تھے ، پھر بھی جواب دیتے ہوئے کہنے لگے ہاں ، کیوں ؟
نہیں بس ایسے ہی پوچھ لیا ... ہما نے سرسری سا جواب دیا ،
پتہ نہیں اس نے ساره کے بارے میں کیوں پوچھا ، ذہن میں نئے وسوسے آنے شروع ہوگئے .
السلام عليكم امی : جیتی رہو عاصمہ نے بہو کو دعا دی .
کیا کہا رضوانہ نے جی وہ جڑواں بچے ہیں کہا ، ہما شرماتی ہوئی ساس سے کہنے لگی ۔
کیا؟ عاصمہ نے حیرت سے منہ کھول دیا۔
ہاں امی ! ہما نے دوباره جواب دیا 
اچھا کوئی پریشانی کی بات نہیں ذرا زیادہ توجہ لینی ہوگی ،
جی ٹھیک ہے ۔
اب زیادہ آرام کرتی رہو عاصمہ نے ہدایت دی .
       
    *************************
( جاری ہے ....).( باقی آئندہ )( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)



Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]