زندگی کے رنگ قسط ٣١
کیا ہوا اتنے گم صم کیوں ہو ! ہما نے اسکی خاموشی کو نوٹس کرتے ہوئے سوال کیا. کچھ نہیں بس ذرا سا تھک گیا ہوں اور کچھ نہیں ، اوکے آپ فرش اپ ہو جائیے میں کھانا لگاتی ہوں ، ہاں ٹھیک ہے ! کھانے پر بھی اسکا من نہیں تھا وہ سارہ کے بارے میں سونچتا رہا؛ اور اس کی تمام تر بے ہودہ حرکیات کو خیالوں میں دہرانے لگا ، آخر اس نے ایسا کیوں کیا ہوگا ، اسے ساره سے نفرت سی ہونے لگی ، آپ کھائے نہیں ؛ ہاں ہاں کھاتو رہا ہوں ، وہ خیالوں میں کھویا ہوا تھا . وه اس قدر بے غریت نکلے گی میں نے کبھی گماں بھی نہ کیا ہما اور میں نے اس سے بہت پر خلوص طریقہ کار اپنایا تھا ، اور میں نے توکبھی اس نظر سے اسے دیکھا تک نہیں ، ایسا خیال کبھی میرے من میں آیا ہی نہیں تھا ، پھر ساره نے ایسا برتاؤ کیوں کیا ہوگا .
چلئے اٹھیے کب تک جھوٹا ہاتھ لئیے بیٹھے رہیں گے ، ہاں چلو وہ حقیقت کی دنیا میں لوٹ آیا ، بہت دکھ ہوتا ہے جب کوئی اپنے ہمیں نہیں سمجھ پاتے ، رشتوں میں یہ کسی ریاکاری آ رہی ہے ہمیں کوئی غرض سے اگر کیوں چاہنے لگتا ہے .
اگر کوئی پریشانی ہوتو کہیے نا آپ اکیلے ہی پرابلم کو ہینڈل کر لے نگے کیا ؟ وہ مسلسل اشہر کو ٹینشن میں دیکھ کر پوچھ بیٹھی ، کچھ نہیں میری زہرہ جبیں آپ سوجائیے اور آپارے ہم بھی تو میٹھی نیند ليں گے .
اب اس کے دو بدو ایک نیا مسئلہ آ کھڑا ہو گیا ، یہ ساره کی بچی نے غیر ضروری میرے بنے بائے سارے پلان پر پانی پھیر دیا . اچھا خاصا آفس اور گھر کا سلسہ چل رہا تھا اب دوسری جگہ آفس وغيره کو دیکھنا اف میرا دماغ خراب ہورہا ہے اگر ہما کو ذرا بھی اس کی غلط حرکت کی بھنک لگ جائے گی تو پتہ نہیں کیا ہوگا ،
الجھن سی بن گئی زندگی یہ میری
کبھی طوفان تو کبھی کشتی بن کر
کنارے کی تلاش میں تھے بھنور نے گھیر لیا
نکلا تو پھر اڑتی ہوا نے سمندر میں پھینک دیا
( جاری ہے) (باقی آئندہ )( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)