‎ر زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏١٠


آخر اتنی رات گئے تک ا شہر کمرے میں کیوں نہیں آرہے ہیں . وه ذرا فکر مند ہوتی ہوئی دیے قد موں سے باہر آگئی ہر سو خاموشی چھائی ہوئی تھی چونکہ سردیوں کا موسم تھا باہر گہرا اندھیرا برپا تھا ، اس نے ادهر اُدھر نظریں دوڑای دیکھا کہیں کوئی نہیں سب اپنے اپنے کمروں میں محو خواب ہیں شائد وہ دل ہی دل میں سونچتی ہوئی ، خود سے ہی سوال کرنے لگی پھر اشہر کہاں ہے ؟ اسے ذرا تشويش سی ہونے لگی رات کافی گزر چکی ہے اور ا شہر کا کہیں پتہ نہیں ، دوبارہ کمرے میں جانے کا ارادہ کرتی ہوئی پلٹی لیکن باہر لان میں کوئی ٹہلتا ہوا نظر آگیا ، کون ہوگا ؟ ذرا غور سے دیکھنے لگی تب کہیں دیکھا تو اسے يقين ہوگیا کہ وہی اشہر ہے ، اس وقت اتنی سردی میں یہاں کیوں ہے ؟ وہ آہستہ سے لان کی طرف چلی گئ . اس کی آمد سے بے خبر وہ سگریٹ کے کش میں مصروف تھا ، جیسے جیسے فاصلے کم ہوتے گئے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں وہ اتنی سخت سردی میں بھی خود کو پسینے میں شرابور محسوس کررہی تھی ، وہ خاموش وہیں کھڑی رہی . کچھ دیر بعد اشہر نے دیکھا کہ ہما اس کے قریب موجود ہے وہ سگریٹ کو ایک طرف پھینکتا ہوا گڑبڑا سا گیا . آپ ؟ آپ سوئی نہیں ؟ وہ کچھ نہیں کہہ پارہی تھی ! چلئے اندر چلتے ہیں وہ شرمنده سا ہوگیا ، وه اندر داخل ہوگیا وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آگئی روم میں آکر وہ صوفہ پر بیٹھ گیا ، وہ اسی صوفہ پر کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی ، دونوں طرف خاموشی ہے صرف دھڑکنیں تیز ہیں لب سے اظہار کیا کریں الفاظ ساتھ نہیں دے پارہے تھے . جھکی جھکی پلکیں ہیں اور نئی نئی محبتیں ، اشہر کی طرف دیکھنے کی ہمت اس میں نہیں تھی ، اشہر اسے دیکھنے لگا مگر خاموش نظروں سے کتنی معصوم ہے اس کے ساتھ بڑی نا انصافی ہوئی شائد وہ ماما کے ساتھ زندگی کے حسین رنگوں کے سپنے سجائے ہوئے تھی ہونگی ، اور اب ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازواج میں داخل ہوکر وہ کس طرح سے  سمجھوتہ کر پا رہی ہے ،
  آخر یہ سلسلہ کب تک کبھی تو ہمیں ملکر زندگی گزانی ہے پھر یہ دوریاں کیوں اس کو ختم کرنا ضروری ہے ورنہ دونوں بھی اس الجھن میں پتہ نہیں کس حال کی زندگی کے حوالے ہو جائیں گے۔ حالات سے سمجھوتہ کرنا ضروری ہے قدرت کے فیصلے پر راضی ہو کر پھر یہ ، ایک دوسرے سے فاصلے کیوں ، دونوں میں یہ محتاطی کیوں قائم ہے ؟
 آپ نے چینج نہیں کیا ؟ جی وہ آہستہ سے مثبت میں سرہلادی جائیے  فرش اپ ہوکر آجائیے ـ " وہ کل میں نے جلدی چینج کردیا تھا اور سو بھی گئی تھی " اس کے لئے سوری! ارے ایسی کوئی بات نہیں آپ بالکل فری ہوکر رہیں یہاں آپ کو کوئی بند شیں نہیں ، کسی سے آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی انشاء الله ! مگر غلطی تو میری ہی تھی نا ، کس بات کی ؟ وہ سوال کر بیٹھا ، وہ کل شب عروسی ..... وہ ذرا شرماتی ہوئی خاموش ہوگئی ، اشہر کو اس پر ڈھیر سارا پیار آرہا تھا اب وہ اس کشمکش میں تھا کہ جتلائے کیسے ؟ ہمت نہیں جٹا پارہا تھا ، افو خدا مجھے ہمت عطا کر، " وہ اس لئے یہی سوچ کر میں نے آج کا میک اپ ابھی تک ویسے ہی رکھا ہے " آپ دیکھ لیں پھر چینچ کرکے فرش ہو جاونگی . اچھا تو یہ بات ہے . وہ ذرا قریب آگیا اور پاس آجاؤں وہ شرماتی ہوئی خود میں سمٹنے لگی . ایک کام کرتے ہیں ! کیا ؟ وہ یک دم سے اس کی طرف دیکھی وہ انتہائی شریر نظروں سے اسے ہی دیکھے جارہا تھا ، ہم پہلے آپ کو لباس عروسی میں ہی دیکھنا پسند کررہے ہیں تو کیا آپ ہماری خاطر دوباره کل کا لباس زیب تن کر پائی نگی جی ، وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوگئی وری گڈ اور جزاک الله ، سو پلیز جا کر جلدی سے ہماری دلہن کو لیکر آئیے وہ حسین مسکراہٹ لبوں پر سجاکر چلی گئی  اشہر تو جیسے ہوا میں اڑنے لگا . اسے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ آسمان سے ایک پری کو چراکر لا لیا ہو جو اس کی اپنی خاص ہے . واہ رے تیری قدرت وہ دل ہی دل میں الله تعالٰی کا شکر ادا کررہا تھا ..(  جاری ہے)( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]