غزل ‏ ‏١١

وه احساس و ہ ایک خیال جیسا ہے
تشنگی زیست میں برسات جیسا ہے

  وه آسماں وہ ایک سمندر بھی ہے
کردار اسکا پہاڑ جیسا بلند وبالا ہے

   خود میں مکمل ، خودی سے جدا جدا
دیکھا اس کا الگ سا منظر ابہام ہے

زمانے کی پارسائی کی پزیرائی سے دور
وہ مجسم انوار و اطوار اطہر جیسا ہے

اداسیاں اردگرد بسی رہتی مگر تبسّم
نفرتوں کے بھنور میں کناره پیار کا ہے .
(  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]