زندگی کے رنگ قسط ٩
دعوت تو بہت ہی شاندار تھی ہمہ اقسام کے ڈشز اور سارا انتظام کافی سلیقہ مندی سے کیا گیا تھا ، ہر کسی کی زبان پر احمر اور اس کے ماں باپ کا ذکر ہی تھا ، کافی مہمان تو صرف ملاقات اور دلہا . دلہن کو مبارک باد دینے کے لئے ہی آئے تھے ،، میزبان ہی دواخانوں میں شریک ہیں تو ضیافت کیسی بس ایک رسم ہے جو ادا کرنی ہے " اس طرح کے الفاظ کہتے ہوئے بغیر کھائے وداع ہورہے تھے زیادہ تر مہمان، کل کا حال کل تھا اور آج کا آج ہے ، کہتے ہوئے افسوس کرتے رہے ، اشہر کے دوست اسکے ساتھ میں خاموش بیٹھے رہے نہ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ ہنسی مذاق بس ایک خاموشی سے ہر سو چھائی ہوئی تھی.
ہلکے فیروزی رنگ کے شرارے میں وہ ایک کشمیر ی دوشیزہ لگ رہی تھی . لبوں پہ ہلکی سے سکراہٹ سجائے کسی کو یہ گمان تک نہ ہونے دیا کہ وہ ابھی کنواری ہی ہے ، يا الله یہ کیسی آزمائشی گھڑی ہے ، دلوں کو توہی بناتا ہے اور اس میں مختلف جذبات ، احساسات کو توہی ڈالتا ہے ، پھر کیوں انسان اتنا اپنے ہاتھوں مجبور ہے سب تیری کاروائی ہے تو پھر ہم اس میں شامل کیوں نہیں میرے مولا وہ خیالوں میں کھو سی گئی ، کیا ہوا ہما ؟ عذرا نے اسے چونکا دیا ، کچھ نہیں ، ہما میں تیری فرینڈ ہوں مجھے نہیں بتائے گی تو ؟ دیکھ جو بھی ہے صاف صاف رکھ معاملہ ورنہ آگے اور پیچیدگیاں حائل ہوکر زندگی میں مسائل پیدا ہو جائیں گے اگر کچھ تناؤ ہے تو مجھے بتادے شائد تیرے کچھ کام آسکوں ۔
ہما عذرا کی بات پر خاموش رہی مگر دل نہیں مان رہا تھا کہ عذرا سے کوئی راز رکھے ، آنکھوں میں آنسو امڈ آرہے تھے اور وه پینے کی کوشش کررہی تھی عذرا اس کی ساری کیفیت کو محسوس کررہی تھی ، ہما کچھ بتائے گی بھی یا یوں ہی بت بنی بیھٹی رہے گی
عذرا تو بچپن سےمجھے جانتی ہے ، تب ہی تومجھے شک ہو رہا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے ، ہاں تو سچ کہتی ہے ایک بات کہوں؟ ہاں بول ، ہماری سہاگ رات نہیں ہوئی کیا ؟ ہاں عذرا ؛ پھریہ ... اب اس میں ہم دونوں کا کیا قصور ؟ تم دونوں کا ہی قصور ہے . مگر میری عقل میں یہ بات بالکل بھی نہیں آرہی ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ـ پتہ نہیں . دیکھ ہما جو ہوا سو ہوا اب یہ غلطی نہ کر ہر چیز ٹھیک ہوجائے گی مگر یہ خوشی کے پل واپس آنے والے نہیں اور تجھے کوئی حق نہیں بنتا کہ تو دوسروں کی خوشیاں چھین لے . میں نے کسی کی کوئی خوشی نہیں چھینی وه معصومیت سے کہنے لگی ، اشہر کی عذرا نے آنکھ نکال کر اسے ڈرایا . بے چارہ اس بندہ کا اس میں کیا دوش ہے جو تونے اتنا برا کیا ، میں بھی تو بے چاری ہوں قسمت کی ماری ہوں وہ روہانسی ہوگئی ٹھیک ہے اب جانے دو یار اور اپنی زندگی کو خوشیوں کے رنگ سے بھر دو سمجھیں ، وہ مثبت میں گردن کو جنبش دے نے لگی .
بہت رات ہوگئی تھی وہ بغیر چینج کئے بیٹھی رہی. (جاری ہے .).( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)