زندگی کے رنگ قسط ٨
صبح اس نے اٹھ کر دیکھا اشہر كمره سے غائب ہے . وہ بھی نہا کر نماز ادا کرلی اور بال سنوارنے لگی ، تب ہی ردا آگئی اسلام عليكم بھابھی. ! وعليكم السلام ، اگر آپ چاہیں تو باہر آسکتی ہیں امی کہتی ہیں کہ باہر کوئی نہیں ، اچھا ٹھیک ہے تو پھر چلتے ہیں وہ آکر عاصمہ کو سلام کرتی ہوئی وہیں بیٹھ گئی ، ردا ، ہما کو لے کر ناشتہ کا ٹیبل سجالوپاپا اور بھیا بھی آجائیں گے جی امی ، چلئے بھابھی وہ ردا کے ساتھ میں ناشتہ کا دستر بچھانے لگی ، سب تیار ہوگیا امی انھیں آواز دیں ہاں ٹھیک ہے ا شہر بیٹاپاپا کے سنگت آجاؤ ، جی وہ اور مظفر صاحب دونوں آگئے ..
ہلکے گلابی رنگ کے سوٹ میں وہ کوئی پاکیزه پری سے کم نہیں لگ رہی تھی ، اشہر ا سے نظر بھر دیکھنا چاه رہا تھا مگر ایک انجا نہ خوف اس پر طاری تھا ، وہ خود سے ہی ڈر رہا تھا ، ادھر ہما اسکی موجودگی سے خود کو بے خبر رکھنا چاه رہی تھی ، سب ملکر ایک ساتھ ناشتہ کرچکے تھے وہ اٹھ کر سیدھا کمرے میں آگئی . شکر خدا کا وہ ٹھنڈی سانس لیتی ہوئی بیٹھ گئی اور کچھ دیر اگر وہاں رکتی تو ضرور مجھے کچھ ہو جاتا بے چارے کو کب تک سزا دیتی نظریں نیچی کئے بیٹھا رہا . اب مجھے بھی سکون مل گیا . کچھ دیر بعد وہ موبائل نکال کر ماما کو کال کرنے لگی
اسلام عليكم ماما ! وعليكم اسلام جیتی رہو بیٹا کیسی ہو جی الحمد لله، ماما ابوامی کی طبعیت اب کیسی ہے ؟ فکر کی بات نہیں ایک دو دن میں ڈسچارج ہو جائیں گئے، بس دعا کرو . جی ، اور آنٹی انکل وہ لوگ بھی اب پہلے سے بہتر ہیں بیٹا ، تم کہوں وہاں سب ٹھیک ٹھاک ہے ناں جی ماما بہت اچھے لوگ ہیں چلو شکر خدا کا ٹھیک ہے آج شام دعوت میں ملاقات ہوگی انشاء الله ، اوکے الله حافظ بیٹا ، الله حافظ ۰
نکاح کا جو رشتہ ہوتا ہے وہ بہت مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے اس میں الله تعالٰی خیر و برکت کا خوشی اور سکون و ترقی کا معاملہ فرماتا ہے . ہر ہر لحاظ سے یہ زندگی جینے کا صحیح طریقہ کار ہے نکاح کے ذریعہ . ہی مرد اور عورت میں جو رشتہ ازواج کا بندھن بندھا جاتا ہے اس کے تئیں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی ، ایثار ، محبت خلوص جیسے جذبات و احساسات اجاگر ہو جاتے ہیں . انسان اس مقدس اور پاک رشتے کو توڑنا چاہے گا تو بغیر الله کی مرضی کے کچھ نہیں ہوگا اگر قدرت قائم رکھنا چاہے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قائم ودائم رہے گا . یہ رشتے تو آسمانی ہوتے ہیں یہ زمین والوں کے اختیار میں کہاں . نکاح رزق کا ذریعہ ہوتا ہے سنت نبویّ ہے . نکاح حلال ہے . معاشرہ کا ایک بہترین عمل ہے .
یہ انسان کی ایک اہم فطری ضرورت ہے جس کو انسان اسلا می تعلیمات کی اجازت کے مطابق جائز اور مہذب طریقہ کار کے ساتھ انجام دینے کی سعی کرتا ہے . یہ انسان کی بقاء اور تحفظ کا ضامن ہے . اسلام کے مطابق یہ احساس بندگی ہے اور شعور زندگی بھی ہے اور ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی نکاح کرتا ہے وہ آدھا ایمان مکمل کر لیتا ہے اور جو کوئی نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی سکت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرلے ۔ نکاح نگاه کو نیچی اور شرمگاه کی حفاظت کا ضامن ہے . اور جبکہ اس کے مخالف میں اگر کوئی شادی یا نکاح نہ کرنا چاہا تو وہ زندگی سے راہ فرار اختیار کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اسلام زندگی سے فرار کی راہ کو بالکل ناپسند کرتا ہے .
وه کمرے میں جانے کے لئے سوچ سا چ میں پڑ گیا پتہ نہیں کیوں اسے ہما کی موجودگی میں اندر جانا پسند نہیں تھا مگر اب تیار ہونا بھی ضروری ہے اب کیا کیا جائے ؟ وہ ردا سے اپنا سارا سازو سامان باہر منگوالیا اور دوسرے روم جاکر تیار ہوگیا ، ادھر ہما بھی بے دلی سے خود ہی تیار ہوگئی کسی بیوٹی شین کی آمد کو وه رد کردی اور سادگی سے تیار ہوکر بیٹھ گئی .... ( جاری ہے)( . باقی آئندہ) (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)