زندگی کے رنگ قسط ٧
جی ماما مجھے امی ابو سے ملکر وداع ہونا ہے ، اسپتال لے جائیےمجھے ، ہاں ہاں ٹھیک ہے چلو چلتے ہیں ، آنی سی یو میں قدم رکھتے ہی ہما زاروقطار رونے لگی ، ماں ہوش میں تھیں بیٹی کو اشاره سے قریب آنے کو کہا ہاتھ آہستہ سے اٹھا کر سر پر رکھا ، آنکھوں سے آنسو جاری تھے لب خاموش تھے ، بس گھڑیاں تھم گئی وہ اٹھکر سردار خان صاحب کے پاس گئی ، بیٹی کو عروسی لباس میں ملبوس دیکھر وہ بے اختیار رونے لگے .وہ بھی باپ کے پاس بیٹھ کر رو رہی تھی ، سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دینے لگے .ابو یہ سب کیا ہے آپ لوگ گھر کب آؤ گے بولیے پلیز.، مامو نے بھانجی کو خاموش کرادیا اور وہاں سے لے کر محمود منزل کی طرف چل پڑے۔
ردا نے اسے حجلہ عروسی میں اسے لے جا کر مسہری پر بیٹھا کر چلی گئی ، کچھ دیر میں سارے کمرے کا جائزہ لے کر سوچنے لگی ، انسان تو ایک کٹ پتلی کی طرح ہے قدرت جس طرح کہے اس طرح سے کھیلنا چاہئیے ایک نئے رشتے سے منسلک ہوکر اب وہ ذہنی طور پر منتشر ہوگئی تھی ، پتہ نہیں اس ازواجی رشتے سے مجھے اور کیا کیا تحفے ملنے والے ہیں ؟، اشہر کیسا ہوگا ؟ وہ مجھے قبول کرے گا بھی یا نہیں ؟ میں ایسے قبول کر پاؤنگی یا پھر تنہا رہ جاؤ نگی ؟ ان سارے سوالات کے جوابات اس کے پاس تو موجود نہیں پھر کون دے گا ؟ وہ اٹھ کر واش روم جاکر لباس تبدیل کرلی اور فرش اپ ہوکر سوگئی
کافی رات گزر گئی بیٹے جاؤ دلہن پریشان ہو جائے گی مظفر صاحب دوستانہ انداز میں بیٹے کو تنبیہہ کرنے لگے ، ماں نے تو چپ سادھ لی اور بہن بھی خاموش تماشائی بنی بیٹھی وہ اٹھ کر مرده قدم ڈالتا ہوا کمرے میں داخل ہوا ، یہ کیا وہ تو سوگئی ، میرا انتظار تک نہیں کیا ؟ قریب جاکر وہ پلنگ پر بیٹھ گیا بہت دیر تک اس ہوش ربا کو دیکھتے رہا مگر نہ دل میں امنگ نہ کوئی ترنگ اور نہ کوئی محبت بھرے احساسات نہ جذبات یہ مجھے کوئی فیلنگس کیوں نہیں آرہے ہیں ؟ وہ خودی سے سوال کر بیٹھا ، اتنی خوب صورت بیوی پہلو میں موجود ہے اور میں بے حس بیٹھا ہوا ہوں یا خدا یہ کیا ماجرا ہے شائد حادثات اور حالات کا نتیجہ ہے جو آج وہ بھی بے سود ہوگئی اور میں بھی بے حس بیٹھا ہوا ہوں ، شرابی آنکھیں ، گلابی ہونٹ ، نازک رخسار جو ایک معصوم بچی کی طرح ملائم اور خوب صورت ناک سبک سے ہاتھ ان سب پر تو میرے ماما کا حق تھا اب میں کیسے اپنا لوں ، کہیں یہ گناہ میں شامل نہیں ہوگا ، ؟کہیں غلط کام تو نہیں ؟ یہ نازیبا حرکت تو نہیں ؟، ضمیر آواز دے رہا ہے کہ اب یہ تیرے نکاح میں آگئی ، دل ٹوکتا ہے کہ پھر بھی دوری قائم رکھ . يا الله تو میری رہنمائی فرما. مجھے سیدھا راستہ دکھا ، مجھے بھٹکنے سے بچا لے ، وہ تکیہ لے کر صوفہ پر لیٹ گیا ، آنکھ لگ گئی اور سوگیا ، تقریباً آدھی رات کو ہما کی آنکھ کھلی دیکھا اُس پاس میں کوئی نہیں۔ اچانک نظر صوفہ ہر پڑی دیکھا ا شہر سو رہا ہے ارے یہ کیا ہوگیا میری ہی غلطی ہے جو بغیر انتظار کئے سوگئی ، وه خرامہ خرامہ چلتی ہوئی اشہر کے قریب جابیٹھی ، اسے بغور دیکھنے لگی ، کاش یہ رشتہ نہ ہوتا تو ہم دونوں کسی اور رشتے سے پکارے جاتے ، اس میں تمھارا کیا قصور جو آج میرے رشتے ازواج میں آگئے یہ کیا مصلحت قدرت ہے ، بس وہی بہتر جانتا ، ہمیں ایک دوسرے کو قبول کرنا ہے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر اگر تم مجھ سے علحیدگی چاہو گے تو میں انکار نہیں کرونگی یہ تمھارا حق سمجھ کر تمھیں اس رشتے سے آزاد کردونگی. کچھ دیر بیٹھ کر وہ دوبارہ پلنگ پر آکر لیٹ گئی .
اے زندگی جدا جدا تیرے رنگ ہیں
کسے اینالوں کسے ہٹادوں تو بتا .
مٹھی بھر آسماں ہے میرا ستارے چند جس کے
شمس و قمر کی بات کہاں تاره ہی ٹوٹ کر گر گیا
( جاری ہے)( باقی آئندہ) (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)