زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏٦

احمر کی تدفین عمل میں آگئی ہر سو سوگوار سا ماحول چھایا ہوا تھا اشہر کا روتے روتے برا حال تھا ، مظفرصاحب نے آہستگی سے بیٹے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ، پاپا وہ رورہا تھا ، یہ سب کیا ہوگیا پاپا ، ؟ ماما ہمیں اس طرح سے چھوڑ کر کیوں چلے گئے بولیے پاپا ؟ یہ زندگی ہے بیٹے کئی رنگ دیکھائے گی ، ہم ہر رنگ میں رنگنے کے لئے تیار ہونا چاہیے ، مگرپاپا اس طرح اچانک ؟ سب کچھ اچانک ہی ہوجاتا کسی کو بتاکر کچھ نہیں ہوتا ،   انسان کا خیال خام یہ ہوتا ہے کہ مستقبل کے سارے منصوبے میرے ہاتھ میں ہی ہیں ، میں جیسا چاہوں گا وقت ویسا ہی چلے گا جبکہ قدرت کے فیصلے ہمیشہ انسان پر اچانک ہی نازل کئے جاتے ہیں ، اب تو ہمیں اس کے ہر فیصلہ پر راضی ہونا ہے ، جو ہوا اس کا غم تو کم نہیں ہوگا مگر زندگی تو بہرحال گزارنی ہے ، میں نے ایک فیصلہ تمہارے حق میں صحیح لیا ہے . کیا پاپا ؟ وہ حیران کن نظروں سے مظفر صاحب کو دیکھنے لگا ، شام میں تمھارا نکاح ہے ، کیا ؟ ہاں بیٹے ، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں پاپا ، میں اب اس وقت شادی کے موقف میں کہاں ہوں ، مجھے نہیں کرنی ہے شادی اور وہ بھی آج کے آج پاپا آپ کو میرے ننھیال والوں سے ذرہ برابر بھی ہمدردی نہیں ہے کیا؟ وہاں ماما کی موت سے ہر آنکھ نم اور نانا جان نانی جان ابھی دواخانے میں زیر علاج ہیں اور آپ کو شادی ، خوشی کا سوجھا ہے ، افسوس ، بیٹے تم نے غلط اندازہ لگایا ، نکاح ہما سے ہے تمھارا ، کیا؟ ؟ ہاں تب ہی تو آج کے آج ہونا ضروری ہے مگر یہ کیسے ممکن ہوسکتا پا پا ؟ تم اگر چاہو تو سب ممکن ہے بیٹے ورنہ ہر طرف پریشانی اور مصیبت ہی رہے گی ، وہ کچھ دیر خاموش رہا ، آپ لڑکی والوں سے بات تو کرلیں وہ کیا کہتے ہیں معلوم کرلیں ، انھیں کی طرف سے یہ پر پوزل آیا ہے اب انکی لڑکی کی خویشوں کے تم ضامن ہو ، اب ہما کے شریک حیات تم بن جاؤ اور اسے زندگی کے حسین رنگ میں رنگ دو ورنہ ساری عمر وہ اپنے ساتھ میں ایک اپ شگون اور منحوس کا لیبل لے کر بھرنا پڑے گا۔ پتہ نہیں کوئی اپنائے گا بھی يا نہیں ، دیکھا بیٹا تم نے اس لڑکی کے پاس خوب صورتی ہے دولت ہے علم ، حیا ، خانہ ان بہر کیف ہر وہ چیز موجود ہے جس کی ہر لڑکی طلبگار ہوتی ہے مگر الله نے اچانک اسے ایک ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کردیا کہ وہ بہت امیر ترین سے غریب تر ہوگئی محتاج ، بے بس ، اور مجبور ، وه تو کچھ نہ کہے گی مگر ہر کوئی یہی خیال کریں گے ۔ ارے بیچاری دیکھو ، ارے بہت برا ہوا اس لڑکی کے ساتھ دیکھو ایسے فقرے اس کے کانوں کو ہر روز سننے پڑیں گے . میں نے کافی سونچ سمجھ کر یہ فیصلہ لیا ہے اشہر ، اب تمھارا فیصلہ کیا ہے جلدی بتادو میں انھیں آگاه کردوں گا ، ٹھیک ہے پاپا آپ جو مناسب سمجھے وہی کیجیے . میں آپ کے ہر فیصلے پر راضی ہوں . شکریہ بیٹے .... وہ جلدی سے فون نکال کر احسان صاحب کو اشہر کی رضا مندی کی اطلاع دینے لگے۔
   ہما کو عروسی لباس زیب تن کیا گیا ، پارلر سے بیوٹی شین آکر زبردست تیار کر گئی مگر قدرتی مسکراہٹ ، خوشی ، مسرت ، اور وہ شادی کی حیا ، شرمیلا پن تو مصنوعی طور پر لایا نہیں جاسکتا ، ہزاروں کی رقم خرچ کی جائے مگر جو سرخی گالوں پر شادی کے نام سے چھاجاتی ہے وہ میک اپ میں کہاں ، آنکھوں میں جو حيا پیا کے تصور سے جھلک نے لگتی ہے وہ آئی لینر اور آئی شا ڈو میں کہاں ، ہونٹوں پر جو گلاب سی مسکراہٹ سہیلیوں کی چھیڑ چھاڑ سے رونما ہوگی وہ لپ اسٹک میں کہاں ، اور ویسے بھی اسے کونسی خوشی و مسرت حاصل ہورہی ہے جو وہ خوب صورت نظر آئے بس زبردستی کا نکاح ہے جو ایک لحاظ سے سمجھوتہ ہے کہ اس کے ماں باپ کی صحت اس میں مضمر ہے ورنہ وہ ساری عمر ایسے ہی گزاره کرلیتی ، وه تو خود سے ہے تعلق سی ہوگئی اسے کسی بات کی کوئی خوشی نہیں غم نہیں ذہنی طور پر توازن کھو بیٹھی صرف جسم اسکا موجود ہے روح تو مرچکی تھی ، ایک زندہ لاش بن کر وہ زندگی کے رسوم میں شریک ہوگئی ، کسی بات سے نہ دلچسپی ہے نا، لگاؤ ، کاش الله تعالٰی اس کے بدلے مجھے ہی اٹھالیتا مگر یہ کہنا بھی کفر میں شامل ہے ، وہ ایک آه بھر کر رہ گئی . 
  انتہائی سادگی سے نکاح کی رسم  انجام دی گئی ، ضیافت بھی ہوگئی ، ہر چیز اپنے مقام پر ویسے کی ویسی ہی ہے صرف ایک نام سے زندگیوں میں تبدیلی آگئی احمر کی جگہ ا شہر لکھا گیا جو ایک انجان اور نامانوس نام اب اس کی حیات سے جوڑ دیا گیا ، بغیر ہم سفر کے زندگی کا طویل سفر کوئی اکیلا نہیں کاٹ سکتا یہ بات سچ ہے مگر کیا ہم سفر اس طریقہ سے اور اس موقع سے ملے گا . جب چاہے بدل جائے گا، کیا ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوگا ، ایسے کئی سوالات اس کے ذہن میں آرہے تھے ، وه تو ہے بس تھی حالات سے ، مجبور تھی رشتوں کے بند هن سے ، وہ مجبور تھی ایک لڑکی ہونے کے ناطے سے وہ لاچار تھی ان اچانک ہونے والے حادثات سے ،   وہ خود کو اس ساری گردش کا ذمہ دار ٹھرانے لگی  وہ رونے لگی ، یا الله مجھے ہمت دے تیری دی ہوئی زندگی کو جینے کی وہ دل ہی دل میں دعاگو ہوگئی    ..(. جاری ہے) (باقی آئندہ) 
 (  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]