زندگی کے رنگ قسط ۳۰
بھابھی اب آپ کی صحت بفضل تعالیٰ بہتر ہوگئی ہے میرا مشوره ہے کہ کچھ دن آپ میکے ہو آئیے ساره نے ہما سے کہا !ہاں جانے کو دل کررہا ہے ساره لیکن یہاں آپ کے بھیا کو پرابلم ہو گی اس لئے ... ارے بھابھی آپ وہ ٹینشن نہ لیں میں ہوں نا سب دیکھ لوں نگی ، ہاں یہ بات تو ہے ساره پر مجھے ان کے بغیر اب رہنا گوارا نہیں .. اوکے پھر آپ کی مرضی میں نے آپ کو تھوڑا مقام بدلنے کے لئے کہا تاکہ صحت یابی کیلئے اچھا ہوگا . دیکھیں گے آپ کے بھیا سے بھی تو اجازت لینی ضروری ہے نا . ہاں آپ پوچھ کر تو دیکھیں .
سینے جی فرمائیے اشہر نے بیوی کو باہوں میں بھرتے ہوئے کہنے لگا . آپ سے ایک بات کرنی ہے . ایک نہیں سو کرسکتی ہیں آپ میری جان ! وه میں یہ سوچ رہی تھی . کہ کچھ دن امی کے پاس ہو آؤں؛ کیوں ؟ ذرا صحت بھی پہلے سے بہتر ہوگی اس لئے ، اگر آپ اجازت دیں تو ورنہ کوئی بات نہیں رہنے دیں
.
اچھا ٹھیک ہے کل چلی جانا اور تین دن بعد واپسی اوکے ، جی بہتر اوکے وہ خوش ہوگئی . ہما بھا بھی جارہی ہیں کیا ؟ ہاں اجازت مل گئی سرکار سے اور صرف تیسرے دن واپسی ، اچھا لائیے میں ہلپ کردیتی ہوں . اثیر کے سارے سامان کو اس بیگ میں رکھ دیتے ہیں ، وہ ہما کے ساتھ ملکر اسے مدد کرنے لگی . اور ساتھ میں ساره کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے ، وه بہت خوش تھی کہ تین دن ا شہر کے سارے کام وہ از خود کر سکے گی .
بھابھی آپ کے جانے سے گھر سونا سونا ہو جائے گا، مجھے اثیر کی بہت یاد آئے گی . ہاں تو کیا ہوا دودن ہی کی بات ہے تیسرے دن آ تو رہی ہوں اور آپ ہی نے یہ ایڈیا دیا نا ، ہاں بھابھی ٹھیک ہے خیریت سے جائیے اور عافیت سے آئیے .
وه کافی تھکا ہوا تھا ، ذرا دیر سستانے کی غرض سے اندر آگیا ، ارے یہ کیا بیڈ روم کھلا چھوڑ گئی جان وہ دل ہی دل میں سونچ تا ہوا روم کی طرف آ گے بڑھ گیا . ارے ساره تم ہو وہی تو میں یہی خیال کر رہا تھا کہ ہما نے دروازه لاک نہیں کیا ؛ وہ ا شہر کی آمد کو نظر انداز کرتی ہوئی بیڈ پر لیٹی رہی
ارے آپ ! آپ کب آئے وہ الٹے قدم ڈالتا ہوا باہر جانے لگا . تب اس نے اشہر کو روکنے کے لئے اٹھ بیٹھی ، نہیں تم آرام کرلو ویسے مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا۔
یہ ساره کا اس طرح سے بیہیو یرbehaviour. میری سمجھ سے باہر ہے . وه ذرا ڈسٹرب سا ہوگیا ، آج پہلی بار اس نے ساره کی آنکھوں میں کچھ دیکھا نہ جانے کیوں اس کے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گی . وہ خود کو کوسنے لگا اگر اندر نہ جاتا تو کیا مرجاتا غیرضروری جنجال میں پھنس جاتا اچھا ہوا جو جلد پلٹ گیا. مگر یہ سارہ کی بچی اچھی بھلی تھی اچانک یہ روپ ؟ اف خدا المدد ۔
آپ پہلے لنچ کر لیجیے دیر ہو جائے گی ہما نے کال کرکے تنبیہ کرنے لگی . مجھے بھوک نہیں ہما ! دیکھئے اگر ایسا رہا تو میں آجاؤنگی آپ آئیے مجھے لینے ، ارے یار ایک وقت نہیں کھانے سے کیا ہوگا . اچھا ایک کام کرتا ہوں ڈنر کو آپ کے ہاں آجاتا ہوں اوکے ہاں ٹھیک ہے .
یہ تو بڑی مصیبت میں آگئی جان میری اب اندر جانے سے ڈر لگ رہا ہے . ایسے جیسے کوئی بھوت پرت ہے . کیا کیاجائے وہ آفس بند کرتا ہوا سونچنے لگا . اب اگر اندر جاؤں گا تو ہما کی موجودگی میں ہی ورنہ ایسے ہی خانہ بدوش کی طرح ادھر ادھر پھرتا رہوں گا .
ہما کو کال کرکے کہہ دیتا ہوں کہ ساره سے کہہ دے کہ سب لاک کرلے ہاں یہ مناسب رہے گا . سب سے بسٹ ! ہیلو جی اسلام عليكم ہاں وعلیکم اسلام ہما میری جان ایک کام کرو جی بولیے آپ ساره سے کہہ دو کہ لاک کر لے مینڈور وغیره میں آفس سے سید ها آپ کی طرف آرہا ہوں ، ارے آپ کو گھر میں جانا ضروری ہے ، کیوں ؟ کیونکہ میں میڈیسن بھول کر آگئی ہوں . اف آپ بھی نا ! کیوں کیا ہوا؟ ایک قدم کا فاصلہ تو ہے اور آپ ایسے بیزار ہورہے ہیں جیسے کئی میل جانا ہے ساره کو کہہ دیجیے وہ دے دے گی . ہاں ایڈیا !کیا ہوا آپ کال کرکے بول دو وہ یہاں آفس میں لاکر دے گی ، جی بہتر میں کہہ دونگی.
یہ لیجے ہما بھا بھی کی میڈیسن وہ کور ہاتھ میں لیے مسکرارہی تھی ، اشہر کو اس سے آنکھ ملانے کی ہمت نہیں جٹ رہی تھی ہاں وہاں رکھ دو ساره وه اشاره کرتا ہوا دوسری طرف توجہ کرنے لگا وہ ٹیبل پر رکھتی ہوئی وہیں چیر پر بیٹھ گی . ارے اب تم جاؤ مجھے لاک کرکے جانا ہے دیر ہورہی ہے . اچھا آپ ڈنر کرکے آجائیے نگے نا وہ معصومیت سے پوچھنے لگی ، نہیں وہ خفگی سے اسے گھورتا ہوا کہنے لگا ارے اس طرح گھبراہٹ کیوں ہورہی ہے آپ کو میں نے تو بس ایسے ہی پوچھ لیا وہ مسکراتی ہوئی قریب آنے لگی . Cabinet کا ڈور بند کرتی ہوئی وہ اور پاس آگئی یہ کیا حرکت ہے ساره تم پاگل ہوگی ہو کیا ! ہٹو مجھے جانا ہے ، ہاں تو جائیے میں نے کب روکا ہے آپ کو ! ذرا ہمارا بھی خیال کیجے، کیا مطلب ؟ آپ اتنے نادان بھی نہیں کہ ہمارے اشاروں کو نہ سمجھ سکیں ۔ تم صرف میری ایک بہن ہو سمجھی اور خبردار اس پاکیزہ رشتے کو داغ دار نہ کرنا ورنہ لوگ کسی بھی رشتہ پر اعتبار نہیں کریں گے . ارے آپ نے تو ایک سانس میں سب کچھ کہہ ڈالا اس کا مطلب آپ کو میری نیت معلوم ہوگئی .
مجھے تمھاری نیت کی کوئی پرواہ نہیں مجھے تو آیسہ آنٹی کی عزت کی پرواہ ہے اور ایک بات کان کھول کر سن لو میں ہما کو دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں وہ میری زندگی ہے اور زندگی کی تصویر میں ہررنگ ہما سے ہے اس کے بغیر میری تصویر نامکمل ہے
میں نے تو تمھیں بہت اچھی لڑکی سمجھتا تھا افسوس تم نے میری ساری خوش خیالی پر پانی پھیر دیا سارہ . چھی اس طرح گھٹیا خیال تمھارے ذہن میں آیا کیسے ؟ محبت ہے کسی سے بھی ہو جاتی کیا یہ پاپ ہے ؟ ہاں مہا پاپ ... ایک بھرے پورے فیملی میں آگ لگانا پاپ نہیں تو کیا پونیا ہے ؛ خیر یہ تمھاری نہ سمجھی سمجھ کر میں اسے معاف کردیتا ہوں اب چلو اچھی بچی کی طرح جاکر لاک کر لو . اوکے وه جلد ی جلدی سارا لکچر دیکر سارہ کو تکنے لگا . جو اداس چہره لئیے بیٹھی تھی .
تو نہ جان سکا میری بے کلی کو اے ظالم
کیا یہیں ختم ہوگیا میرا عشق سفر
اب زیاده مجبور کرنے سے وہ کوئی بھی اسٹیپ لے سکتا ہے اس لئے سب آئندہ کے لئے چھوڑ دیا جائے یہی بہتر ہوگا . وہ خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی .
شکر ہے خدا کا جلد سمجھ گئی ورنہمجھے ایک نئی مصیبت میں پھنسنا پڑتا.
دل تیرا دیوانہ ہے یہ کسی کو کیوں کہوں
امانت ہے یہ دل تیرا کسی کو کیوں دے دوں .. (جاری ہے )( باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)