زندگی کے رنگ ‏ ‏ ‏قسط ‏ ‏ ‏٥

 ہم تو برباد ہوگئے ، یا الله یہ آزمائش ہماری جان لے لے گی ، ہمیں صبر عطا فرما. ہما کی مامی زار و قطاروتے ہوئے گڑ گڑ ا کر دعائیں کرنے لگیں ، 
   ہما کو ہوش آگیا ، ہما کو ہوش آگیا سب دلہن کے پاس دوڑے جارہے تھے ، وه ہر ایک کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی ، اٹھو بیٹی پانی پیو ، وه پانی پیتی ہوئی پوچھ بیٹھی ، امی ، ابو کہاں ہیں ، سب خاموش تما شائی بنے اسے دیکھے جارہے تھے . بتائیے نا مامی ہاں بیٹی یہیں پر ہیں آپ فکر نہ کریں ، اچھا ذرا مجھے ان کے ہاں لے چلئے ، نہیں ابھی آپ کو تیار ہونا ہے ناں ! کیوں ؟ وه سوال کر بیٹھی ارے آج آپ کی شادی جو ہے، اب کہاں مامی ہماری تقدیر میں سب برا ہوگیا . نہیں بیٹی ایسا نہیں کہتے پتہ نہیں اس میں ہماری کیا بھلائی چھپی ہوئی ہو وہ تو صرف اوپر والا ہی بہتر جانتا ہے ، نہیی مامی سب ختم ہوگیا ، مجھے کچھ نہیں بس میرے ماں باپ چاہئیے ان کے پاس لے چلنے پلیز وه زار و قطار رو ئے جارہی تھی اس کے کمرے میں موجود سب اس کے ساتھ رو رہے تھے ۔
 یہ کیا ہو رہا ہے ؟ احسان صاحب کی آواز پر سب چونک پڑے ماماماما مجھے امی ابو چاہیے ہاں بیٹا میں آپ کو وہیں لے جانے تو آیا ہوں ، اور مہربانی ہوگی سب باہر تشریف لے جائیے مجھے ہما سے اکیلے میں بات کرنی ہے . دیکھو بیٹے انسان سونچ تا کچھ ہے اور ہوتا کچھ اور ہے اب کس کے گماں میں تھا کہ یہ خطرناک حادثہ رونما ہونے والا ہر طرف صرف اور صرف خوشیاں ہی تھی کبھی غم پاس سے بھی نہیں گزرا مگر الله کے ارادے تو وہ جانتا ہے نا بیٹا اس کے آگے سب بے بس لاچار ہیں ہمیں اس سے شکوه شکایت بھی نہیں کرنی چاہیے وہ ہمارا ہمدرد اور بھلا چاہنے والا معبود ہے ، میری ایک بات مانو گئ گڑیا ! کیا ماما ؟ دیکھو اب یہ سب کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا اور دوسرا آپ کے نام کو دھبہ لگ جائے گا اس لئے سب کی بھلائی کا خیال کرکے میں نے ایک فیصلہ لیا ہے . کیا؟ اگر آپ ہاں کہہ دوگی تو سب کی زندگیاں شائد پھر سے چلنے لگے گئیں ورنہ . ورنہ کیا ماما؟ ورنہ کوئی کب اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کسی کو خبر نہیں اتنا بڑا صدمہ جھیلنے کے بعد اب زندگی جینے کی کس کو آس امید باقی ہے بس ایک آخری امید لے کر آیا ہوں کہ آپ کی وجہہ سے پھر دوباره نئ زندگی سب جی پائیں گے ، میں کچھ سمجھی نہیں آپ صاف صاف کھل کر بیان کیجے، کچھ نہیں ہما بیٹی آپ کا نکاح مامو کے بجائے بھانجے سے ہوگا ، کیا ؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ، آپ نے یہ کیسے سونچ لیا ماما وه چیخ چیخ کر رونے لگی . رولے بیٹی جتنی بھڑاس ہے سب دل سے نکال دے اور میں تجھے آدھا گھنٹہ دیتا ہوں پھر جواب دينا . ، وہ خاموش بیٹھی رہی اور احسان صاحب باہر نکل گئے . مامی وہ بیگم احسان کے گلے لگ کر رونے لگی ، یہ نہ ممکن ہے آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں ، نہیں بیٹی یہی ممكن راستہ ہے اب اگر یہ وقت ٹل گیا تو زندگی بھر پچھتاوا ہوگا اب جوش یا جذبات سے نہیں حکمت اور ہوش سے کام لینا چاہئیے غم تو ہفتوں ، مہینوں اور سالوں بعد مٹ جائے نگے مگر عمر جو ایک بار  ڈھل جائے گی دوباره واپس نہیں آئے گی اور افسوس کرتے رہنے سے کیا حاصل اب تم جوان خوب صورت دولت مند ہو ایسے میں ہر کوئی اپنائے گا، پھر بعد میں اکیلی زندگی کیسے کاٹو گی کوئی تو ہم سفر ہونا ضروری ہے ، جو مر چکا اس کے لئے مرا نہیں جاتا جان ، جو زندہ ہیں ان کے لئے آب حیات بن جاؤ شائد قدرت کو بھی یہی منظور ہے ، میری نالہ سنجی کسی کو کہاں دکھائی دے گی . سب کو اپنی اپنی پڑی ہے ہما ناراضگی سے کہنے لگی . تمھاری بھلائی اور فکر سے ہی سب نے یہ فیصلہ لیا ہے ہما بیٹی ، پھر تو ہماری فکر کرنے والے امی ابو کے پاس لے چلئے ہمیں ان سے پوچھنا ہے ، ہاں ہاں ضرور وہ کہتے کہتے رک گئی کیونکہ احسان صاحب اندر داخل ہورہے تھے ، کیا ہوا بیٹی وہ ہما اپنے امی ابو کے پاس جانے کی ضد کر رہی ہے انھیں دیکھ کران سے مشوره کرنا چاه رہی ہیں ، مگر بیٹا وہ دونوں تو ای سی یو میں ہیں ، کیا؟ ہاں تب ہی تو میں نے یہ بات کہی شائد آپ کی شادی کی خبر سن کر وہ ٹھیک اور صحت مند ہو جائیں گے ، اسکی آنکھیں لال انگار کی طرح ہوگئی تھیں اور ناک سرخ ، میرے ماں باپ کی صحت یابی کے لئے میں کچھ بھی کر نے کو تیار ہوں . ( جاری ہے)( باقی آئندہ).(  فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]