زندگی کے رنگ قسط ٢٠
وه بھی اپنے کمرے میں آگیا . ہما اور اثیر سو رہے تھے ، وہ سگریٹ کے کش لینے لگا ، دھواں اور تمباکو کی بدبو سے ہما کی آنکھ کھل گئی آپ یہاں سگریٹ .... اف توبہ! یہ کیا حرکت ہے جناب ؟ وہ خاموش بیٹھا رہا ! آپ نے سنا نہیں بچہ اٹھ جائے گا، تب بھی کوئی در عمل کا مظاہرہ نہیں کررہا تھا ، وہ آہستہ سے اٹھ کر اس کے قریب آگئ اور شانے پر ہاتھ رکھ کھڑی ہوگئی . کیا بات ہے آپ پریشان لگ رہے ہیں ۔ہاں وہ میں ذرا دوسری طرف دھیان تھا ، ہاں لیکن بات کیا ہے کچھ بتائیں تو پتہ چلے گا ، کچھ نہیں ؛ مجھے کچھ دیر کے لئے اکیلے چھوڑ دو پلیز ، وه وہاں سے ہٹ کر چلی گئی .
ہما ! جی ! ایک بات کہوں برا تو نہیں لگے گا آپ کو ؟ آپ نے بتایا نہیں تو فیصلہ کیسے ہوگا وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی ، وہ بھی اسے بغور دیکھتا ہوا قریب آنے لگا . آپ میرے بغیر رہ سکتی ہو نا ؟ کیا مطلب ؟ میرا مطلب یہ ہے کہ کچھ دنوں کے لئے اپنے میکے چلے جانا ، کیوں ؟ پرسوں ہی تو جاکر آئی ہوں سب خریت نا ؟ ارے بابا ویسی بات نہیں ، ادھر آجاؤ میں آپ کو ساری تفصیلات سے آگاه کردوں گا پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ اوکے ؟ جی ، یہاں بزنس کو لیکر غلط فہمیاں شروع ہو گئی ہیں . اور اس معاملہ میں آپ کو یہاں رکھنا مجھے مناسب نظر نہیں آرہا ہے ، یہ سارے معاملات سٹ ہونے تک آپ امی کے ہاں سکون سے ره لينا میں ہر روز آجاؤنگا نا اور کیا ، فون بھی کر لیے نگے ، کیوں کیا خیال ہے رانی ؟ وہ کچھ دیر بعد راضی ہوگئی ، ا شہر کا آدھا مسلہ حل ہو گیا وہ مطمئن ہوکر اثیر اور ہما کو پیار کرنے لگا۔
بیوی اور بچے کو سسرال چھوڑ کر آجانے کے بعد وہ کسی سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کررہا تھا. عاصمہ تو نواسی کی خدمت میں بزی تھی ردا بھی زیاده کمرے میں مقید رہتی وہ خود کھانا نکال کر ٹیبل پر بیٹھ گیا اور بغیر کسی کا انتظار کئے شروع کردیا۔ ساری حرکتوں کو عاصمہ نوٹس کررہی تھی مگر خاموش تھی . کھانا کھا کر وہ روم میں آ گیا اور سوگیا۔
کیا بات ہوگئی بیٹی تم زیاده دن رہنے کے ارادے سے آئی ہو کیا ؟ سب خریت ہے نا وہاں پر ؟ہاں امی پتہ نہیں آپ کے داماد نے ہی یہاں رہنے کو کہا ؟ اچھا تو پھر ٹھیک ہے سکون سے ره لو ، جی امی
ہاں تو اشہر تم نے کیا سونچا ، وه جان کر بھی انجان بننے لگا ، کس بارے میں ؟ وہی ہما کی طلاق یا پھر مجھ سے علحیدگی ؟ دونوں بھی نہیں . یہ تو کل کا جواب ہے ، آج کا بولو ، آج کا بھی وہی جواب ہے ، تو پھر ٹھیک ہے میں ہی دوسری طرف مکان کرایہ پر لے لیتی ہوں امی آپ کو کیا ہوگیا آخر کیوں اس طرح سے ضد پر آگئی ہیں آپ . ضد نہیں آنکھیں کھل گئی ہیں بس مگر بات کیا ہوئی . کچھ نہیں وہ سب تمھاری سمجھ سے باہر ہے ، تم سمجھے سے قاصر ہو . آپ بتائیے تو سہی ، نہیں میں اس بارے میں کچھ اور کہنا یا سننا پسند نہیں کرتی ،
آپ کی ضد کے آگے میں نے ہما کو میکے چھوڑ آیا ، ہاں تو اس میں میرا کیا قصور ، آپ ہی نے تو اس کی گھر میں موجودگی کو ناپسند کیا ہے . اور اب آگے بھی سمجھے ... ٹھیک ہے وہ ہمیشہ سے وہیں رہے گی ، آپ بے فکر رہیے ، ہاں ٹھیک ہے وہ یہاں نہیں آئے گی سمجھے ـ جی وہ کھانے سے اٹھ کر چلاگیا۔
اے زندگی تیرا یہ کیسا امتحان ہے یا آزمائش
رنگوں میں ڈھلنے سے پہلے سبھی رنگ دھل گئے
جان میری لے تو بلا عذر خوشی سے
مگر قائم رکھ میرے رشتوں میں جان
( جاری ہے)(با قی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)