زندگی کے رنگ قسط ١٩
آیئے بھیا اشہر کو آفس روم میں داخل ہوتا ہوا دیکھر شرجیل کرسی سے اٹھ کھڑے ہوگئے . ارے آپ بیٹھ جائیے وہ بازو رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ، زرا سارا حساب چیک کرلیں گے ، جی بھیا وہ تمام کی تمام تر لڑاو يلس کے تعلق سے موجود نوٹ بکس کو ا شہر کے سامنے میں رکھ دیا ، اور ا شہر نے باریک بینی سے سارے حساب کو دیکھنا شروع کردیا ، کئی جگہوں پر غلطیاں رونما ہوگئیں ، آخر میں اس نے شرجیل کو بتا کر اسکا ردعمل دیکھنے لگا ، وہ بھیا مجھے اس بارے میں کچھ یاد نہیں ہے ، میں تو ہر روز برابر چیک کرلیتا ہوں پتہ نہیں یہ سب کیسے ہوا ، مگر آپ ہی تو بیٹھتے ہیں نا پھر اس طرح کی لا پرواہی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرا وه ناراضی کو ظاہر کرتا ہوا کہنے لگا۔ وه دراصل بھیا میرا ایک دوست بھی میری مدد کے لئے یہاں بیٹھا کرتا تھا ، آپ کو میں نے بنانا مناسب نہیں سمجھا ، کیوں ؟ وہ ردا اور مامی جان( عاصمہ) مجھے ہی سارا بزنس سنبھال نے کو کہے تھے مگر وہاں ابو کو بھی میری ضرورت تھی اس لئے میں نے انھیں ناراض نہ کرنے کے لئے دوست کو بیٹھا کر جانے لگا ا شہر کو چکر سا آنے لگا یا خدا حق دار محروم اور غیر فائد ہے میں اب اس نقصان کے ذمہ دار آپ ہی ہیں وہ غصہ سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
ردا کب سے ہوشیار ہوگئی وہ سونچتا ہوا گھر کو چلا گیا ، ہال میں عاصمہ ردا کی لڑکی ورده کو گود میں لیے بیٹھی تھی ، اسلام علیکم امی ، وعليكم السلام وہ روکھے انداز سے جواب دینے لگی . امی آج مجھے ایک بات کا انکشاف ہوگیا ہے ! کیا ؟ بلکہ یقین سمجھنے ارے کس بات کا عاصمہ فکرمند انداز سے پوچھنے لگی . شرجیل بھی آفس میں نہیں بیٹھتے تھے ، تو پھر؟ وہ دوست کو بیٹھا کر خود اپنی دکان کو جاکر آتے تھے ، نہیں تمھاری باتوں میں مجھے سچائی نظر نہیں آرہی ہے عاصمہ نے مشکوک انداز میں کہا ۔ یہ بات خود شرجیل نے مجھے بتائی ہے امی اشہر نے زور دیکر کہا ، مگر وہ ایسا کیوں کر کریں گئے ؟ کیونکہ آپ کی اور ردا کی ضد کے آگے مجبور ہوکر وہ ایسا کرے ورنہ انھیں ہمارے بزنس سے کوئی دل چسپی نہیں ہے . نہیں تم نے یہ غلط اندازه لگایا ہے ، ہاں آپ دونوں نے ملکر سب غلط کردیا . کیا بکواس کررہے ہو ، تمھاری عقل مار کھا گئی کیا ؟ ہر وقت ہمیں پر الزام تراشتے رہتے ہو کبھی اپنی لاڈلی بیگم کے کارناموں پر بھی نظر کرم عنایت فرمایے وہ بیٹے کو با ادب طنز کرنے لگی . امی بات ایک ہوتی ہے اور آپ دوسرا موضوع کیوں نکال لیتی ہیں میں یہاں بزنس کی اور گھاٹے کی شرجیل کی عدم دلچسپی کی بات کررہا ہوں اور آپ ہیں کہ ہما کو بیچ میں گھسیٹ رہی ہیں ، ! تو کیا میں غلط کہہ رہی ہوں ؟ اور نہیں تو کیا ـ چپ بیٹھو ، یہ سب ہما کا لگایا ہوا فتنہ ہے اور کیا ! آپ پھر خواه مخواه گناہ کی مرتکب ہورہی ہیں . تم نے کونسا دین دار ہنے رہنے کا ٹھیکالے رکھا ہے . ماں سے بات کرنے کا یہی طریقہ ہے کیا اسلام میں ؟ اور میری تربیت بھی ایسی تھی کیا ،؟ امی آپ ہی نے اپنے تمام تر نیک رویوں کو بھول کر نجانے کیوں اس طرح سے بد سلوکی اختیار کئے ہوئے ہیں، تو پھر ٹھیک ہے میرا برتاؤ اگر پسند نہیں ، تو تم اپنی رسوئی الگ کرسکتے ہو ، یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی ! ہاں میں نے کافی سوچ سمجھ کر یہ بات کہی ہے مجھے تم اور تمھاری بیوی کے کرتوت پسند نہیں اور ویسے بھی میں ہما کو اس گھر میں برداشت نہیں کرسکتی ، مگر کیوں امی ؟ بس مجھے وہ نا پسند ہے اگر ماں کے ساتھ رہنا منظور ہوتو طلاق دے دو، اور اگر بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا گوارا ہو تو ماں کو چھوڑ کر چلے جاؤ ، مجھے دونوں کے ساتھ رہنا ہے ، اب یہ مشکل کیا نا ممکن ہے ، کیوں کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رکھ سکتے ، ہما تلوار نہیں ہے امی ، ہو سکتا تمھاری نظر میں ، میری نظریں تو اسے کچھ اور ہی سمجھ رہی ہیں . کل تک کا وقت ہے سونچ لو . وه ورده کو لیکر اپنے کمرے میں چلی گئی .
میرا قصور یہ ہے کہ ا کتساب زندگی رکھا
سزا تو ملے گی جو مجرم بن کر ٹھرا
(جاری ہے)( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)