زندگی کے رنگ ‏ ‏ ‏قسط ‏ ‏١٨


کیا بات ہوئی آپ اس طرح سے غصہ میں کیوں ہو ؟ ہما اشہر کو دیکھ کر پوچھنے لگی . جس بات کا مجھے ڈر تھا ہما آخر کو وہی ہوا شرجیل کی نادانی ہےیا پھر ہوشیاری کہ بزنس میں گھاٹا آ گیا اور موصوف نے قرضے بھی لئیے ہیں اس کی ادائیگی کے لئے نوٹس آنے شروع ہوئے ، اور ادهر امی کا کہنا ہے کہ شرجیل بہت قابل لڑکا ہے ، اب بتاؤ میں کیا کروں ، اُف مجھے اسی بات کا ڈر لگا ہوا تھا کہ پاپا کا بزنس کہیں بند نہ ہو جائے اب دھیرے دھیرے اُسی طرف جارہا ہے ، اور ہونا بھی چاہئیے تھا غیروں کو مداخلت کا موقع دیکر امی نے یہ حال کردیا. اور پھر سارا الزام مجھ پر لگا رہی ہیں ، وہ کیسے ہما سوال کر بیٹھی میں آفس میں نہیں بیٹھ رہا ہوں اور دل چسپی کم ہوگئی ہے وغیره وغیره .
  جو ہوا سو ہوا اب آگے کیا کرنا ہے اس بارے میں سونچے ورنہ نقصان بہت ہوگا ، اب ایک ہی راستہ ہے وہ ہے شرجیل سے جوابدہی اور ان کا تخلیہ مگر امی نہیں مانے نگی وہ فکر مند انداز سے کہنے لگی ، مانو يا نہ مانو فیصلہ تو کرنا ہی پڑے گا اور اس کے لئے ہر لحاظ سے تیار رہنا پڑے گا . مطلب ؟ کہہ نہیں سکتے امی ہمیں گھر سے بے دخل کردیں نگی یا بزنس سے ہٹا دیں نگی یا پھر آپ کو شدت سے برا بھلا کہہ کر دل کا بھڑاس نکال سکتی ہیں کچھ بھی ہوسکتا ہما مگر میں ان ساری باتوں کا سونچ کر چپ نہیں رہ سکتا ۔ جی ! مگر ہر مسلہ کو دور اندیشی اور حکمت سے حل کرنا ہی عقل مندی کہلاتی ہے ہما نے اشہر کو سمجھایا ،  دیکھتے ہیں کہ کون عقل مند ہے اور کون بے وقوف 
  رات کے کھانے پر سب جمع تھے ، اس موقع کو صحیح مان کر اشہر نے بات چھیڑ دی . " شرجیل وہ کمپنی سے لیٹر آیا ہے کہ قرضے کی ادائیگی کی جائے جلد از جلد " آپ نے دیکھا ؟ ہاں نظر سے گزرا بھیا ، پھر؟ ارے آپ ٹینشن مت لیجے ایسے کئی لیٹرس آتے جاتے رہیں نگے ، مگر ادا تو کرنا ضروری ہے نا، اشہر اپنے غصہ کو قابو میں رکھتے ہوئے بات کررہا تھا ، کردیں نگے ، ہاں ۔ وہی . کل حساب کرکے رقم کتنی ہے اور کیا ادا کرنا ہے دیکھیں گے ، جی مگر رقم کے بارے میں ساری تفصلات مجھے نہیں معلوم ہے ، کیوں آپ ہر روز آفس میں ہی بیٹھا کرتے ہیں ، وہ میں وہ در اصل . وہ بات کو گھما پھرا رہا تھا ، ا شہر اس سے باضابطہ انٹرویو لے رہا تھا ، جبکہ عاصمہ کو بیٹے سے نفرت سی ہورہی تھی، وہ ماں کے بدلتے تیور دیکھ کر وہ خاموش ہوگیا ، ٹھیک ہے کل افس میں بات کریں گے شرجیل ، جی بھیا وہ بھی مطمئن ہو گیا۔
  
دوسرے دن اشہر آفس پہنچ گیا . شرجیل پہلے سے موجود تھے۔
  بلا وجہ رنگوں کو دو ش نہ دینا
زندگی کا ہر رنگ پیارا ہوتا ہے

  (جاری ہے)( . باقی آننده) (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]