زندگی کے رنگ قسط ١٧
عاصمہ کی بے اعتنائی اور سخت کلامی کی وجہ سے اشہر کی زندگی میں بے رنگ پرچھائیاں سی چھا گئی وہ اب پہلے جیسا ا شہر نہیں رہا ، ان تمام فضول باتوں کو ہما نے نہیں سنا تھا ورنہ اس پر کیا بیت نے والی تھی . یہ سب خیال کرکے وہ اور افسرده ہو جاتا ، نڈھال طبیعت لئے وہ کام سے کام رکھنے لگا ، اس کی یہ حالت زار کو ہما غور کرنے لگی ، آپ ان دنوں کچھ پریشان نظر آرہے ہیں ، کیا بات ہے ہمیں بھی بتائیے ، کچھ نہیں ہما بس کام زیاده لگ رہا ہے اس لئے اور کچھ نہیں ، شرجیل بھی تو آپکی مدد کو ہیں نا ، ہاں ہے تو لیکن داماد ہے ذرا محتاط ہی رہنا چاہیے ، ہاں یہ تو صحیح ہے ، اچھا آج ذرا مجھے امی کے ہاں جانا ہے لے جائیے گا ، اوکے جان آپ ریڈی ہو کر مجھے کال کرلینا آجاؤنگا ،جی ، وه اثیر کو نہلانے لے کر چلی گئی . اشہر سنا ہے کہ تم کام میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہے ہو ؟ امی نے اسے راستہ میں ہی پکڑ کر پوچھ لیا ، وہ بھی غیر ارادی طور پر جواب دیتا ہوا کہنے لگا ایسی کوئی بات نہیں ، تو پھر آفس میں کیوں نہیں بیٹھ رہے ہو ، آپ تو جانتی ہی ہیں کہ شرجیل کی موجودگی میں میں باہر کا ورک سنبھال لیتا ہوں ، اچھا ٹھیک ہے ، وه اپنے کمرے میں آکر مسہری پر لیٹ گیا ، عاصمہ کے تمام باتیں ذہن میں گردش کررہی تھیں ، بہت کوشش کے باوجود بھی وہ ان تمام باتوں کو بھلا نہیں پارہا تھا .
رشتوں کی رنجشیں اور پھر ان کی نزاکتیں
کس حد تک ثابت قدم رہ پاؤ نگا پتہ نہیں
دل کا روگ سا لگتا ہے یہ جوڑے رکھنا سب
دوڑ کب ٹوٹ جائے گی یہاں پتہ نہیں
میری زندگی میں اتنا بڑا طوفان آ ئے گا یہ میں نے کبھی خواب و خیال یا تصور بھی نہیں کیا تھا، انسان کسی رشتے سے منسلک ہو جائے تو دوسرے رشتوں کی وقعت ختم ہوجائے گی ، ایک دوسرے سے وابستگی سے رشتے مضبوط ہونا اور پائیدار ہونا لازمی ہے یہاں تو کچھ اور ہی منظر سامنے آرہا ہے . کیا یہی رشتوں کی حقیقت ہے . انسان جس مرحلہ سے گزرتا ہے ، اسکا اثر دوسروں پر کیوں لاگو کرنا چاہتا ہے اور اپنی زندگی کے خوشگوار عرصہ کو خود تک ہی محدود کیوں کرنا پسند کرتا ، وه ایسے کئی سوالات کے جوابات خود تلاش کرنے لگا مگر ناکام ہی رہا .
دن ہفتے اور ہفتے مہینوں میں گزر کر بيت گئے . ردا کی ڈیلیوری ہو گئی اور لڑکی ہوئی سب بہت خوش تھے سوائے عاصمہ کے کیونکہ انھیں لڑکے کی چاه تھی . اب اس تناؤ میں وہ اور زیادہ ہما اور اثیر کو برا بھلا کہنے لگی ، اشہر برداشت کرتا رہا آخر کار ایک دن وہ بھی ماں سے بد ظن ہوگیا . امی ہر وقت کا ٹوکنا اچھا نہیں وہ ماں کو تنبیہ کرنے لگا ، بزرگوں کے ٹوکنے سے ہی سب کی اچھی تربیت ہوتی ہے سمجھے وہ چڑ کر بیٹے کو کہنے لگی ، ہاں مگر گھر میں اس وقت سب کی تربیت ضروری ہے . وه بھی ماں کو برابر کا جواب دینے لگا . اچھا تو تمھارا مطلب ہے میں نے جانبداری برتی ، مطلب نہیں میری پیاری امی مجھے یقین ہے وہ بھی ڈھٹائی سے جواب دینے لگا . تم تو ڈھیٹ بن کر ماں کے ساتھ گستاخی کرنے لگے ہو اشہر ، عاصمہ نے بات پلٹ دی . ہاں امی اگر بڑے بزرگ اپنے اقدار کو نظر انداز کرنے لگے نگے تو بچے بھی گستاخ بن جائیں گے . خیر چھوڑیے اس بحث کو یہیں ختم کردیتے ہیں . ہما نے کھانا لگا دیا ہے چلئے . وه برا منہ بناتی ہوئی اٹھ کر کھانے کے ٹیبل کی طرف چل دی
جس دن کا مجھے ڈر تھا آخر کو وہی ہوا وہ خود ی سے کلام کرتا ہوا گھر میں داخل ہوا . کیا ہوا؟ ہمانے حیرت سے سوال کرڈالا .
اب کوئی بچانا پائے گا گلستان کے رنگوں کو
کالے رنگ نے آگھیرا ہے سارے باغ کو
( جاری ہے)( . باقی آئنده) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)