زندگی کے رنگ قسط ١٦
شادی کے تیسرے سال میں ردا حاملہ تھی ، ماں تو وارے نیارے جارہی تھی ، شرجیل بھی بہت خوش تھا ، اشہر اور ہما بھی خوش تھے ، اُدھر بزنس میں آہستہ آہستہ نقصان ہونا شروع ہوگیا۔ بغیر اشہر کو اطلاع دیئے شرجیل نے خانگی کمپنیوں سے قرض لیے، اس بات کا انکشاف اشہر کو ہوگیا وہ آ پے سے باہر ہوگیا .
امی میں یہ کیا سن رہا ہوں ، کیا ہوا اس طرح سے پریشان کیوں ہو؟ کیا دنیا ڈوب رہی ہے ؟ ارے آپ بھی خیر چھوڑیے مجھے ابھی پتہ چلا کہ شرجیل نے خانگی کمپنیوں سے قرضہ لیا ہے ، ہاں تو کیا ہوا ، مگر اس کی ضرورت کیوں آن پڑی ؛ ارے آہستہ بولو اندر ہی ہے داماد اگر سن لیا تو بے عزتی ہوگی ، آپ بے عزتی کی بات کررہی ہیں اور اگر نہیں ادا کیا تو ہمارا بزنس کادیوالیہ نکل آئے گا تب جو ہوگی وہ کیا اور اسکی فکر کریں آپ ، میں نے آپ کو پہلے ہی آگاه کیا تھا کہ شرجیل اس فیلڈ میں نااہل ہیں مگر آپ نے میری بات نہیں سنی اور اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ، کیا ہے ؟ ہمیں قرضوں کی ضرورت کیا تھی . الحمد لله کافی اچھا خاصا بزنس تھا اب یہ لون اور قرضے میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے اور آیگا بھی نہیں ! عاصمہ نے کر خت لہجہ میں بیٹے کو کہا اور شرجیل نے بزنس کو آگے ترقی دینے کے لئے یہ اقدامات اٹھائے ہیں ، قرضے لینے سے کوئی تجارت ترقی یافتہ نہیں ہوتی امی اور زوال پذیر ہوجاتی . اور شرجیل کو اس بزنس میں شراکت دار بناکر آپ غلطی کر بیٹھیں ، خبردار اس معاملہ میں اور ایک لفظ بھی سننا مجھے گوارا نہیں ، اگر شرجیل کو بزنس پاٹنر رکھنا تمھیں پسند نہیں تو تم الگ بزنس کر لے سکتے ہو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور ہاں میری بیٹی اب حاملہ ہے اسکی دیکھ بھال میری ذمہ داری ہے اسے کسی قسم کا کوئی بھی ٹیشن دینا مجھ سے نہیں ہوگا سمجھے ، تو آپ سارے کا سارا بزنس شرجیل کے ہینڈ اوور کر دیں نگی بس اور کیا ! شرجيل بہت قابل لڑکا ہے وہ بہترین انداز میں بزنس سنبهال لے گا ، ویسے بھی تمھاری بیوی نے تو ہمیں ہر طرح سے ڈوبو دیا اب تم پیچھے مت پڑ جاؤ ، وه سکتہ کی سی حالت میں آگیا ! ہما نے کیا کیا امی ؟ کیا کیا ؟ اس ڈائن کی وجہ سے میرا بھائی بھری جوانی میں فوت ہوگیا اور تم نے اسے خوشی خوشی اپنا لیا ، مگر پاپا !ہاں تمھارے پاپا اور تم نے ملکر فیصلہ لیا ! تو کیا آپ راضی نہیں تھیں ؟ نہیں نہ میں راضی تھی اور نہ ردا ان کی ضد کے آگے ہم ماں بیٹی نے دم سادھ لی ، اور بياه کر آئی بس سسر کو بھی بھیج دیا ، وہ اس گھر میں جب تک رہے گی ہر طرح کا نقصان ہی ہوگا اور تم کہتے ہو کہ شرجیل نے غلط کیا ، تم غلط ہو سمجھے ! وه غش کھا کر گر جاتا اگر بازو کرسی نہ ہوتی ، آپ ہما کو مورد الزام کیوں ٹھہرا رہے ہو اس میں اس بے چاری کی کیا خطا ، بڑی خطا یہ ہے کہ وہ اس گھر کی بہو بنی اور پوری تباہی مچادی تو کیا اس لڑکی سے میں خوش ہوں جو میرے ماں باپ کے اکلوتے بیٹے کو کھاگی اور میرے صحت مند شوہر کو، ا می آپ کا یہ روپ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا امی آپ یہ بات کیوں بھول رہی ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کررہی ہیں کہ پاپا کا انتقال ردا کی شادی کے بعد ہو ا اور میری شادی کے بعد ہما کے پاپا کا انتقال ہوا تھا، اور یہ سب حادثات کی ذمہ دار آپ نے ہما کو ٹھیرا دیا ، واہ امی واہ بس کرو اب بیوی کے غلام اور اس ڈائن نے اپنے سحر سے تمھیں دیوانہ بنا دیا ہے جو کچھ تبدیلیاں رونما ہوتیں ہیں وہ بہو کےقدم سے نہ کے داماد کے سمجھے ، تمھارے پاپا کی وجہ سے ہر بات کو برداشت کرتے ہوئے آئی اب مجھ سے کچھ برداشت نہیں ہوگا ، اس میں برداشت کہاں سے آ گیا ، دیکھو بیٹے آپ دونوں کو اگر شرجیل کی شراکت داری پسند نہیں تو مجھے بھی گھر میں تمھاری حصہ داری پسند نہیں، اس گھر میں صرف میرا حكم چلے گا جس کو رہنا ہو وہ اس کو اپنا کر ہنسی خوشی رہ سکتے ہیں ورنہ الله حافظ
تیرا اتنا گھناؤنا رنگ بھی ہوگا اے زندگی
میری خطا کہ تجھے خوش رنگ ہی دیکھا
.
( جاری ہے)( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)