زندگی کے رنگ ‏ ‏ ‏قسط ‏ ‏١٤


وقت ہے کہ اشہب کی طرح دوڑ ا جارہا ہے اور اس کے ساتھ میں سب دوڑ لگانا ضروری ہے ورنہ پیچھے رہ جاتے اور شکست کھا جاتے . موت ، حیات ، خوشی ، غم ، ہار جیت سب الله کے ہاتھ ہے ، انسان تو بے بس ہے اس کے ہر فیصلہ کو لامحالہ قبول کرنا ہی پڑے گا ، وہ خالق کائنات ہے اور ہم اس کے بندے ... پھر شکایت کیسی اس کی رضا میں سب کی رضا شامل ہے . ردا کی شادی کو ابھی دوماه کا عرصہ گزرا تھا کہ مظفر منزل میں ایک غمناک حادثہ پیش آ گیا اور وہ تھا گھر کے صدر مظفر صاحب کی موت ، بہت ہی آزرده ہوگیا سارا ماحول یہ اچانک المیہ ان کی سمجھ سے باہر تھا . ایک خوشی ملی پھر اس پر غم ، آخر کو کیا ہوگا ، اب کوئی خوشیاں آئیں گئیں تو ساتھ میں غم بھی ضرور ہونگے ، اشہر ، ردا اور عاصمہ بہت افسردہ سے تھے ، ہما ہر طرح سے انکی خدمت میں لگی ہوئی تھی وہ بھی تو اب معمولی عورت نہیں تھی ، اپنی صحت کا خیال کرتی ہوئی سب کی دیکھ بھال کررہی تھی .
 "  مجھے تو کوئی عیب نہیں سمجھ آرہا ہے " مگر امی اس طرح سے آپ کیوں کر فیصلہ لے سکتی ہیں ا شہر ماں کو تنبیہ کررہا تھا ، میں نے ہر طرح سے سوچ سمجھ کر ہی یہ فیصلہ لیا ہے ، اب شرجیل ہمارے ہاں ہی رہیں گے . اس بات کے لئے ان کے والدين راضی ہوگئے کیا ؟ اگر نہیں ہوئے تو بھی ہم راضی کروا لیں گے ! اچھا تو ٹھیک ہے جیسی آپ کی مرضی ، وه ماں کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا 
   کیا ہوا آپ کو نیند نہیں آری کیا ؟ ہما اشہر کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے پوچھ بیٹھی ، ہاں جان پتہ نہیں مجھے نیند کیوں نہیں آرہی ہے ؟ آپ کوئی بات کو لیکر پریشان ہیں کیا؟ ہاں ! کس بات کو بتائیے مجھے بھی تو معلوم ہو ، جانے دو آپ خواه مخواه کے ٹینشن لیں نگی ، آپ کیے تو سہی . کچھ نہیں وہ شرجیل کو امی گھر جمائی کی طرح رکھ لینا سوچ رہی ہیں  . کیا ؟ ہاں ! مگر ان کے والدين انھی بھی راضی کرلیں نگی شائد ، اوکے تو اس میں آپ کو کیا دقت ہے ؟ بات دقت یا پریشانی کی نہیں میری رانی جب ایک اصول ہمارے لئے نافذ العمل ہو گا تو دوسروں کے لئے بھی ہونا چاہیے نا ، سمجھیں بدھو ، میرے لئے میرے سسرال میں رہنا غلط ہے تو اس گھر کے داماد کے لئے صحیح کیسے ہوگیا .
 اچھا ہی ہوگا آپ کے کام میں مدد ہوگی ہما نے سکون سے جواب دیا ، اب دیکھئے اگر امی نے کوئی فیصلہ لیا ہے تو ٹھیک ہی ہوگا نا ، وه ہما کے بھولے پن پر حیران تھا ، خیر جانے دو جو بھی ہوگا الله کی طرف سے سب کے لئے بہتر ہی ہوگا ، ہاں اشاء الله وه بھی اس کے ساتھ میں دعا گو ہو گئی .
   ہما اور اشہر کو چاند سا لڑکا مولود ہوا بڑا پیارا اور خوبصورت سا تھا دونوں بہت خوش تھے ایسا لگتا ہے جیسے سارے جہاں کی خوشیاں ان کے آنگن میں اتر آئی ہوں ، وہ خوشی سے بھولے نہ سما رہے تھے ۔ ردا اور شرجیل اور عاصمہ بھی بہت خوش تھے
   میری خوشی تیری ہنسی ہے
تو اداس ہو جاتا ہے میرا دل ا چاٹ ہو جاتا ہے
 جاری ہے ........(, باقی آئنده ) 
  (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]