زندگی کے رنگ قسط ١٢
وعدے ، وفا اور قسمیں یہ سب تو نئے شادی شده جوڑوں کی عام بات ہوتی ہے ، محبت وہ نہیں جو جسم سے کی جائے ،محبت تو روح کا رشتہ ہوتا ہے یہ وہ پاکیزه جذبہ ہے جو صرف محسوس کیا جاتا ہے ، جو بنا مانگے بغیر آوا زکئے دلوں میں گھر کرجاتا ہے ، ہم چاه کر بھی کسی سے محبت نہیں کرسکتے اور بنا چاہے کسی سے محبت ہو جاتی ہے ، اور بنا چاہنے سے ملنے والی چاہتیں صرف ہمیں ان رشتوں سے حاصل ہوتی ہیں جن کو الله تعالی نے ہمارے لئے بنائے ہیں ، ہماری خوشی ، ہمارا چین اور ہماری آرزوئیں ، ہمارے ارمان اور ہماری ترقی ہمارا سکھ سب انہی رشتوں میں پوشیدہ رہتا ہے اس لئے ہی تو حديث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ "رشتوں کو توڑنے والا جنت ميں داخل نہیں ہوگا " . ان میں شوہر بیوی کا رشتہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے . جو آئندہ کی نسلوں اور پاکیزہ معاشرہ کی نشوونماکا ایک اہم حصہ ہوتا ہے ،
اسی لئے اس رشتہ کو ہر زاویہ سے بہتر طورپر دنیا میں جوڑے رکھنا ضروری ہے جوکہ ہماری آخرت میں بھی سرخ رو ہونے کا ذریعہ ہے دنیا میں عزت کا باعث بنتا ہے .
اشہر اور ہما نے بھی رشتہ زوج کو اللہ کی نعمت کے طور پر قبول کرلیا تھا اور ہر طرح سے زندگی کو پُرنور اور پرسکون بنانے کے وعدے کرنے لگے .ہما کے حسن میں جو وفا اور سچائی تھی اس کی وجہ سے اشہر بہت متاثر ہوچکا تھا ورنہ اکثر حسین دوشیزائیں تو مغرور اور بہت ہی بد تمیز پائی جاتیں ہیں . ہما ایک سادی اور سلیقہ شعار لڑکی تھی . اس نے اپنے خوبصورت ہو نے کا کبھی احساس ہی نہیں ہونے دیا .
اِدھر احمر کے والدین صحت یاب ہو کر گھر آگئے اور اُدھر ہما کے والدين بھی . زندگی حسب معمول پُر سکون انداز سے رواں دواں تھی ،
یہ ہونٹوں کے گلاب اور آنکھوں کے شراب میری امانت ہیں وہ سرگوشی کرتا ہوا گزر جاتا ، وہ اور شرماتی اور مسکرا دیتی ہما کی خوبصورتی کے چرچے ہر طرف پھیلنے لگے ، وہ سسرال میں اچھا نبھا رہی تھی . کبھی کسی کو شکایت کا موقعہ نہیں دیا۔ ردا بھی اس سے زیاده مانوس ہوگئی تھی اشہر جب تک گھر میں ہوتا بس اس کی نظریں ہما کا طواف کرتی رہتی ، وه مسرور ہو جاتا اسے دیکھ دیکھ کر اور موقعہ بہ موقعہ اس کی تعریف میں قصیدہ گوئی بھی ہوجاتی ، ہما شرماتی ہوئی کہنے لگتی آپ بھی تو ہمارے برابر ہیں آپ میں ماشاء الله کوئی کمی نہیں پھر کیوں اس قدر ہماری تعریف کرتے ہیں ، وہ اور خوش ہو جاتا .
شادی ہوئے چار ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا ، ہما اور اشہر کی زندگی میں ایک اور مہمان کے آمد کی اطلاع مل گئی یعنی ہما حاملہ تھی ، اب ا شہر اسے زیادہ کیر لینے کو کہتا . سب ٹھیک ٹھاک تھا پر اچانک ایک صبح ہما پر غموں کی بجلی گر پڑی ہما کے والد سردار خاں صاحب کا انتقال ہوگیا ، اس بری خبر کے سنتے ہی وہ گر پڑی، ا شہر ردا اور عاصمہ نے دوڑ کر اسے اٹھایا وہ بے ہوش ہوگئی تھی ، اسے فوراً اسپتال لے جایا گیا ، کافی دیر معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹرس نے خطرہ سے باہر ہے کہا تب کہیں جاکر سب نے چین کی سانس لی ادھر ہما کی والدہ ریشما کا رورو کر برا حال تھا ، ایک کے بعد دیگرے حادثات کا ہوتے جانا انہیں بری طرح سے توڑ کر رکھ دیا . اب یہ ٹراو یلس کا بزنس کون سنبھالے گا ان کی تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ، ہما نے ہر طرح سے تسلی دی پھر بھی وہ روئے جارہی تھی اور اپنے شوہر کی کمی کو یاد کرتی جارہی تھی " آخر انھوں نے کیا سکھ پایا ہما ، ہمیشہ محنت کرتے رہے بیٹی کی شادی کا سونچا اس وقت وہ حادثہ اب ذرا محت ہوئی تھی کہ اچانک الله تعالی نے بلوا ہی لیا " وہ بہت رورہی تھی میں بالکل ٹوٹ چکی ہوں، ریشما خود پر قابو نہیں پا رہی تھی .
سفر زندگی کا آغاز تو کر لیا ہے
ضرورت زندگی کا سامان کہاں سے لائیں
کب کس وقت کہاں کون ساتھ چھوڑ جائے گا کس کو ہے خبر وہ ماں کو سنبھالتی ہوئی رو رہی تھی ،
ا شہر نے جو فیصلہ لیا اس سے عاصمہ اور مظفر صاحب کو شاک لگا کیونکہ اشہر ان کی بھی اکلوتی نرینہ اولاد ہے اور انھیں بھی اشہر کی ضرورت ہے مگر بغیر اپنے والدین کے رائے مشوره کے وہ سردار خان صاحب کا بزنس سنبھالنے کا وعده کرچکا تھا اور گھر جمائی بننے کے لئے راضی ہوگیا . ہو سکتا تھا اگر وہ ماں باپ کی رضا مندی سے یہ قدم اٹھاتا تو وہ بھی راضی ہوجاتے لیکن اس طرح سے ان کی رضا مندی اور رشتہ کو وہ نظر انداز کرنا غیر مباحثابت ہوا اور وہ بیٹے سے ناراض ہوگئے۔
اس کا کہناتھا کہ اس نے وقت کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے کوئی پری پلاننگ نہیں ہے اب ہما اور اس کی ماں کو اس کی ضرورت تھی کیونکہ وہاں کوئی بیٹا نہیں اور کوئی بھروسہ مند مرد نہیں ایسے میں اشہر کا ساتھ ان کے لئے بے حد ضروری تھا . ( جاری ہے)( باقی آئندہ)( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)