اک تیری رفاقت ‏( ‏قسط ‏٦) ‏


آنکھ موند کر کھولنے جیسا چلتے بنے یہ دن پتہ ہی نہیں چلا کہ منصور کی چھٹیاں ختم ہونے کو صرف دودن باقی رہ گئے تھے وہ مسہری پر لیٹا خیالوں میں اس قدر گم تھا کہ عائشہ کافی دیر سے اسے نوٹ کررہی تھی . آخرکار بے زار ہوکر وہ گلہ صاف کرنے لگی . اس کی آواز پر وہ چونک سا گیا ارے آپ کب آئی ، جب آپ خیالوں کے سمندر میں غوطے کھا رہے تھے وہ ہنستی ہوئی اس کے قریب بیٹھ گئی منصور نے اسے آغوش میں لے لیا تو بہ یہ کیا حرکت ہے . ذرا ہوش تو کیجیے ڈور کھلا ہے . تو کیا پردہ ہے . مگر چپ ..چپ .. کچھ دیر مجھے ایسے ہی رہنے دو پلیز وہ معصومیت سے کہہ رہا تھا . عائشہ اسکی گرم سانسوں کی تپش کو اپنے سانسوں میں محسوس کررہی تھی . عشو !ہوں ! ایک بات کہوں جی بُرا تو نہیں مانو گی نا آپ ایسا کیوں سونچ رہے ہیں مجھے آپ کی کسی بھی بات سے بُرا نہیں لگے گا . او عشو !اس نے عائشہ کو اور قریب کرتا ہوا کہنے لگا . اگر مجھے خدا نانخواستہ کچھ ہوجائے تم اپنی زندگی اپنی مرضی سے جی لینا الله اکبر !وہ اک جھٹکے سے اس سے دور ہو گئی آپ یہ کیسی عجیب سی اور بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں چلئے باہر ہال میں بیٹھتے ہیں دل بہل جائے گا . چلئے نا پلیز وه اسے اپنی طرف کھینچتی ہوئی اٹھا رہی تھی مگر منصور نے بھی طاقت آزمائی کی اور عائشہ کو اپنی طرف اس زور سے کھینچا کہ وہ جاکر سیدھے منصور کے اوپر گر پڑی دونوں نے یک ساتھ قہقہہ لگایا 
  ائے وقت تھم جا ذرا شرمیلی  محبت ہے
     اک تیری آہٹ سے کہیں وہ چل نہ دے
           
         وه پیا کنگ کرتا ہوا اداس لگ رہا تھا . عائشہ اسکی مدد کررہی تھی مگر دل سے وہ بہت غمگین تھی .اچانک اسے خیال آیا کہ اگر وہ منصور کے سامنے اداس نظر آئی تو وہ اور ٹنشن لے لیے نگے اس لئے خود کو پرسکون انداز سے ظاہر کرتی ہوئی اسکی مدد میں لگی ہوئی تھی .
  دل تو بہت چاہتا ہے کہ وه کچھ دن اور رک جائے لیکن جانا بھی ضروری ہے . منصور کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو بس چپ سادھ لیے ہر کام کو جلد ی جلدی نپٹانے کی فکر میں لگے ہوئے تھے . وه تو منصور کو ہی دیکھے جارہی تھی مگر مجال جو منصور نے اس سے آنکھ ملائی ہو بس کام میں خود کو مصروف کر رکھا تھا . آخر کو عائشہ سے رہا نہ گیا وہی مسکراتی ہوئی منصور کو مخاطب کر بیٹھی سینے ! ہوں ں .. جملہ کتنے بیگس ہیں لے جانے کے ؟ دیکھو وہیں رکھا ہوں، وہ غیر ارادی طور پر بغیر مطلب کے اندر باہر گھوم رہے تھے . آپ کچھ ڈھونڈ رہے ہیں کیا میں مدد کردوں ؟ نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی ! وہ دوسری طرف رخ کئے کہتا رہا۔ آخر کو تنگ آخر عائشہ خود اسکے روبرو جا کھڑی ہوئی اب بتادو کیا ہوا . وہ سر نیچے کئے زمین کو دیکھتا رہا عائشہ نے اپنے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو اوپر اٹھایا ؛ و ہ لرز کر ره گئی یا الله یہ کیا منصور کی آنکھیں انگار کی طرح سرخ تھیں یہ آپ وہ بے تحاشہ رونے لگی . اس نے عائشہ کو باہوں میں لے کر رو دیا. آپ میری فکر نہ کریں میں الحمد الله ٹھیک ٹھاک طرح سے ره لوں نگی وہ خاموش سنتا رہا آنسو اسکی آنکھوں سے بھی رواں تھے مگر لب خاموش ، وه کیا دلاسہ دے اُسے اس لیے اس کو اپنے سینے سے لگائے بت بنا کھڑا رہا 

  اپنے دل سے کبھی جدا مت کرنا
میری یادوں کو اس میں بسا ئے رکھنا

سانس بن کر تیرے ساتھ رہلوں نگا
میں زندگی تیرے سنگ جیلوں نگا

بہار بن کر تو آئی ہے زندگی میں
بادل بن کر تیرے ساتھ چلوں نگا

آغوش میں دو گھڑی لے لے اپنی
شکایت کبھی پھر نہیں کروں نگا 
 وہ رورہی تھی آخر کومنصور نے ہی اسے چپ کروایا . ارے پگلی ایسے رورہی ہو جیسے میں ہمیشہ کے لئے وداع ہورہا ہوں . اب ذرا مجھے بیٹھنے دوگی یا ایسے ہی کھڑے کھڑے سارے محبت کے کام ہونے ہیں وه اس سے جدا ہوکر کھڑی ہو گئی . کچھ دیر بعد منصور نے ہی اسے دوباره دلاسہ دیتے ہوئے کہا دیکھو نر گس کا رشتہ پکا ہوتے ہی میں آجاؤنگا آپ پریشان مت ہونا اگر دل نہ لگے میکے چلے جانا اور تم کو تو یہاں سب بہت اچھا خیال کریں گئے میں ہر روز کال کرتا ہی رہونگا نا کیا؟ اور کچھ الجھن کی بات ہے تو بتادو میں امی جی سے بات کرلونگا نہیں وہ سر کو جنبش دیتی ہوئی مسکرادی یہ ہوئی نا ہمت اور دلیر والی بات چلو اب باہر کا ماحول دیکھتے ہیں ذرا اپنا  تھو پڑا ٹھیک کرلو .
  دونوں باہر ہال میں آگئے سبھی وہاں براجمان تھے ارے آجاؤ بیٹے ماں نے محبت سے منصور کو اپنے طرف آنے کا اشاره کیا آجاؤ بیٹی آجاؤ وہ دونوں ماں کے قریب ہی بیٹھ گئے ارے بھابھی آپ بہت اداس ہو اور بھیا آپ نے بھابھی کو اور اداس ہونے کے ڈیلا گ تو نہیں سنائے نرگس کی باتوں پر سب ہنس دیئے رئیسہ بیگم نے بیٹی کو گھورا. نرجس نے ماں کو کہا امی نر گس کو بھی باہر ولایت کا رشتہ ہی دیکھیں تب پتہ چلے گا شوہر سے جدا ہو کر رہنا کس طرح ہوتا ہے اور وہ بھی صرف چند دنوں کی دلہن .
نا بابا نامجھے کہیں نہیں جانا اچھا معافی بھئی بس وہ دونوں ہاتھ جوڑکر عائشہ اور منصور کے سامنے کھڑی ہوگئی اس کی اس ادا پر سب ہنس دیئے اب جاکر بیگم سب کے لئے چائے بنالا لیے یہی سزا ہے آپ کی برجس نے آڈر دیا اور وہ چپ چاپ چلی گئی
    منصور تو ریاض کے لئے روانہ ہوگے . اِدھر عائشہ بہت اداس اور غمگین سی رہنے لگی . منصور کی رخصتی سے وه کچھ ڈسٹرب سی ہوگئی ابھی رات بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس کے کال کا انتظار کرنے لگی . گھر میں سب ماحول جیسے کا تیسا ہی تھا . کسی کو کوئی بات کی فکر یا الجھن نہیں تھی وہ اکیلی ہی اداس دل لئیے روم میں قید ہوگئی باہر کے شورشرابے سے اسکو کچھ سروکار نہ تھا وہ تو منصور کے وہاں لینڈ ہونے اورخیریت سے پہنچنےکی اطلاع سننے کے لئے مچھلی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی ... جاری ہے .....
  (باقی آئندہ)
   ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]