اک تیری رفاقت (قسط ٥)
صبح ناشتہ کی گڑبڑ شروع ہوگئی . نرگس عائشہ کے پاس آگئی . السلام عليكم بھا بھی ، وعليكم السلام وہ مسکراتی ہوئی جواب دی. بھابھی چلئے ناشتہ کرنے امی جی بلا رہی ہیں ہاں چلتے ہیں وہ بال سنوار رہی تھی . آپ بیٹھے نر گس بس دو منٹ .. جی نرگس اسے بغور دیکھے جارہی تھی . عائشہ ڈر سینگ ٹیبل کے آئنہ سے اسکا جائزہ لے رہی تھی . وه جھٹ سے اٹھ کر عائشہ کے قریب آگئ . بھابھی جی بولیے آپ کی یہ رنگ میرا مطلب انگوٹھی ہیرے کی ہے ناں. ہاں مجھے بے حد بھا گئی اچھا . کس نے گفٹ کی یہ وہ ..یہ .. وہ ذرا دیر سونچ کر گویا ہوئی یہ آپ کے بھیا نے دی ہے . اچھا واؤ آپ تو بہت لکی ہیں ہمارے ایسے نصیب کہاں جو ہیرے کی انگوٹھی پہنے.ارے ایسی باتیں نہ کرو آپ کا دولہا بھی اس سے کہیں زیادہ قیمتی تحفہ دے گا انشاء اللہ وہ اسے کرسی پر بیٹھا تی ہوئی مسکراتے ہوئے کہنے لگی . سچ بھابھی ، ہاں ـ اچھا تب تک آپ مجھے یہ دو گی میں اسے پہن کر اپنی فرینڈز کو بتاؤنگی . مگر نرگس وہ اب عائشہ کیا کہے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
ارے کیا ہوا نرگس دلہن کو لا رہی ہو یا نہیں جی امی آئے ہم لوگ ! چلئے بھابھی منصور دستر پر اس کا انتظار کررہا تھا . وه سب کو سلام کرتی ہوئی جاکر ساس کے بازو میں بیٹھ گئی . ارے عائشہ بیٹی جاؤ منصور کے بازو میں بیٹھ جاؤ ہمارےہاں سارے افراد خاندان کے ساتھ میں نئے شادی شده جوڑے کو بیٹھا یا کرتے ہیں تاکہ سب سے گھل مل کر فری ہو سکے جی وہ اٹھ کر منصور کے بازو میں بیٹھ گئ .
ناشتہ کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی ساتھ میں منصور بھی آ گئے . بس کچھ ثانیے گزرے کہ ماں نے آواز دی منصور بیٹے وہ عائشہ کو دیکھتے ہوئے جی کہتے باہر نکل گئے عائشہ کو نرگس کی باتیں یاد آرہی تھیں کہ انگوٹھی دیں اب بے چاری منہ پر ہی پوچھ بیٹھی مجھے دے دینا چاہئے تھا . اب کیا کروں کسی طرح اسے یہ انگوٹھی دینی ہے .
دوپہر کے کھانے کو وہ جب عائشہ کو لیجانے کے لئے آئی تب عائشہ نے انگوٹھی اس کی طرف بڑھا دی یہ لو نرگس آپ پہن لو ۔ کیوں بھیا نے دینے کو کہا کیا؟ ارے نہیں تو پھر صبح جب پوچھی تو آپ چپ رہی اور اب . ا یسا کچھ نہیں آپ لے لو وه انگوٹھی اس کی طرف بڑھا دی. اب آپ اتنا اصرار کررہی ہو بھابھی تو لے ہی لیتی ہوں .نرگس خوشی سے انگوٹھی لے کر رکھ لی .
ولیمہ کی ساڑی میں ملبوس عائشہ بہت خوب صورت لگ رہی تھی . منصور بھی بلیز ر میں خوب جچ رہے تھے . دونوں کی جوڑی بہت پیاری تھی . ہر کوئی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔
دل کی دیوار پر اڑتے رہے ملبوس کے رنگ
دیر تک ان میں تیری یاد کا سایہ چمکا
منصور عائشہ کو نظر بھر دیکھتے ہی رہ گئے سچ مچ میں وه بہت پیاری لگ رہی تھی . چلئے اب بہت دیر ہوگی ہے فنکشن ہال چلتے ہیں سب تیار کھڑے تھے . بلقیس آپا نے سب کو آواز دینے پر سب باہر نکل آئے دولہا دلہن کہاں ہے وہ آرہے ہیں آپا برجس آواز دی جلدی آجائیے دیر ہورہی ہے .
وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب سے " ہمیں اس طرح سے ہر ادا سے مارو گے تو پھر بغیر ہمارے کس طرح جی پاؤگے " سرگوشی کرتا ہوا گزر گیا۔ وہ چونک گئی اور مسکرادی ۔
رات دیر گئے وہ کمرے میں داخل ہوا وہ بھی بہت تھک چکی تھی کیا حال ہے رانی صاحبہ کا وه مسکراتی ہوئی اس کی طرف دیکھنے لگی . اور آپ کا
وہ بھی مسکرادیا . چلئے ایک دعوت تھی ہو گئی . اب سکون مل گیا . وه عا ئشہ کے ہاتھوں کو سہلاتے ہو ئے کہنے لگا . ارے یہ کیا آپ کی وہ رات والی رنگ کیا ہوئی. کونسی وہ جان کر انجان بن رہی تھی . ارے وہی یار جو میں نے گفٹ کی تھی . دیکھو یہیں کہیں گر گئی ہوگی وہ جھٹ اٹھ بیٹھا اور ہر چیز کو تلپٹ کرنے لگا . اب ذرا میرے ساتھ میں کچھ آپ بھی ہاتھ بٹائیں گئیں یا چپ چاپ دیکھتے رہوگی وہ اسے مخاطب کرتا ہوا تلاش کو جاری رکھے ہوئے تھا .
آپ اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہیں . لو اب کیا بتاؤں میرا سہاگ رات کا گفٹ اور وہ بھی کوئی معمولی نہیں قیمتی دونوں لحاظ سے دل سے رقم سے کہتی ہو "پریشان کیوں ہو رہے ہو" . وه مسکراتا ہوا اس کے قریب آ گیا . چلو نکالو کہاں چھپا کر رکھی ہو ارے یار کم از کم میرے جانے تک تو پہن رکھو اس کے بعد آپ کی مرضی لاؤ جلدی سے اب کیا ساری رات اسی میں لگے رہنا ہے . منصور نے تحکمانہ انداز میں بات کی
تھوڑی دیر بعد عائشہ اس کے قريب ہوتے ہوئے کہنے لگی . وه بات دراصل یہ ہے کہ وہ انگوٹھی میں نے نرگس کو گفٹ کر دی کیا؟ وہ حیران و پریشان نظروں سے عائشہ کو دیکھنے لگا . آپ ، آپ عائشہ آپ ایسا نہیں کر سکتیں ۔ وہ غصہ اور افسوس کے ملے جلے تاثرات لیے بیٹھ گیا۔ عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے آپ مجھے معاف کردیں وه ہاتھ جوڑے اس کے سامنے کھڑی ہوگی ارے نہیں عائشہ آپ مجھے شرمنده کیوں کررہی ہو . ٹھیک ہے چلو . کافی رات ہوگئی وہ فرش اپ ہوکر آگئی .
عشو جی ایک بات پوچھوں جی! وه اگر آپ کو اپنی پیاری نند کو گفٹ دینا ہی تھا تو کوئی اور انگوٹھی نہیں تھی آپ کے پاس ؟ کیا ؟ جی وہ .... اسے کیسے بتاؤ کہ اس نے نہیں بلکہ خود نرگس نے مانگ کرکے حاصل کرلی کیا ہوا میڈم کچھ پھول جیسے الفاظ مجھ ناچیز کو تحفے میں دیں نگی .
وہ کچھ دیر تک سو چ ساچ کر کہنے لگی . صبح جب نر گس مجھے ناشتہ پر ہلوانے آئے تھے اس وقت انھوں نےمجھ سے انگوٹھی کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے کہہ بھی دیا تھا کہ آپ نے گفٹ کی ہے . انھیں بہت زیاده پسند آگئی اور پوچھ بیٹھی میں دوپہر میں دے دی .
عائشہ تم سچ میں بہت معصوم ہو آج تم نے میری ہیرے کی انگوٹھی دیکر تمہارا ہیرے جیسا دل مجھے بتا دیا اور میرے دل میں ایسی جگہ بنالی کہ بس وہاں سے تم کبھی نہیں نکل پاؤ گی . وه مسکراتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی . ایک ہی رات گزری اور وعدے بھول جائیں گے کیا وہ آہستگی سے اس کے کان میں سرگوشی کی نہیں ... بالکل نہیں وہ ہنستا ہوا اس کے اور قریب آ گیا۔
عائشہ کی نیک نیتی تو ظاہر ہو گئی لیکن ساتھ میں اسے نرگس کی بد نیتی بھی سمجھ میں آگئی لیکن اس نےظاہر نہیں کیا بہن کی برائی نہیں کرنا چاہ رہا تھا . جاری ہے ......
(باقی آئندہ)
(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
