زندگی کے رنگ ‏ ‏قسط ‏ ‏٢ ‏

 اگر الله تعالی چھپر پھاڑ کر بندوں کو دیتا ہے تو بعض اوقات انسان نعمت کو پرور دگار کی نظر کرم نہیں مانتا، اور اس غلط فہمی کا شکار بھی ہوجاتا کہ یہ سب تو میری اپنی محنت اور سعی کا نتیجہ ہے ایک طرح سے یہ تکبر اور نعمت کی ناشکری بھی کہلائے گی  ۔ یہ تو بشر کی فطرت میں شامل ہے کہ خوشیاں اسکی اپنی محنت کا صلہ اور پریشانیاں اوپر والے کی دین ہوتی ہیں ، سونچ کر مطمئن رہتا ہے ، غم ہو کہ خوشی . ہر آزمائش اور ہر امتحان الله کی طرف سے ہی نازل کئے جاتے ہیں .
 محمود صاحب تو کافی محنتی انسان ہیں لیکن بیٹا احمر ذرا محنت سے چی چراتا حالانکہ گھر کی تقریباً ساری ذمہ داری اسکو سونپ دی گئی ، تاکہ آئندہ وہ ایک ذمہ دار انسان بن جائے مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں گڑبڑ کر ہی جاتا اور والد سے باتیں سننی پڑتی ، ماں بھی اسکی کی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر بیٹے کو ڈانٹ تی ، مگر یہ احمر کے ساتھ ناانصافی معلوم ہوتی ، کیونکہ اب اس میں احمر بیچاره کا کیا قصور کہ بچپن میں لاڈ پیار اور بڑے ہونے پر کھرا کھوٹا ، بچوں کو ہم بچپن سے جس تربیت کے دائرے میں پروان چڑھاتے ہیں ، وہ سن بلوغت میں بھی ویسی ہی پرورش کے رنگ دکھاتے ہیں ، اس لئے ہمیشہ اس خیال سے بچے کے ساتھ سلوک روا رکھنا کہ کہیں بڑا ہو کر یہ بچہ یا بچی اس عادت میں پختگی نہ اختیار کر لے ، پھر اس کے ذمہ دار ہم خود ہو جائیں گے  اور ان عادتوں کو ہٹانا یا نکالنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوجاتا ، ہمارے اسلاف کے مروجہ اقدار ، اور ان کے اوصاف کو اپنی نسلوں میں شامل کر کے اپنے خاندانوں کی پہچان کو بنائے رکھنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے  . اب تو خاندان بالکل مختصر ہوتے جارہے ہیں ، اس سے ہمیں بچوں کی صحیح تربیت کرنے کا موقعہ کم ہی فراہم ہورہا ہے کیونکہ گھروں میں بزرگوں کا سایہ موجود نہیں جس سے ہماری اولاد تربیت پا سکے اور  دوسرا وقت کے ساتھ ساتھ ہماری طرز زندگی اس قدر مصروف ترین ہورہی ہے کہ ہم خود اپنی اولاد کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتے ، اختر بیگم نے  تواحمر کے ساتھ سختی والا معاملہ برتا تھا لیکن باپ کے بے جا لاڈ و پیار نے احمر کو لاابالی بنادیا ، اور ویسے پیدائش سے امیری کی چوکھٹ پر قدم رکھا تھا اس نے ، جہاں تک دوستانے کا تعلق ہے بری صحبت سے تو دور ہی ہے لیکن ہوٹلنگ اور غیر ضروری خرچے کرنا اس کی عادت میں شامل تھا ، یم .بی.اے کرنے کے بعد اب اس کی شادی کرنے کے بارے میں ماں باپ کو خیال آگیا دیکھنے میں خوب رو ، پڑھا لکھا اور سب سے بڑی بات امیر لڑکا ہے ہر کوئی لڑکی دینے کے لئے آگے آرہے تھے مگر ایک تصویر پر احمر کا دل آگیا ، تصویر کیا تھی قیامت تھی ، " ہما " بے انتہا خوب صورت بس ایسی جیسے کہ پری جمال ہر عیب سے پاک ، وه بھی پڑھی لکھی اور اکلوتی لڑکی تھی ہما ٹراویلس والوں کی کافی بڑا بزنس تھا پھر تو بات برابری کی ہوگئی احمر تو بہت خوش تھا کہ ایک پری اس کی زندگی میں آرہی ہے . سچ خوب صورت شریک حیات ملنا بھی بڑی قسمت والی بات ہوتی ہے بشرطیہ کہ وہ اس خوب صورتی کا صحیح استعمال کرے ورنہ وبال ہوجائے گی شوہر کی حیات .

  اس تصویر حسن کو کیا نام دوں
فلک سے پری جمال کو اتارا گیا
 اختر بیگم نے کہہ دیا کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوجانا چاہیئے ۔ دونوں طرف سے تیاریاں زور و شور سے شروع ہو چکی تھیں ، ہر چیز اعلی سے اعلیٰ تر اور کسی بات میں سمجھوتہ بالکل بھی نہیں آخر کو محمود صاحب کے اکلوتے وارث کی شادی جو مقرر ہوئی ، ادھر ہما ٹراویلس کی اکلوتی صاحبزادی کی شادی جو پکی ہوئی ہے ،

ہنگامہ برپا ہے ہر طرف ایک قیامت صغری سا
کیا کوئی امیر اپنی حیثیت کی دنیا بتا رہا ہے
(  جاری ہے)(. باقی آئندہ) ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]