اک تیری رفاقت ‏( ‏قسط ‏ ‏٢٠)

 آپ ہمیشہ سے خود کو نصیبوں والا کہتے ہو ، میں بھی تو
 بہت خوش نصیب ہوں اچھا وہ کیسے منصور اس کو مسکراکر دیکھتا ہوا پوچھنے لگا ، دنیا میں کئی ایسے مرد پائے گئے ہیں جو بیوی کی بات کبھی بھی ، ہرگز بھی نہیں سنتے چاہے کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے ، بیوی کی بات سننا وه خود کی بے عزتی اور غلامی، کمزوری سمجھتے ہیں ، مگر آپ ان میں سے نہیں ہیں یہ میرے لئے قسمت کی بات نہیں تو اور کیا ہے ! ایک دوسرے سے ہم خیال ہوکر ہر مسلہ کو حل کرنا ایک دوسرے کے جذبوں کی قدر کرنا ، ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھنا ، خوشی کے ایک دوسرے کے سنگت والے لمحوں کو پا مال ہونے سے بچانا ، ایک دوسرے کے تعلق سے مثبت سونچ رکھنا یہ  سمجھ داری اور رفاقت زندگی ہے ، ورنہ مخالفین بن کر ہم خود اپنی زندگی کو نہ سلجھا سکے تو دوسروں کی کیا مدد كر پائیں گئے ، صحیح اور سچی بات چاہے کسی نے بھی کہی ہو خوش اسلوبی اور اپنائیت سے اسکو ہم قبول کرنا یہ ہے عقل مندی ، ورنہ ہماری زندگی ایک ایسی مثال بن جا ئے گی کہ ہر کوئی ہنسی مذاق اڑاتے رہنگے ، جگ ہنسائی کے لئے ہم ایک نمونہ بن جائیں گے۔
 ہاں عشو تم سچ کہہ رہی ہو ، مگر تم نے کبھی غلط کہا ہی نہیں تو بھلا پھر میں کیوں نہ مانو تمھاری بات ، اس کی معصومیت پر وہ ہنس کر رہ گئی، آپ کی سونچ مثبت رہنے کی وجہ سے میری ہر بات آپ کو بھلی لگتی ہے ورنہ منفی سونچ والوں کو صیح بات بھی غلط معلوم ہوتی ہے ، خیر جانے دیں اب ان باتوں کا اب بس کر دیں یہ ٹوپک یہیں پر ختم وہ بھی ہاں کہتا ہوا اشاره کرنے لگا۔
  کچھ دن بعد منصور نے جانے کی بات چھیڑی ، رئیسہ بیگم نے دونوں کو جانے کی اجازت دے دی وہ ساتھ میں آنے سے انکار کرتی ہوئی کہنے لگی ، بیٹا میں اب اس عمر میں نہیں پھرتی ، تم عائشہ کو لے کر جانا چاہتے ہو تو جاؤ ، مگر میرا مشوره ہے کہ تم عقد ثانی پر غور کرو ۔ منصور نے انتہائ عاجزانہ طریقے سے ماں سے کہنے لگا " امی مجھے اولاد سے زیاده عائشہ کی ضرورت ہے میں خود کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنی زندگی کو مصیبت زده نہیں کرنا چاہتا ، عائشہ تو میری ہر غلطی اور ہر نادانی کو بخوشی اپنا لے گی مگر میں اس سے دور ہوکر کبھی خوش نہ رہ سکوں گا اور کیا یقین کہ مجھے دوسری عورت سے اولاد ہوگی اگر نہ ہوئی تو تب کیا ہوگا ، میں عشو کی نظروں میں گر جاؤں گا اور ویسے بھی مجھے ان باتوں سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی اگر الله تعالی نے ہمارے حق میں اولاد جیسی نعمت لکھی تو ضرور ہمیں دے گا ، اور دوسری عورت میری عائشہ جیسی نیک اور سمجھ دار اور عقل مند نہیں ہوسکتی ، زندگی میں ، میں نے کیا نیکی کی تھی  پتہ نہیں کہ الله نے مجھے اس جیسی بیوی عطا فرمائی "، بیٹے کے منہ سے بہو کے بارے میں قصیدہ گوئی سن کر وہ ہکا بکا سی ره گئی ٹھیک ہے بیٹے آگے تمھاری مرضی ہاں مگر ماہانہ میری رقم پابندی سے بھیج دینا ، یہ کہتی ہوئی وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی وہ بھی باہر نکل گیا۔ رات میں اس نے عائشہ کو ساتھ لے جانے کا کہہ دیا وہ بہت خوش تھی . مسرور سی ہوکر کہنے لگی سچ ہم اب یک ساتھ رہیں گے ، ہاں عشواب جانے کی تیاری شروع کردو ہمیں امی کی جانب سے اجازت بھی مل گئی ، کاش امی بھی ساتھ میں آتیں ۔ ہاں مگر اب یہ سب چھوڑ دو بس تم تیاری کرلو دودن بعد یہاں سے جانا ہے . ٹھیک ہے .
   آج ریاض کو آ کر انہیں تین سال کا عرصہ ہوچکا تھا ، الله تعالی نے چاند سا بیٹا انھیں عطا کیا ، وه یہیں پر رہ کر سارا علاج کروا لی اور ڈیلیوری بھی یہیں پر ہو گئی منصور کی خوشی کی کوئی انتہاہ نہیں ہے وہ خوشی سے بھولے نہ سما رہا تھا . ماں کو فون کرکے اطلاع دیا وہ بھی خوش ہوگئی "امی بس آپکی دعا ہے کہ اللہ نے ہمیں اولاد سے نوازا امی آپکے خاندان کا وارث آگیا . " ہاں ہاں بیٹا مبارک ہو . امی میں انڈیا آونگا انشاء الله اچھا کب آرہے ہو ابھی نہیں امی میں انشاء الله اطلاع دوں گا . ٹھیک ہے .
 عشو دیکھا ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے ہاں وہ بہت خوش تھی ، آپ کی نیک نیتی سے اللہ تعالی نےخوش ہوکر ہمیں یہ نعمت سے سرفراز کیا ، نہیں تمھاری نیکی کی وجہہ سے . دونوں ایک دوسرے کو کہتے سنتے رہے کہ اچانک منصور کے دوست آصف نے آکر کہا ارے اب دونوں کب تک ایک دوسرے کو اچھے کہتے رہیں گے . سب یک ساتھ ہنس دیئے 
  عائشہ میں نے ایک بات نوٹ کی ، کیا ؟ یہی کہ بعض رشتے دوری بنائے رکھنے میں ہی مضبوط رہتے ہیں اور بعض رشتوں کو قربت بے حد ضروری ہو جاتی ہے خاص طور پر شوہر بیوی کا رشتہ ہمیشہ قربت کا محتاج رہتا ہے اس میں جتنی دور ی آتی جائے گی اتنی ہی غلط فہمیاں بڑھتی جائیں گئیں ، ہاں آپ نے سچ کہا . اور بعض رشتوں کو جذبوں اور انسانوں کی قدر نہیں ہوتی انھیں دولت سے مطلب ہوتا ہے ، خیر جانے دو ہم کسی کی فکر میں خود کو کیوں پریشان کریں ، اللہ کریم ہر ایک کو معاف فرمانے والا اور عفو و درگزر کرنے والا وہی ہے .
 " امی ہم لوگ ایک ہفتے میں آرہے ہیں " ایک دن منصور نے ماں کو کال کرکے اطلاع دی ، ٹھیک ہے بیٹے وه روکھا سا جواب دے کر فون رکھ دی ـ
 مدثر خان کو لے کر وہ ماں کے گھر آیا ، یہ کیا یہاں تو سب بدلا بدلا سا ہے ماں نے سارا گھر کرایہ پردے دیا اسکا کمرہ بھی اور سامان کہاں ہے وہ نظر یں دوڑا رہا تھا کہ ماں نے اس کی بے چینی کو بھانپ لیا اور کہنے لگی ، وہ صحن میں جو چھوٹا سا کمرہ تھا ناں وہاں رکھوادیا تمھارا سارا سامان ، اب دیکھو بیٹا تم لوگ تو آنے جانے والے نہ تھے میں نے سونچا بے کار کے ایک کمرہ کیوں ایسے ہی پڑے رہنے دیں اس لئے ، ہاں ٹھیک ہے امی  . ارے آجاؤ میرے چنده وه پوتے کو گود میں لیتی ہوئی خوشی کا اظہار کرنے لگی منصور اور عائشہ دونوں نے جاکر کمرے کی صفائی شروع کردی ، سامان زیاده اور کمره چھوٹا کس طرح رہ پائیں گے ، وہ دل میں بہت غصہ ہو رہا تھامگر عائشہ کے سامنے بالکل نارمل طریقہ کا ر کو اپنا رہا تھا ، چھی میں عائشہ کی نظروں میں گر گیا . وه کیا سوچ رہی ہوگی کہ دیکھو دولت کی لالچی ماں نے بیٹے کا روم بھی کرایہ پر دے دیا . کاش میں آنے کا ارادہ نہیں کرتا تو کتنا اچھا ہوتا وہ بہت آزرده ہو گیا .
 وہ خاموش اپنے کام میں مصروف تھی ، اس نے دیکھا کہ اس کےچہرے پر ذرا سی بھی خوشی نظر نہیں آرہی تھی . سنیے ، بولو ! آپ ایسے افسرده کیوں ہیں ، نہیں تو ! اچھا میں نے غلط انداز ہ لگایا شائد ؛ وه دوبارہ خود کو مصروف کرتی ہوئی کہنے لگی ، یار تم مجھے اچھا پڑھ لیتی ہو، نفسیاتی ڈاکٹر بنتی تو اچھا ہوتا ، اچھا وہ مسکراتی ہوئی شوہر کو دیکھنے لگی ، اب دیکھو یہ دن دیکھنے میں آئے کیا ضرورت تھی امی کو سارا گھر کرایہ پر چلانے کی میں ہر ماہ رقم بھیجتا رہا اور سب اخراجات پورے ہوتے ہی رہے . جانے دیں انکا گھران کی مرضی پندرہ دن ہی کی تو بات ہے پھر ہم چلے جائیں گے . ویسے وہ اکیلی بور ہو رہی ہونگی ، اچھا ہے دل بہلائیگی ہو جائے گی ، تم سے بات کرنا بس وہ کہتا ہوا خاموش ہوگیا ہر بات کو ایسے اچھے انداز سے مکمل کرتی ہو کہ سامنے والا لاجواب ہو جاتا ہے . وه عائشہ کو اپنے باہوں میں بھرتا ہوا کہنے لگا . 
    تیری قربت ہی میری ساری پونجی ہے اثاثہ ہے
 تو میری دعا ہے میری آخرت کا سرمایہ ہے
  
( جاری ہے). (باقی آئندہ)(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]