اک تیری رفاقت (قسط ١٦)
ڈاکٹر رضیہ نے پندرہ دن عائشہ کو اپنے ہاسپٹل میں رکھا ، سب یہی کہتے کہincubator میں ہے ابھی یہاں ماں کے پاس نہیں لایا جاسکتا، ایک دو مرتبہ کسی کی بچی کو لاکر دیکھا کر لے جایا گیا وه پرسکون انداز سے ره جاتی ، منصور نے بھی کبھی اس کے سامنے اپنی اداسی کا اظہار نہیں کیا، وه عائشہ کی دلجوئی میں لگا رہتا ، بس اسے یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ گھر منتقل ہونے پر عائشہ کو کیا جواب دے گا ،
او محبت تجھ سے کیسے کروں سامنا بتا
کاش وقت تھم جاتا میری اضطراری کے ساتھ
پھر ایک دن ڈاکٹر رضیہ نے منصور سے کہا " اب اس طرح سے ہم عائشہ کو کب تک دھوکے میں رکھے نگے " جی مگر آنٹی اسے بتانے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے ، ہاں یہ بات تو سچ ہے منصور مگر ہمیں عائشہ کیcounselling کرنی پڑے گی ، میں اسے ہر بات کو ایک انداز سے سمجھا دونگی آپ بس میرا ساتھ دینا جی ، وه ڈاکٹر رضیہ کی باتوں کو بغور سنتا رہا ، ہاں ٹھیک ہے ، کیونکہ منصور اگر اب اس حالت میں اسے کوئی شاک لگنے والی نیوز سنائی جائے گی تو پتہ نہیں کچھ بھی ہوسکتا ، اس لئے ہر بات کا خیال رکھتے ہوئے سمجھانا چاہیئے ، جی ... گھر جانے سے پہلے پہل اگر وہ بچی کے نہ بچنے والی بات کو اپنا لے گی تو پھر کوئی پریشانی نہیں ہوگی ، ورنہ دماغ پر بھی اثر ہوسکتا ہے منصور ،جی ، وه اداس لہجہ لیئے سنتا رہا ، آپ فکر نہ کریں آنٹی ہم عائشہ کوconvince کر لے نگے ، ہاں ٹھیک ہے اب میں عائشہ کو بلواتی ہوں آپ اس کے ياس جائیے دونوں آجائیے گا جی ، وه اٹھ کر مرده قدم ڈالتا ہوا عائشہ کے ہاں چلا گیا ، وه چھت کو تکتی ہوئی نہ جانے کیا سونچ رہی تھی کہ اس کے آنے کی بھی آہٹ تک نہ سنی ، کیا بات ہے کچھ زیاده ہی خیالوں میں کھوئی ہوئی ہیں محترمہ ، ارے آپ ، جی ، آپ کب آئے وہی تو آس پاس کی بھی خبر رکھیے وه ہنس دی . صاحب آپ دونوں کو میڈیم بلوار ہی ہیں ، نرس نے ا کر اطلاع دی ٹھیک ہے آپ چلئے ہم ابھی آتے ہیں ، آنٹی نے اب کیوں یاد فرمایا پتہ نہیں چلیں دیکھتے ہیں ،
ارے آجائے منصور میاں عائشہ اندر آجائیے وہ خوش دلی سے دونوں کا استقبال کرتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوگئی ، ارے آنٹی آپ ، آپ بیٹھیے، وہ ذرا نادم سی ہوگئی ، ہاں ہاں آپ لوگ تشریف رکھئے وه بیٹھتی ہوئی دونوں کو اشاره کرنے لگی ۔
ہاں عائشہ اب کیسا محسوس کررہی ہو؟ جی الحمد الله ، اچھا دوائیاں وقت پر لے رہی ہو نا ،جی ! گڈ ؛ آنٹی مجھے کب ڈسچارج ہونا ہے ، وہ سوال کر بیٹھی ، ہاں ہاں اسی بات کو کرنے میں آپ کو یہاں بلوائی ہوں ، جی ! اب دیکھو عائشہ ماشاء الله سے آپ اور منصور میاں دونوں پڑھے لکھے ، ذی شعور ، اور متقی ہیں ، جی ،کسی بھی بات کا واویلا تو آپ نہیں مچائیں گے ، مگر آنٹی یہ سب باتیں آپ ہم سے کیوں کہہ رہی ہیں ؟ وہ سوال کرڈالی ، ارے ایسی بات نہیں عائشہ دیکھو جس سمجھ داری اور عقل مندی سے تم نے منصور اور اس کے گھر والوں کو ہینڈل کیا ہے وہیں پر مجھے تمھاری پرہیز گاری سمجھ میں آگئی ، وه چپ سی بیٹھی رہی ، قدرت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں عائشہ، اب دیکھو انسان کے منصوبے ایک ہوتے ہیں اور الله کی پلاننگ ایک ہے ناں جی ! مگر اللہ تعالی ہمارے حق میں کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتا، اس کےہر فیصلے میں حکمت چھپی ہوتی ہے ، ہم انسان نادان ، یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمارے حق میں غلط کیا ، یہ تو بڑی کفر کی بات ہے ، ہے ناں عائشہ ،جی ، ! جان دینا یا جان لینا ، عزت دینا عزت لینا ، دولت دینا ، پھر چھین لینا ، علم دے کر آزمانا کہ ہم اس علم سے کس طرح خود مستفید ہو کر دوسروں کے لئے مشعل راہ بنتے ہیں ، صبر، آزمائش یہ سب الله تعالی اپنے برگزیده بندوں کو عطا کرتا ہے جبکہ اس کی رحمت کو جوش و خوشی حاصل ہوتی اور وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ دیکھو میری فلاں بندی میری آزمائش میں کیسے خود کو ڈھال رہی ہے ، دیکھو فلاں بنده کس طرح سے میرے فیصلوں کو بخوشی اپنا رہا ہے ، ہم یہ نہ سمجھنا کے بماری تقدیر خراب ہے ، یا ہماری قسمت خراب تھی . کبھی بھی ہم جب آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں تو کفریہ جملے کہہ دیتے ہیں ، یہ سراسر غلط ہے ، کیوں ہے نا عائشہ ؟ وہ رورہی تھی آنٹی آپ اب بس بھی کیجے پلیز ... ارے آپ رو کیوں رہی ہو مجھے آپ یہاں سے ڈسچارج کردیجے مجھے گھر جانا ہے ، اچھا بابا ٹھیک ہے اس میں رونے والی کونسی بات ہے ؟ ہے آنٹی ! وہ یک دم ڈاکٹر رضیہ کو دیکھنے لگی ، کسی نے آپ سے کچھ کہا ، نہیں : تو پھر اور کیا بات ہوگئی ؟ منصور بھی اس کے کانہ ھے پر ہاتھ رکھتا ہوا دیکھنے لگا ، گھر کی بہت یاد آرہی ہے کیا وہ شرارتاً ہوچھنے لگی ، وه نفی میں سر ہلا دی ، خیر جانے دو اب آگے سوالات نہیں ، اگر آپ پسند کریں گئیں تو بتائے ورنہ چھوڑ ہے اس بات کو ڈاکٹر رضیہ نے عائشہ کے آگے پانی کا گلاس بڑھا دیا ، وه ایک ہی سانس میں پانی کو ختم کرتی ہوئی گلاس رکھ دی ، اور چاہیے ، ؟ جی نہیں ! آنٹی میں گھر کب جاؤں وہ سوال کو دہرانے لگی ابھی کچھ دن طبیعت سنبهل جانے دو ، نہیں میں یک دم فٹ ہوں وہ مسکرادی، اچھا گڈ پھر تو کل ہی کردونگی ڈسچارج ، جی و مطمئن ہو گئی اور اٹھنے کی اجازت لینے لگی ہاں اب جائیے ، وه پس وپیش میں تھی کہ عائشہ کو کس طرح بتائے ،
جاتے جاتے عائشہ نے رک کر ڈاکٹر رضیہ سے کہا ، " آ نٹی آپ نے میری جان بچانے کے خاطر ایک معصوم جان کو ختم کردیا " یہ بھی تو غلط کیا آپ نے ، وه روتی ہوئی باہر آگئی اور منصور اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا آگیا ، عشوروکو سنو عشو وہ کہتا رہا اور عائشہ اپنی بیڈ کے قریب روتی ہوئی آگئ .
عشو سنو میری بات وہ اس کے قریب آگیا ، وه آگے بڑھ کر اس کے سینے سے لگ گئی اور بے اختیار اور بے تحاشا رونے لگی ، چپ ہو جاؤ جان صبر کرو اس طرح رو نے سے صحت ہر اثر پڑے گا کچھ دیر تو رو نے دیجےمجھے میرا جی ہلکا ہوجائے گا، ہاں مگر دیکھو صحت کا خیال کرو الله نے چاہا تو پھر اولاد دے گا ہمیں اس طرح سے نا امید نہیں ہونا چاہیے،
ہاں آپ نے سچ کہا مجھے تو بس آپ کی فکر تھی کہ آپ نے میری بہت دیکھ بھال کی مگر لاحاصل ، کہاں غلطی ہوگئی جو ، جانے دو عشواب ہم دوبارہ ہماری دنیا بسائیں گے ، بے کار سے خیالات کو ذہن سے نکال دو ،جی ! مگر اس کو اور اس گناہ کو میں تاحیات یاد رکھونگی اور الله رب العزت سے معافی مانگتی رہونگی۔ شائد وہ اپنی رحمي اور کریمی کے صدقے مجھے معاف فرما دے گا . ضرور انشاء الله وه بیوی کو اپنے اور قریب کرتا ہوا کہنے لگا ۔
آہستگی سے اسے بیڈ پر بیٹھا تا ہوا منصور نے سوال کرڈالا عشو ایک بات بتادو آپ کو کیسے معلوم ہوگیا کہ وہ کہتا کہتا رک سا گیا ، جس دن آنٹی نے ڈیلیوری کرکے لڑکی ہوئی کہا تب مجھے ذرا کھٹکا کہ رونے کی آواز نہیں آرہی ہے اور مجھے بتایا بھی نہیں ، پھر تیسرے دن جب میں نے سسٹر سے بچی دیکھنے کی بات کہی تو وہ مجھے خود لاکر دیکھانے کا کہہ کر ایک بچی کو میرے پاس لے آئی ، چند ہی منٹ بعد ایک خاتون دوڑتی ہوئی آئی سسٹر سے کہنے لگی میری بچی کہاں ہے اور اس بچی پر نظر پڑتے ہی وہ مطمئن انداز سے مسکراتی ہوئی کھڑی تب سسٹر نے اشاره کرکے جانے کو کہا جو میں نے دیکھ لیا ، اس کے جانے کے بعد وہ بھی بچی کو لیکر چلی گئی اب اتنی نادان بھی نہیں ہوں کہ بات کو نہ سمجھوں ، سب میں بڑی بات یہ کہ میں نے آپ کے چہرے پر حقیقی مسکراہٹ یا خوشی نہیں دیکھی ، اور تو اور بلقیس آپا نرگس ، نرجس ، برجس کسی نے بھی نام کے ہارے میں نہیں پوچھا اور آکر مجھے مبارک باد تک نہیں دیئے ، خیر جانے دیجیے وہ آنسو ہو چھتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی .. منصور نے اس کی ایک ایک بات کو نوٹ کرتا ہو ا ، سارے گزرے ہوئے مناظر کو دہرانے لگا ، ہاں سچ ہی تو کہا اس نے کسی نے اسے مبارک باد نہیں دی ، سب بیکار کی باتیں دل سے نکال دو میری جان ، میں ہوں نا ، ہاں بس یہی ایک آس اور امید پر میں جی رہی ہوں کہ آپ نے مجھے کبھی غلط نہیں کہا ، تم غلط ہوہی نہیں سکتی عشو وہ اسکے ہاتھ پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھتا ہوا مسکرادیا۔ اِب دیکھو کل ہم گھر چلے جائیں گے وہاں کے کسی بھیevent سے یا باتوں سے دل برداشتہ ہرگز بھی نہیں ہونا اوکے ، اوکے وہ دھیمی سی مسکراہٹ لیۓ کہنے لگی آپ بھی تو افسرده رہنے لگے یہ کیا میرے لئے اچھی بات ہوگی ۔ ڈاکٹر رضیہ کے آتے دیکھ کر منصور اور عائشہ اٹھ کھڑے ہوئے، ارے بیٹھے آپ لوگ کیوں اٹھ رہے ہیں وہ ياس آکر بیٹھ گئیں ، دیکھو منصور ہم دونوں عائشہ کو کس طرحconvince کرنا ہے اس تفکر میں تھے . اور آپ کی بیوی تو بہتgreat نکلی وہ عائشہ کی پیٹھ تھپتھپاتی ہوئی کہنے لگی ، واقعی عائشہ آپ نے جو نیک دلی اور سمجھ داری کا مظاہرہ کیا اس سے میں بہت متاثر متاثر ہوگئی الله سے میری یہی دعا ہے کہ وہ جلدازجد تمھاری گود بھر دے آمین
وہ دونوں کو تقدس بھری نظروں سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی
حیف ہے دنیا تیرے مکار بندوں پر
خدائی کی صناعی کو نظر انداز کردیا
دو روحوں نے ایک دوسرے سے وعده وفا کرلیا
اب دنیا کی فکر اور زمانے کی جستجو انھیں کہاں
خدا کی رحمت ان پر برسنے لگے گی ضرور
جس نے دوسروں کی خوشی کو اپنا سمجھا
شریک سفر شریک حیات جو بن جائے مجازی خدا
خدا واحد کی نظر کرم بھی ہوتی جائے گی ہے حساب
دوسرے دن صبح دس بجے کے قریب عائشہ کو ڈسچارج کردیا گیا۔ وہ روہانسی صورت بنائے منصور کے شانہ بشانہ چل رہی تھی .
(جاری ہے).( باقی آئندہ). ( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)
