اک ‏تیری رفاقت ‏( ‏قسط ‏ ‏١٥) ‏


  
  اور ایک ہفتہ اگر ہم سنبھال لیں گے تو خطرہ ٹل جائے گاcaesarean کر سکتے بس تب تک دعا کرتے رہو منصور الله تعالی سب بہتر ہی کریں گے ، ڈاکٹر رضیہ کی تسلی بخش باتوں سے وہ تھوڑا مطمئن سا ہونے لگا .
   وه تو گھر کا راستہ  بھول ساگیا تھا ، ہر وقت عائشہ کے پاس رہتا وہ جانے کو کہتی لیکن اسکا دل اسے چھوڑ کر جانے کو گوارا نہیں کرتا، عشو میں آیا ہی آپ کے پاس رہنے مجھے ہر وقت جانے کو مت کہو وہ اس کے بار بار اصرار کرنے پر کہنے لگا۔ ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن کچھ دیر آرام کرکے آ جائیں آپکی تھکان بھی دور ہوجائے گئی . تم سے دوری اب مجھے برداشت نہیں ہوتی بس مجھے یہاں اپنے قریب ہی رہنے دو پلیز وہ عاجزانہ طور پر اسے دیکھتا ہوا کہتے جارہا تھا . ٹھیک ہے جو آپ مناسب سمجھیں ـ 
   صاحب آپ کو ڈاکٹر صاحبہ بلوار ہی ہیں . نرس نے آ کر اطلاع دی . جی وہ عائشہ کو بتا کر ڈاکٹر رضیہ کے ہاں چلا گیا . بیٹھو منصور جی ، وه کرسی آگے کرتا ہوا بیٹھ گیا ، دیکھو منصور عائشہ کی کیفیت ذرا کریٹکل ہے ، مطلب میں نہیں سمجھا آ نٹی ؟ اب ایسا موڑ آ گیا ہے کہ دو جانوں میں کسی ایک کو ہم بچا پائیں گئے ، کیا ؟ وہ ششدر ساره گیا . ہاں منصور عائشہ کا بلڈ پریشر نارمل نہیں ہو پا رہا ہے اور اندر چھوٹی جان گھل رہی ہے جس سے عائشہ کے جسم میں زہر سا پھیل رہا ہے اور اگر دیر کریں گے تو دو جانوں کو خطرہ لاحق ہوگا ، مگر آنٹی آپ نے تو ایک ہفتہ ... ہاں مگر میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر کو بی   پی نارمل کیوں نہیں ہورہا ہے ۔ اف وه دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر بیٹھ گیا . اب الله کی مرضی شامل ہے منصور ہمارے ہاتھ میں جو ہے ہم کرسکتے ہیں آگے اسکی مرضی ہے ، وہ تو لٹ گیا ، برباد ہوگیا ، اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا کچھ دیر کی خاموشی کے بعد منصور نے کہا، آنٹی ہمیں عائشہ کو بچا لینا ہے میری عائشہ صحت یاب ہو جائے بسمجھے اور کچھ نہیں چاہئیے آپ آپریش کی تیاری کیجیے وہ دو ٹوک فیصلہ کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوگیا ، ٹھیک ہے منصور اب تم جا سکتے ہو 
      یہ کیسے کیسے رنگ دیکھا تی ہے تو زیست
  کبھی دیتی ہے  کبھی دیکر چھین لیتی ہے خوشیاں

   مقدر سے کوئی گلہ کیوں کرے یہاں
 تقدیر تو بدلتی ہے تدبیروں سے یہاں 

   وہ اداس چہره لئیے عائشہ کے ہاں آ گیا ، کیا ہوا کیا کہا آنٹی نے وہ پوچھنے لگی ، کچھ نہیں بس ایسے ہی رپورٹ دینے بلوایا تھا ، اچھا ، وہ بھی خاموش ہوگئی۔
 اچھا عشو ایک بات بتاؤ تمہیں لڑکا ہونا یا لڑکی ؟ مجھے لڑکا ہونا جو آپ جیسا ہو وہ مسکراتی ہوئی کہنے لگی اور آپ کو ؟ مجھے تو صرف آپ ہونا ، وہ بے اختیار کہہ گیا . کیا مطلب وہ گھورنے لگی ، ارے یار یہ لڑکا لڑکی جو بھی ہو چلے گا ، بس صحت مند ہوں یہ دعا کریں ہاں یہ بات سچ ہے وہ اسکی باتوں سے متفق ہوگئی ـ وہ عائشہ کو بنا کچھ کہے کرسیِ پر درازکل کے ہارے میں سونچتا ربا . عشو میں گھر جا کر آؤں ہاں ہاں کیوں نہیں وه خوشی خوشی کہنے لگی . تم اپنا خیال رکھنا اگر ضرورت پڑ جائے تو کال کر لینا جی ، وہ گھر آیا سب موجود تھے کسی سے کچھ بات نہ کی وہ سیدھا کمرے میں آگیا، ماں بہنوں نے اسکا اس طرح کا رویہ دیکھکر ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگیس ، کچھ دیر بعد وہ اسکے کمرے میں آ گئیں کیا ہوا بھیا ؟ نر گس نے پوچھا کچھ نہیں وہ خاموش بیٹھا رہا ، سب خیریت ناں برجس نے سوال کرڈالا ہاں تو پھر اس طرح خاموش کیوں ہو نرجس نے کہا . آخر کو بلقیس آپا نے پوچھا بات کیا ہے منصور کیوں اداس ہو ، وه بے اختیار رونے لگا ارے کیا ہوا ، کچھ کہو گے یا یوں ہی ... آپا وہ ہاں بولو وہ رضیہ آنٹی نے کسی ایک جان کے بچنے کی اميد ہے کہا ، کیا ؟ سب یک ساتھ کہنے لگے ہاں مگر اب تک تو سب اچھا تھا ہاں مگر بیـ پی نارمل نہیں ہورہا ہے وہ بھی بھائی کے ساتھ رونے لگیں . ارے کیا ہوا سب ادھر چلی گئیں ماں کی آواز نے انھیں چونکا دیا ، وه باہر آ گئیں کیا ہوا امی پوچھنے لگی ، بلقیس نے بتاديا ، وہ پرسکون انداز میں کہنے لگی الله کی مرضی ہے ہم کیا کرسکتے ہیں .
   دوسرے دن صبح دس بجے عائشہ کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا جارہا تھا ، وہ منصور سے سوال کرنے لگی ابھی کیوں مجھے آپریشن وہ کچھ نہیں عائشہ آپ اطمينان رکھیں سب ٹھیک ہو جائے گا، وہ بہت پریشان ہورہی تھی میں ہوں ناں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے .. وه رونے لگی ارے کچھ نہیں ہوگا ڈاکٹر رضیہ نے دلاسہ دیا دیکھو منصور یہاں باہر کھڑے رہے نگے اوکے اور میں ہوں ناجی پتہ نہیں آنٹی ایک انجان سا ڈر ہورہا ہے ، کوئی بات نہیں وہ اسکے ہاتھوں کو پکڑتی ہوئی کہنے لگی ،
  لیبر روم میں اسے لے جاکر انجکشن دیا گیا ، صبح تک نارمل ڈیلیوری ہو جائے گی اور اندر بے بی دم ... کہتے ہوئےوہ رونے لگی آنٹی آپ نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی اب خدا کی مرضی وہ رضیہ کو اداس لہجہ میں کہنے لگا ہاں منصور . چھوٹی جان کو مارنے سے بڑی جان بچ سکتی ہے ورنہ روز روز تھوڑا تھوڑا گل کر دونوں جانیں ختم ہوجائیں گئیں . وہ بھی بے اختیار رونے لگا ، بلقیس آپا ، نرجس ، برجس آگئے تھے ، سب کی آنکھیں آبدیدہ تھیں ، 
   عائشہ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا . اگلے دن فجر کے وقت لڑکی مرده پیدا ہوگئی ، منصور اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکا ، بہت رودیا جبکہ اس بری خبر سے عائشہ ہے خبر تھی ، لڑکی ہوئی عائشہ ڈاکٹر رضیہ نے اسے سرسری طور پر بتایا اور نرس کو سونپ دیا ، باہر منصور نے بچی کو لیکر مدفن کردیا ،
 بہنوں نے دلاسا دیا ماں نے بھی آکر روتے ہوئے بیٹے کو خاموش کروایا ، ساری خوشیاں ختم ہوگئی اب کچھ باقی نہ رہا ، وہ اس کمی کا ازالہ کس طرح کرپائے سونچنے لگا ـ اب میں کس منہ سے عشو کو کہوں گا ، کیا جواب دونگا ، میری عشو کے سامنے میں کس طر ح سے سامنا کر پاو نگاـ اس غلطی کی تلافی نہ ممکن ہے ـ يا الله اتنے سالوں بعد اولاد جیسی نعمت سے نوازا پھر چھین لیا ، آخر ہم سے ناراض کیوں ہے خدا ، تیری خوشنودی کی خاطر ہم نے ہر ظلم کو سہہ لیا ، اس بے چاری نے تو ہر وقت تیری عبادت تیرے بندوں کی خدمت میں خود کو مصروف رکھا ، آخر کہاں ہم سے غلطی سر زرد ہو گئی جو تو ہم سے روٹھ گیا ، اس کے دل پر ایک بوجھ سا محسوس ہونے لگا ، وه تنہا رہ نا چاه رہا تھا . اب وہ ساری گڑبڑ سے دور ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا 

 تھک سی گئی زندگی ان رشتوں کو سہتے 
جن سے مجھے کچھ حاصل نہ ہوسکا 

  تیری رفاقت سے میری حیات قائم ہے
ورنہ میں تو کبھی کہ مر چکا ہوتا
  میں ہار گیا عشو ، تم کو میں کچھ دینا سکا ۔  

 زندگی ہمیشہ سے شکایت کرتی رہی
کبھی کہنے پر اور کبھی چپ رہنے پر 

میرے خدا تو ہی بتا ، میری خطا کیا ہے
دنیا کے خداؤں نے تو ہر گھڑی سزا دی
  (  جاری ہے)۔ (  (فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ )(باقی آئندہ)
   

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]