غزل ۵



ہوکر بے قرار ہم نے دل اپنا ان کے اختیار کردیا

بغیر کسی اجرت کے انھیں سرمایہ دار کردیا

جان کر انجان بنتا گیا وہ ہر وقت ہم سے

اجنبی کے حوالے ہم نے اپنا سارا اثاثہ کردیا

کتنی فرصت سے تراشا تھا ارمان دل کو

لیکر اس ہر جائی نے دل کو ریزه ریزه کررہا


بات تو نہ کر وفا کی ہم سے رہنے دے

اب خود کو ہم نے اس جیسا بے وفا کردیا

محفل میں  نہیں تھا کیا کوئی اورتبسّم

جو تو نے دل  اس کے حوالے کردیا


(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]