وفا نہ راس آئی مجھے
اتنے سالوں کا ساتھ اچانک چھوڑنا میرے لئے کتنا مشکل اور ناممکن نظر آرہا ہے . ان کے ہاتھوں میں میرا ہاتھ ہے اور وہ ہاتھوں کی تپش مجھے بے چین و بے قرار کررہی ہے ۔ کتنی چاہتیں ، کتنی محبتیں اورکتنی سچائی تھی ہماری ازواجی زندگی میں ۔ ان کے بغیر میں نے کبھی اس زندگی کو جینا ہی نہیں سیکھا تھا . یہ زندگی کے نشیب و فراز ، یہ وقت کے اتار چڑھاؤ اور یہ حالات کے تقاضے نہ جانے مجھے کہاں سے کہاں لئیے جاتے ، پرانھوں نے میرا ہر لمحہ ساتھ دیا ، ہر گھڑی میرے لئے ایک سائبان سے بنے رہے اور اب ہائے وقت ہمیں کیوں کر جدا کرنا چاہتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتے ..... کبھی وہ تجارتی دورے پر جاتے یا کہیں میٹنگ میں شرکت کرتے تو کیسے رات گزرتی و ه بھلا کوئی کیسے جان سکتا ہے، میں تو ایسی بے چین شمع کی طرح جلتی جیسے وہ بغیر پروانے کے اداس لو لئے جل رہی ہو آنکھوں میں بے قراری کے دیئے جلائے نہ جانے کب رات سے سویرا ہو جاتا پتا ہی نہ چلتا اور پھر جب وه آجاتے تو میری اداسیاں کس طرح رات سے برات میں تبدیل ہو جاتیں یہ سب باتیں میں ان سے کیسے کہوں یہ تو نیند کی آغوش میں نہ جانے کیا سوچ رہے ہیں کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہیں ۔
آسیہ بیگم بہت ہی بے چین مضطرب نظر آرہی تھی. پھر دوباره وه خیالوں کی دنیا میں کھوسی گئی اور ان لمحات کو یاد کررہی تھی جو وہ اپنے مجازی خدا کے سنگ گزاری تھی . جہاں پر ہمیشہ سے پُر سکون زندگی اپنی ناؤ لئیے حیات کے سمندر میں ساحل کی طرف رواں دواں تھی اور جہاں پر سکراہٹوں کے چراغ اپنی دھیمی روشنی کے ساتھ ہر آنے جانے والی اور بچھڑانے والی آنہ آندھیوں میں فانوس کا کام کررہے تھے اور سجاد صاحب جو بہت بیمار اور کمزور ولاغر ہوگئے ہیں ، آسیہ بیگم کو بے بس نظروں سے دیکھ رہے ہیں . اور آسیہ بیگم جو اپنی زیست انہیں کے ساتھ باند ھے رکھی تھی، الله تعالٰی سے دعا کر رہی تھی کہ ائے پروردگار ، میرے خالق کائنات ، بھلا اس قدر چاہتیں بکھرنے والے اور محبت کے سائے دینے والے شریک حیات اب نہ رہے تو مجھے ایسی بے کار و بے بس زندگی سے کیا لینا ، وہ زیست ہی بیکار ہے جو ان کے بغیر میں جیوں ، اس لئے مجھے بھی انہیں کے ساتھ اٹھالے۔
سجاد صاحب آنکھیں کھول کر ٹکٹکی باند ھیں آسیہ کو دیکھ رہے ہیں ـ شاید وہ کچھ کہنا چاه رہے ہیں وہ ان کے قریب ہوگئی کہ میرے سرتاج ! اگر کچھ کہہ دیں اور مجھے سنائی نہ دے تو یہ میرے لئے کتنی بد نصیبی ہوگی ۔ باہر بچوں کا شور شرابا بر پا ہے ، گھر میں ہر طرف چہل پہل ہے تمام بچے پر دیس سے چلے جو آے ، اپنے ابو کی بیماری کی خبر سن کر تمام کے تمام اکٹھا ہوگئے معہ اہل و عیال مجھے تو ان تمام سے ذرا سی بھی دلچسپی نہیں رہی ، بس میں سورة یاسین اور نہ جانے کون کونسی سورتیں پڑھ کر ان پر دم کررہی ہوں ، شائد کچھ افاقہ ہو جائے.
اچانک ان کے ہاتھوں نے میرے ہاتھوں کو تھوڑا اور دبوچ لیا ، میں اور قریب آگئ . آپ کو کچھ چاہیۓ ؟ " نہیں " تو پھر کیا بات ہے ، بتائے نا آپ کچھ بے چین نظر آرہے ہیں
ہاں بیگم ! آپ نے صحیح پہچانا، میں اس وقت بہت بے چین وبے قرار ہوں . سجاد صاحب ٹھنڈی آہ بھرکر کہنے لگے کہیے کیا بات ہے ؟ کسی کو بلاؤں طبیب کے پاس جا ئیں گے ۔ نہیں نہیں ، اس کی کوئی ضرورت نہیں . ، اچھا ٹھیک ہے آپ گاؤ تکیہ سے ٹیک لگاکر تو بیٹھے ، شائد کچھ سکون محسوس ہو ۔ ہاں آسیہ نے بغیر کسی کی مدد کے اپنے شوہر کو ٹیک لگا کر بٹھا دیا ، اُس کے بعد سجاد صاحب نے دھیرے سے کہنا شروع کیا :
آسیہ ! میں آج آپ سے ایک راز شئیر کرنا چاہتا ہوں ۔ ہاں ہاں کہے ناں کیا بات ہے ؟ آسیہ اور قریب ہو گئی اور اپنے شوہر کو بغور دیکھنے لگی آسیہ آپ کو شائد میری بات ناگوار گزرے ، خدارا مجھ سے خفا مت ہونا . ارے آپ کیسی باتیں کررہے ہیں ، بھلا میں نے کبھی آپ کی باتوں سے خفگی کا ظاہر کی ہے . مگر آج ایسا مت کرنا آسیہ، اگر غلط ہے تو مجھے معاف بھی کردینا اور آسیہ کبھی اپنے دل میں میرے لئے کوئی بد گمانی متلانا. دیکھئے آپ مجھے شرمنده کررہے ہیں ، آسیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ ایسی کونسی بات ہے جسکو لے کر سجاد صاحب اتنا بے چین ہورہے ہیں آسیہ دوباره گویا ہوئی آپ ! بالکل مطمئن ہوکر مجھے پوری بات تو بتائے ، آپ بھلا اتنا کیوں پریشان ہورہے ہیں ـ آسیہ نے حوصلہ افزائ کی ، سجاد صاحب نے کہا : ہاں آسیہ پریشانی کی بات ہے مگر مجھے آپ سے پوری امید ہے کہ آپ مجھے معاف بھی کردیں گی اور بات کو آگے سنبھال بھی لیں گی ، یہی امید کے ساتھ شائد میری سانس ابھی تک چل رہی ہے ورنہ کبھی کہ میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرجاتا آسیہ رونے لگی اور بہت ہی غمگین نگاہوں سے اپنے خاوند کو تکنے لگی . ، پھر کہنے لگی جیسی اُمید آپ مجھ سے باندھ رہے ہیں میں اس کا بھرم رکھ لوں گی ، مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے کہ آپ مجھے یا اپنے آپ کو شرمنده کرنے والا کوئی کام نہیں کیا . سجاد صاحب نے اپنی وفا شعار اور نیک بیوی کو اس بھری نظروں سے دیکھتے ہوے کہا .
آسیہ آپ اتنی بھولی اور معصوم اور نیک ہیں کہ آپ کے ساتھ کوئی بھی انسان دھوکہ اور فریب آسانی سے کرسکتا ہے . میں بھی وہ بد نصیب آدمی ہوں جس کو اللہ نے اتنى نیک اور دین دار بیوی عطا کرنے کے باوجود قدر نہ کرسکا ۔ اور اسکی نیکی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر آج گنا ہوں کی چوکھٹ پر کھڑا ہوں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آسیہ کو فکر سی ہونے لگی . بھلا سجاد ظہیر سے اس طرح کی باتیں وہ کیسے سن سکتی تھی جو انسان ہمیشہ زندگی کو فتح کرکے آگے چلا تھا، آج شکست کی دم پر سانسوں کو میری وفا سے جوڑ کر مجھے سرخرو کرنا کیوں چاه رہا ہے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سجاد ظہیر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اپنی بیوی کی ہتھیلیوں پر اپنا چہره رکھ کر رونے لگے ۔ سسکیوں کے درمیان انھوں نے اپنی مہربان بیوی کو بتانا شروع کیا : آسیہ آپ کی ایک " سوت " بھی ہے ہاں آسیہ میں نے آپ کے ساتھ بہت بڑا دھوکا کیا اور بڑی ہے وفائی کی
آسیہ یہ راز شائد آج بھی میری زبان پر نہ آتا لیکن میری زندگی اجل کی طرف دوڑ رہی ہے اور منزل لافانی میرا انتظار کررہی ہے اس لئے شائد میں نے راز فاش کرنا مناسب سمجھا، آج اگر نہ بتایا تو میری روح بے چین اور بے قرار رہے گی ۔ .
مجھے معلوم ہے آسیہ آپ میری اس بھول کو دل سے معاف کردیں گی مگر آسیہ اس غلطی میں آپ بھی کچھ حد تک شریک ہیں . ہو چھو وہ کیسے ؟ ٹھیک ہے آسیہ میں ہی بتاؤں گا . اب دیکھوں ناں آپ کبھی مجھ پر ذرا سا بھی اپنا حق نہیں جتلاتیں ، ناہی کبھی شک کی نگاہ سے دیکھتیں اور تو اور میری ہر بات کو بلا چوں وچراں مان لیتیں اور مجھ سے اس قدر وفاداری نبھائی کہ مجھے کبھی کبھار تو آپ سے گھن سی ہونے لگی اور میں چاہتا تھا کہ آپ کبھی مجھ سے ناراض ہو جائیں اور کبھی میری باتوں سے خفگی کا اظہار کریں اور مجھ سے بھی کوئی خدمت کروائیں اور میں تمھارا شریک حیات بننا چاہتا تھا اور آپ مجھے آقا بنابیٹھیں اور خود خادمہ، باندی، اور لونڈی کی طرح میری خدمت میں ہمیشہ دل وجان سے لگی رہیں ہاں آسیہ ! اگر آپ میرے لا ئے ہوئے تحائف ناپسند کرتیں ، میری بات نہیں مانتیں تو شائد مجھے آپ شریک حیات نظر آتیں، آپ ایسا سب نہیں کرنے کی وجہ سے شاند میرا دل " ہاجرہ " کی طرف مائل ہوگیا ، وہ ہر وقت اپنی اداؤں ، بناوٹی ناراضگى اور ہنسی و دلکشی سے اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں رہتی اور میری موجودگی پر ہمیشہ وہ میری ہی توجہ کا مرکز بنی رہتی اور میں بھی شائد یہی چاه رہا تھا اس لئے ہاجرہ کی طرف مائل ہونے لگا
وہ جب کبھی آپ کے پاس آتی تو بس میرا دل اچھل کر حلق میں آنے کو ره جاتا اور وه بھی آہستہ آہستہ میری طرف خاموش نگاہوں سے یہی سوال کرتی کہ سجاد صاحب زندگی یہ نہیں کہ ایک خاموش سمندر کی طرح بہتے چلے جاؤ بلکہ دل کے سمندر میں بھی طوفان اور ضرورت پڑھنے پر سونامی بھی لانا ضروری ہے ورنہ اس زندگی کو جینے کا کیا مقصد آؤ میں آپ کو زندگی کی رعنائیوں میں لئیے چلتی ہوں ، آپ کی خواہشات اور آرزوں کو پورا کرنے میں مدد کرتی ہوں .
دیکھو آسیہ آپ اور ہاجرہ دونوں بہت ہی قریبی دوست ہیں مگر دونوں کے خیالات میں کتنا فرق ہے . حالانکہ وہ شادی شده تھی اور اپنے شوہر کو حادثے میں کھو دینے کا غم ہونا چاہیے تھا مگر ہاجرہ کو تو زندگی سے کچھ اور حاصل کرنا تھا شا ئد اس لئے وہ میرے قریب آگئی اور تم سے زیاده وه مجھے جیت کر اپنی محبت کی حسین وادیوں میں لے گئی . مجھے اس کی گود میں دنیا بھر کا سکون محسوس ہونے لگا آپ کو الله تعالٰی نے اچھی خاصی زندگی دینے کے باوجود بھی آپ ہمیشہ ایک قیدی اور قفس میں بند پرندے کی طرح زندگی گزارہی تھیں ہاں آسیہ ! یہیوجہ ہے شائد جس نے مجھے آپ سے بے وفائی کرنے پر مجبور کردیا. آپ کی وفاداری سے زیاده مجھے باجره کی بے وفائی پسند آگئی اور میں نے یہ قدم اٹھایا مگر میں جائز طریقے سے ہاجرہ سے جڑا رہا ، اُس نے ہر وقت مجھے آپ سے اس راز کو بتانے کے لئے کہا مگر میں نے ہی کبھی ہمت نہیں کی اب تو خیر میرا وقت قریب آگیا ، اس لئے یہ تمام باتیں میں آپ سے کہہ پارہا ہوں اور ساتھ میں معافی کا طلبگار بھی ہوں، آگے آپ کی مرضی ہے آسیہ ...... سجاد ظہیر کا چہرہ آسیہ کے ہاتھوں میں تھا اور وه انتظار کررہے تھے . تمام احوال سے واقف ہونے کے بعد ان کی بیوی انھیں معاف کردے گی یا پھر ان پر برس پڑے گی ۔
آہ کاش ! کچھ ایسا ہی ہوتا کہ وہ معاف کرپاتیں لیکن وہ تو اسی وقت اپنے حقیقی خدا سے جاملی جس وقت انھیں معلوم ہوا کہ ان کا مجازی خدا اپنی بے وفائی میں چھپی وفا کے چرچے کررہا تھا ، آخر کار مجازی خدا، مجازی ہی نکلا
کچھ ہی دیر میں گھر میں کہرام مچ گیا امی اٹھیے امی کچھ تو بولیے، آسیہ کے بچے اُس کی خاموشی پر زاروقطار رونے لگے .لیکن آسیہ کی چپ اب کبھی منہ کھولنے والی نہ تھی ، وہ حقیقی خدا سے شکایت کرنے کسی کو کچھ بتائے بغیر جاچکی تھی۔ بچے ماں کی موت پر حیران و پریشان تھے کہ ابو کی طبیعت پر شک تھا مگر یہ کیا امی تو اچھی خاصی تھیں اچانک انہیں کیا ہو گیا جو وه موت کا شکار ہوگئیں اور سجاد ظہیر جو اپنی بے وفائی کی کہانی نہایت ہی بہترین انداز میں وفا کے سانچے میں ڈھال کر آسیہ کو پیش کئے تھے ، اپنی جگہ سے اٹھ بھی نہ پارہے تھے یہاں تک کہ ان کے جسم میں اب اتنی بھی طاقت باقی نہ رہی کہ وہ اپنی وفا شعار بيوى کو قریب سے دیکھ سکیں ، وہ تو اسی سونچ میں غرق تھے کہ زندگی کو آخر کس نے جیتا ؟ آسیہ نے ، میں نے ، یا پھر ہاجرہ نے ؟ اس کا فیصلہ تو وقت ہی بتائےگا جو آخرت میں تینوں کے ہاتھوں میں اپنا اپنا نامہ اعمال دے گا .اس وقت کون شرمنده رہےگا اور کون اپنی جيت پر خوش ہوگا پتا نہیں .....
کاش آسیہ مجھے معاف کر جاتی .......
( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد)
