غزل ٧



دور سے دیکھا تو ایک چمک نظر آتی ہے

زندگی حقیقت میں کچھ اور نظر آتی ہے

غم اور خوشی کے اس میل ملاپ میں

کشمش حیات ساری کٹتی نظر آتی ہے

کون جانے کب ہوگا احستاب یہاں

اسی انتظار میں آنکھ تکتی نظر آتی ہے

جس کے جو ہاتھ لگا وه سب لے گیا

یہاں تو ہر طرف چور بازاری نظر آتی ہے

اپنے اعمال کو رکھنا سنبھال کر اےتبسم

دنیا چاروں اُور سے ماده پرست نظر آتی
( فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد)

 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]