غزل ٦



 جذبوں میں پہلی جیسی طمانیت کہاں

محبت میں وہ پہلی سی خوشبو کہاں

خار کی صحبت سے خوش تھے گل
گلشن میں اب وہ پہلا ساخلوص کہاں

دستور کی بات بہت کرتے رہے مگر
کسی دستور کو نبھایا سبھی نے کہاں

وہ جو دور سے پاس رہتے ہیں ہمارے
ان تک دل بے قرار کی اب رسائی کہاں

تاروں سے باتیں کرنا اچھی عادت ہوئی ہماری
ورنہ یوں ہر روز ملاقات ممکن ان سے کہاں

دور کہیں گلے ملتا ہے آسمان زمین سے دیکھو
ایسےدھو کے  آنکھوں کو حقیقت میں کہاں

بن کہے بہت کچھ کہہ دیتی ہیں آنکھیں تبسّم
لفظوں میں تا ثیر اس جیسی ہمارے کہاں

(فہمیدہ تبسّم ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]