غزل ۳



سچ کو ہم نے جھوٹ میں بدلا ہے

ورنہ جھوٹ کو سچ میں بدلتے دیکھا ہے


بات تو نہ کر دھوکے کی مجھ سے

تجھسے زياده میں نے دیکھا ہے


جو جیسا ہے ویسا ہی رہنے دیں

اپنی تقدیر کو دوعاؤں سے بدلتے دیکھا ہے


جو گزر گے وہ دن اک اندھیرا ہی مگر

لگن اور وفا سے  اجالوں کو  دیکھا ہے


ملاقاتیں ہوں یا نہ ہو دوبارہ اے تبسّم

تیرے دل میں اسکا مقام دیکھا ہے 

فہمیدہ تبسّم( ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ) 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]