غزل ۴



 راہوں میں وفا کے ملتے کون ہیں

مل بھی جانیں تو ٹھہرتے کون ہیں


جنکی ضرورت ہوتی ہے مسافر دل کو

ایسی منزلیں چاہت کی اب کہاں ہیں


قدر نہ جانی ان کانٹوں کی ہم نے

جن کے پھول بھی رکھوالی ہیں


کبھی اس راہ سے گزر ہوا تو آجانا

تکتی دو آنکھیں انتظار میں ہیں


بہت سوچ کر قدم رکھنا تبسم

اس راہ میں پھول کم کانٹے بہت ہیں 

فہمیدہ تبسّم( ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ)

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]