غزل ۲



بے خودی میں جو اُدھر نکلے لوٹنا ہے مشکل

دل کے دریچوں کو کھول کر بند کرنا ہے مشکل


لمحے جو بیت گئے خوش گوار یادوں کے

ان لمحوں کو دوبارہ بلانا ہے مشکل


ایک آس ایک اُمید ایک آرزو ہی سہی

دل کی اضطراری کو سامنے لانا ہے مشکل


رب کی مرضی کے آگے سر خم میرا

یہ پیغام اس تک پہنچا نا ہے مشکل


فاصلوں کو اچھا تو نےجو قائم رکھا ہے تبسّم

اس کے احساس کو دل سے مٹانا ہےمشکل


✍️ فہمیدہ تبسّم (ریسرچ اسکالر جامعہ عثمانیہ) 

Popular Posts

نساء

‎ ‎غزل ‏ ‏١٠

رباعیات ‏ ‏[امجد حیدر آبادی]