سب مل کر آؤ کچھ کام کریں گے
محمد ﷺکا نام ہر کام عام کریں گے
نہ بیر نہ ریاکاری ہوگی جس میں
اس طرح سے ہم ہر کام کریں گے
پہلے کام ایسا کریں گے ہر طرف سب
مسجد کو نجات و جمشید جام کریں گے
بعد اس کے جو ہونا ہے وہ مصمم ہے
سنتﷺ کو گلی،گلی ڈگر ڈگرعام کریں گے
محمد کو تھی جو نفرت ہر وقت ہر دم
ہرگز بھی ایسا کام نہ سر عام کریں گے
باتوں میں جس کی خوشبو تھی
نبیﷺ کے وہ طریقے کار بام کریں گے
دی دعا جس نے نفرت کے جواب میں
امتی ان کے ہم ،باطل کو ناکام کریں گے
آگیا دور پھر عرب کی ظلمت جیسا تبسم
دنیا میں چلو ہر سو سنت رسولﷺ عام کریں گے
✍️ فہمیدہ تبسّم